بشارالاسد کو سیاسی پناہ مل گئی لیکن کس ملک میں؟ بڑی خبر آگئی

بشار الاسد کی سیاسی پناہ
ماسکو (ڈیلی پاکستان آن لائن) روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ شام کے سابق صدر بشار الاسد ماسکو میں ہیں اور انہوں نے سیاسی پناہ حاصل کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرین کا روس پر برطانوی ساختہ میزائل حملہ: سٹارم شیڈو میزائل کیا ہے اور یہ یوکرین کے لیے کیوں اہم ہے؟
انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ
روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ بشار الاسد اور ان کے خاندان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ دی گئی۔ جب نومبر کے آخر میں بغاوت کا آغاز ہوا تو یہ خبریں سامنے آئیں کہ بشار الاسد اور ان کا خاندان روس فرار ہو گیا اور انہوں نے ماسکو سے عسکری مدد کی درخواست کی۔ لیکن اس وقت روس نے ان خبروں کی تصدیق یا تردید نہیں کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں زراعت کے لیے کون سی جدید ترین ٹیکنالوجیاں استعمال کی جاتی ہیں؟ وہ ویڈیو جو ہمارے کسانوں کو ضرور دیکھنی چاہیے
ہوائی اڈے سے انخلاء
الجزیرہ ٹی وی کے مطابق مختلف ذرائع، بشمول بی بی سی کی روسی سروس، نے یہ رپورٹ کیا ہے کہ بشار الاسد کو ممکنہ طور پر روسی ہوائی اڈے لاذقیہ سے ایک روسی طیارے کے ذریعے نکالا گیا جو چند گھنٹے پہلے اپنے ٹرانسپونڈرز بند کر کے پرواز کر گیا تھا۔ روسی حکام اس وقت شامی مسلح اپوزیشن کے نمائندوں سے رابطے میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عادل بازئی نااہلی کے بعد این اے 262 کوئٹہ کے ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری
اپوزیشن سے مذاکرات
کریملن کے ایک ذریعے کے مطابق، اپوزیشن نے لاذقیہ اور طرطوس میں روسی اڈوں کے ساتھ ساتھ شام میں روسی سفارتی مشنز کی سلامتی کی ضمانت دی ہے۔ یہ بھی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ روسی حکام اقوام متحدہ کی نگرانی میں شام میں مذاکرات دوبارہ شروع کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
طیارے کی گمشدگی کا معاملہ
خیال رہے کہ اس سے قبل برطانوی میڈیا نے یہ خبر دی تھی کہ بشار الاسد کا طیارہ اچانک ریڈار سے غائب ہوگیا۔ اس کے بعد یہ خدشات ظاہر کیے گئے کہ شاید اس طیارے کو گرا نہ دیا گیا ہو لیکن اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ بشار الاسد روس میں سیاسی پناہ حاصل کرچکے ہیں۔