ایران نیوکلیئر پابندی کی حد عبور کر سکتا ہے: امریکی دعویٰ
امریکا کی نئی رپورٹ کا خاکہ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق امریکا کی ایک تازہ ترین رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کے اندازوں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے نئے حملوں یا مغرب کی اضافی پابندیوں کا جواب تہران نیوکلیئر پابندی کی حد عبور کرنے کے مزید قریب جانے کی صورت میں دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کا اجلاس آغاز کے چند منٹ بعد ہی کورم ٹوٹنے پر ملتوی کر دیا گیا
نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری کا ارادہ
نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے دفتر سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ تہران کا فی الحال نیوکلیئر ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں ہے لیکن اس کی سرگرمیاں اس نوعیت کی ہیں کہ اگر وہ چاہے تو وہ ایسا کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جی ایچ کیو حملہ کیس: عمران خان اور دیگر پر فرد جرم 19 اکتوبر کو عائد ہوگی
پروگرام کی ترقی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جولائی کے بعد سے ایران نے اپنے یورینیم کے 20 فی صد اور 60 فی صد افزودہ ذخائر میں اضافہ جاری رکھا ہوا ہے اور وہ جدید سینٹری فیوجز بڑی تعداد میں بنا بھی رہا ہے اور انھیں استعمال بھی کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاکر سجل ملک کی مبینہ ’متنازعہ‘ ویڈیو لیک ہوگئی
عوامی بیان بازی میں اضافہ
امریکی انٹیلی جنس کے جائزے میں خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اب ایرانی حکام نیوکلیئر ہتھیاروں کی افادیت پر عوامی سطح پر زیادہ بات کرنے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مہنگائی، بدامنی اور معاشی بدانتظامی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، سراج الحق
زیر زمین نیوکلیئر تنصیبات
رپورٹ کے مطابق تہران کے پاس متعدد زیر زمین نیوکلیئر تنصیبات ہیں جن میں فوری طور پر نیوکلیئر ہتھیار بنانے کی سطح کا افزودہ یورینیم تیار کرنے کا بنیادی ڈھانچہ اور تجربہ موجود ہے۔ اگر وہ چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں۔
خطرات کا مقابلہ
رپورٹ کے مطابق ایرانی رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ نیوکلیئر ہتھیار بنانے سے خطرات کا مقابلہ کرنے کی ساکھ بڑھ جاتی ہے۔








