اغوا برائے تاوان کیس،7 پولیس اہلکاروں کی تنخواہ بند، گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم
پشاور میں عدالت کا فیصلہ
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) اغوا برائے تاوان کے کیس میں عدالت نے 7 پولیس اہل کاروں کی تنخواہ بند اور انہیں گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے لیکن وہ غصے میں تھے کہہ رہے تھے کہ ہمیں ذہنی اذیت دی جارہی ہے، ڈاکٹر عظمیٰ خان
پولیس اہلکاروں کے وارنٹ گرفتاری
انسداد دہشتگردی عدالت پشاور میں دہشت گردی اور اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں نامزد استغاثہ گواہان پولیس افسران کی عدم پیشی پر عدالت نے 2 ایس ایچ اوز سمیت 7 پولیس اہلکاروں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
یہ بھی پڑھیں: رانا شمشاد احمد صدر راوین سٹوڈنٹس یونین منتخب ہوئے، امریکہ میں سفیر اور سیکرٹری خارجہ تعینات ہوئے، دانشور حلقوں میں انکی رائے کا بڑا احترام کیا جاتا ہے۔
تنخواہوں کی بندش کا حکم
عدالت نے ساتوں پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں بھی بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایس پی رورل، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو بھی 174 پی پی سی کے تحت نوٹس جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں بس گہری کھائی میں جاگری، 8 افراد ہلاک، متعدد زخمی
عدالت کی وضاحت طلبی
عدالت نے حکم دیا کہ ایس پی رول اور دیگر افسران پیش ہوں اور وضاحت کریں کہ کیوں عدالتی احکامات کی تعمیل نہیں ہو رہی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی کو ہرجانہ کیس میں 10 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم
استغاثہ گواہان کی عدم پیشی
دوران سماعت پراسیکیوشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ایس ایچ او عبد العلی، عمران الدین سمیت دیگر استغاثہ کے گواہان عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ عدالت نے مذکورہ گواہان کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
مزید سماعت کا حکم
عدالت نے مذکورہ استغاثہ گواہان کی تنخواہیں بھی بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا اور مزید سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کردی۔








