حکومت نے دینی مدارس کی رجسٹریشن بل کا مسودہ جے یو آئی کو دے دیا

حکومت کی مدارس کی رجسٹریشن بل کی تیاری

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )حکومت نے دینی مدارس کی رجسٹریشن بل کا مسودہ جے یو آئی کو دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: پولیس نے سکول کے باہر ڈیرے ڈالنے والے نشئیوں کو پکڑ کر گنجا کردیا

کامران مرتضیٰ کا بیان

جمعیت علما اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ مسودہ مولانا فضل الرحمن کے سامنے رکھیں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مدارس کی رجسٹریشن اسلام آباد کی حد تک ہوگی، صوبوں کے متعلق قانون سازی وفاقی حکومت نہیں کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان فٹبال فیڈریشن کے چیئرمین ہارون ملک کی فیفا غیر معمولی کانگریس میں شرکت

مدارس کی آزادی اور خود مختاری

کامران مرتضیٰ نے کہا، "ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ مدارس کو سوسائٹیز رجسٹریشن کے تحت رجسٹرڈ ہونا چاہئے۔" ان کے مطابق اس سے مدارس کی آزادی اور خود مختاری برقرار رہے گی اور حکومت کا کنٹرول بھی رہے گا، مگر وہ نصاب اور دیگر معاملات میں آزاد ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ایڈز کے خلاف قومی حکمت عملی کو مزید موثر بنانے کے لیے پر عزم ہیں: وزیراعظم

مدارس کا ریکارڈ منظم کرنا

کامران مرتضیٰ نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں بہت سے مدارس ہیں جن کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے، لہٰذا بل کی منظوری کے بعد ملک بھر کے تمام مدارس سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل کے تحت رجسٹرڈ ہو جائیں گے۔ اس سے معلوم ہو سکے گا کہ مدرسہ کہاں ہے اور آیا وہ چل رہا ہے یا بند ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سٹیڈیم کے قریب بجلی گرنے کا واقعہ ، پاکستان اور جنوبی افریقہ کا تیسرا ٹی ٹوئنٹی میچ تاخیر کا شکار

نصاب کی پابندی اور آڈٹ کے عمل

انہوں نے مزید کہا کہ بل کی منظوری کے بعد مدارس کا آڈٹ کیا جا سکے گا اور انہیں ایسے نصاب کے پابند کیا جائے گا جس سے نفرت، انتشار یا فرقہ واریت کو فروغ نہ ملے۔

یہ بھی پڑھیں: پیر محل: 17 سالہ لڑکی سرجری کے ذریعے لڑکا بن گئی

علما کی طرف سے خوش آئند اقدام

کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ اس بل کے ذریعے ہم نے خود کو قانونی دائرے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور علما کی بڑی تعداد نے اپنے مدارس کو رجسٹریشن کے لئے پیش کیا ہے، جو ایک خوش آئند امر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں اضافہ ہوگیا

وفاقی وزیر اطلاعات کے خیالات

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن کا بل قانونی پیچیدگیوں کے باعث ایکٹ نہیں بن سکا ہے۔ 2018 میں بھی تمام مدارس کو علما کی مشاورت سے قومی دھارے میں لانے کی کوشش کی گئی تھی۔

ملکی جامعات اور دینی مدارس

عطا تارڑ نے مزید کہا کہ ملک کی تمام جامعات وفاقی وزارت تعلیم سے وابستہ ہیں، دینی مدارس کے لئے بھی ایسا ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ مدارس کی رجسٹریشن بل کی منظوری کے بعد جو بھی مدرسے سے فارغ ہوگا، اسے ہر شعبہ زندگی میں تمام مواقع میسر آئیں گے۔

Categories: قومی

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...