حکومت نے دینی مدارس کی رجسٹریشن بل کا مسودہ جے یو آئی کو دے دیا

حکومت کی مدارس کی رجسٹریشن بل کی تیاری

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )حکومت نے دینی مدارس کی رجسٹریشن بل کا مسودہ جے یو آئی کو دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کا پہلا اجلاس، وزیر اعلیٰ کا میرٹ یقینی بنانے کا حکم

کامران مرتضیٰ کا بیان

جمعیت علما اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ مسودہ مولانا فضل الرحمن کے سامنے رکھیں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مدارس کی رجسٹریشن اسلام آباد کی حد تک ہوگی، صوبوں کے متعلق قانون سازی وفاقی حکومت نہیں کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے علیمہ خان کو پارٹی معاملات میں مداخلت سے روک دیا، اے آر وائی نیوز کا دعویٰ

مدارس کی آزادی اور خود مختاری

کامران مرتضیٰ نے کہا، "ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ مدارس کو سوسائٹیز رجسٹریشن کے تحت رجسٹرڈ ہونا چاہئے۔" ان کے مطابق اس سے مدارس کی آزادی اور خود مختاری برقرار رہے گی اور حکومت کا کنٹرول بھی رہے گا، مگر وہ نصاب اور دیگر معاملات میں آزاد ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کرکٹ بورڈ کا ایچ بی ایل پی ایس ایل کا لندن روڈ شو کروانے کا فیصلہ

مدارس کا ریکارڈ منظم کرنا

کامران مرتضیٰ نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں بہت سے مدارس ہیں جن کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے، لہٰذا بل کی منظوری کے بعد ملک بھر کے تمام مدارس سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل کے تحت رجسٹرڈ ہو جائیں گے۔ اس سے معلوم ہو سکے گا کہ مدرسہ کہاں ہے اور آیا وہ چل رہا ہے یا بند ہے۔

یہ بھی پڑھیں: زلزلے کی تباہی: انسانی المیے اور خیمہ بستیاں

نصاب کی پابندی اور آڈٹ کے عمل

انہوں نے مزید کہا کہ بل کی منظوری کے بعد مدارس کا آڈٹ کیا جا سکے گا اور انہیں ایسے نصاب کے پابند کیا جائے گا جس سے نفرت، انتشار یا فرقہ واریت کو فروغ نہ ملے۔

یہ بھی پڑھیں: کینیڈا سے شراکت داری کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں: چینی وزارتِ خارجہ

علما کی طرف سے خوش آئند اقدام

کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ اس بل کے ذریعے ہم نے خود کو قانونی دائرے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور علما کی بڑی تعداد نے اپنے مدارس کو رجسٹریشن کے لئے پیش کیا ہے، جو ایک خوش آئند امر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ (ن) سعودی عرب کے زیرِ اہتمام چوہدری شہباز حسین مرحوم کے لیے تعزیتی نشست، سیاسی و سماجی شخصیات کی بھرپور شرکت

وفاقی وزیر اطلاعات کے خیالات

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن کا بل قانونی پیچیدگیوں کے باعث ایکٹ نہیں بن سکا ہے۔ 2018 میں بھی تمام مدارس کو علما کی مشاورت سے قومی دھارے میں لانے کی کوشش کی گئی تھی۔

ملکی جامعات اور دینی مدارس

عطا تارڑ نے مزید کہا کہ ملک کی تمام جامعات وفاقی وزارت تعلیم سے وابستہ ہیں، دینی مدارس کے لئے بھی ایسا ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ مدارس کی رجسٹریشن بل کی منظوری کے بعد جو بھی مدرسے سے فارغ ہوگا، اسے ہر شعبہ زندگی میں تمام مواقع میسر آئیں گے۔

Categories: قومی

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...