سیاسی زلزلے آ رہے ہیں، نوبت سول نافرمانی کی کال تک کیوں پہنچی، سوال لاشیں ملنے کا نہیں عوام میں غم وغصے کا ہے، گیم کا ٹیمپو سلو کون کرے گا۔۔؟
دنیا میں سیاسی زلزلے
دنیا بھر میں "سیاسی زلزلے" آ رہے ہیں، ریکٹرسکیل پر شدت حیران کن، گہرائی اقتدار کے ایوانوں کو ہلا رہی ہے۔ بڑے بڑے برج الٹ چکے ہیں۔ افغانستان، امریکہ، بنگلہ دیش اور اب شام میں "سیاسی زلزلے" نے ہلاکر رکھ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا افغانستان کے زلزلہ متاثرین کے لیے مزید 1000 خیمے اور ادویات بھیجنے کا اعلان
مشرق وسطیٰ میں تبدیلی کی پیشگوئیاں
مشرق وسطیٰ میں فوجی اور سیاسی توازن میں بڑی تبدیلی کی پیشگوئیاں کی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں بھی ہلکے "جھٹکے" محسوس کیے جا رہے ہیں۔ دعا کریں "آفٹر شاکس" نہ آئیں اور زیادہ نقصان نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: وینا ملک کی انسٹاگرام بائیو تبدیل، خود کو شہریار کی بندی قرار دیدیا
سیاسی بادشاہت کے خلاف نفرت
"سیاسی بادشاہت" کے خلاف نفرت جنم لے چکی ہے۔ دعا کریں اس کی عمر میں اضافہ نہ ہو۔ سوالات کا سلسلہ تھما نہیں، جاری ہے۔۔۔ دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے دریائے جہلم میں بھی پانی چھوڑ دیا
عوام کا غم اور غصہ
سوال لاشیں ملنے کا نہیں، غم وغصے کا ہے، اور وہ عوام میں ہے۔ اس کا ثبوت نہ مانگ بیٹھیے گا۔ اس غم وغصے کو کسی ہسپتال کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں سونا سستا، پاکستان میں صورتحال کیا رہی؟ جانیے۔
سیاسی زلزلوں کے اثرات
کھلاڑی کا بلا رنز اُگل رہا ہو تو سمجھ دار ی اسی میں ہوتی ہے کہ "گیم کا ٹیمپو سلو" کیا جائے۔ "سیاسی زلزلوں" اور تخت الٹنے کا موسم ہے۔ عوام کی گھن گرج بڑھتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیسٹ چیمپئن کے فائنل میں آسٹریلیا کے بلے باز سٹیو سمتھ نے بڑا ریکارڈ بنا ڈالا
آخری کال اور سول نافرمانی
بات "فائنل کال" سے "سول نافرمانی کی کال" تک جا پہنچی ہے۔ جواب میں کہا جا رہا ہے "تمہاری نافرمانی کی ایسی کی تیسی"۔
یہ بھی پڑھیں: انڈین آرمی چیف آدھا پنجاب جنگِ ستمبر میں پاکستان کے حوالے کرنے کو تیار ہو چکا تھا جس میں سکھوں کا مقدس ترین گولڈن ٹیمپل اور امرتسر شہر بھی شامل تھا۔
انتشار کا مقابلہ
جہاں بھی انتشار ہوگا ہم اس کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ جھوٹا بیانیہ بنایا جا رہا ہے۔ لاشوں کی سیاست کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ججز کے استعفے کئی حوالوں سے غیر آئینی اقدامات کہے جا سکتے ہیں، وزیر مملکت برائے قانون
معاشرتی مایوسی
ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر نے لکھا تھا کہ "ندامت، پشیمانی اور فکرمندی شاید سب سے زیادہ عام عناصر ہیں جن کے باعث ایک معاشرہ مایوسی، افسردگی اور بے چینی و پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے"۔
یہ بھی پڑھیں: مریم پنجاب کے ہسپتالوں کی تعریفیں کرتی نہیں تھکتیں، اپنا علاج باہر سے کراتی ہیں: بیرسٹر سیف
سیاسی سطح پر عاجزی کی کمی
ابھی بھی ایک دوسرے کی "ایسی کی تیسی" پھیرنے والے بیانات داغے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر "گندکی ٹریفک" یکطرفہ نہیں دوطرفہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بینظیر بھٹو نے جمہوریت، عوامی حقوق اور وفاق کے استحکام کیلیے بے مثال جدوجہد کی: وزیر اعظم
مطمئن بے وقوف
مشہور مقولہ یاد آ گیا کہ "بہادر مارے جاتے ہیں، ذہین پاگل ہو جاتے ہیں اور دنیا مطمئن بیوقوفوں سے بھری رہتی ہے"۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ دروازے پر آچکی، روس کا اگلا ہدف یورپ، ہمیں تیار رہنا ہوگا، نیٹو چیف
نوجوانوں کا شعور
عوام میں دھیرے دھیرے سیاسی شعور آ رہا ہے۔ آج کا نوجوان بہت کچھ جانتا ہے، بولتا ہے، اس کی نظر میں شعور دینا بغاوت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مشکل گھڑی میں کسی کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے، گورنر سندھ کا 5 ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو دینے کا اعلان
سوالات کے بہاؤ میں
آج کی نسل سوالات کے "بہاؤ" میں یہ بھی پوچھتی ہے کہ ہر کوئی یہ کیوں کہتا ہے کہ ہم "بقاء" کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: والدہ کی خواہش پر دولہا ہیلی کاپٹر میں دلہن گھر لے کر پہنچ گیا
سیاسی تناؤ اور مستقبل
مہینے اکتوبر کا تھا سن 2020ء تھا، مقدمے میں 3 سیاسی رہنما بری ہو چکے ہیں۔ اس بار مقدموں کا نتیجہ کیا نکلے گا؟
خلاصہ
عوام کس تکلیف سے دوچار ہیں اس کا اندازہ لگانا ہے تو نمائندگی کے دعویداروں کو "عوامی سمندر" میں چھلانگ لگانی پڑے گی، تیرنا آتا ہو گا تو بچ جائیں گے ورنہ اللہ حافظ۔
نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں








