سیاسی زلزلے آ رہے ہیں، نوبت سول نافرمانی کی کال تک کیوں پہنچی، سوال لاشیں ملنے کا نہیں عوام میں غم وغصے کا ہے، گیم کا ٹیمپو سلو کون کرے گا۔۔؟
دنیا میں سیاسی زلزلے
دنیا بھر میں "سیاسی زلزلے" آ رہے ہیں، ریکٹرسکیل پر شدت حیران کن، گہرائی اقتدار کے ایوانوں کو ہلا رہی ہے۔ بڑے بڑے برج الٹ چکے ہیں۔ افغانستان، امریکہ، بنگلہ دیش اور اب شام میں "سیاسی زلزلے" نے ہلاکر رکھ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: این اے 48 سے پی ٹی آئی امیدوار علی بخاری کی درخواست پر حکم امتناعی جاری
مشرق وسطیٰ میں تبدیلی کی پیشگوئیاں
مشرق وسطیٰ میں فوجی اور سیاسی توازن میں بڑی تبدیلی کی پیشگوئیاں کی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں بھی ہلکے "جھٹکے" محسوس کیے جا رہے ہیں۔ دعا کریں "آفٹر شاکس" نہ آئیں اور زیادہ نقصان نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی فائنل کال فلاپ ہوگئی ،عظمیٰ بخاری
سیاسی بادشاہت کے خلاف نفرت
"سیاسی بادشاہت" کے خلاف نفرت جنم لے چکی ہے۔ دعا کریں اس کی عمر میں اضافہ نہ ہو۔ سوالات کا سلسلہ تھما نہیں، جاری ہے۔۔۔ دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکی ایک بار پھر زلزلے سے لرز اٹھا
عوام کا غم اور غصہ
سوال لاشیں ملنے کا نہیں، غم وغصے کا ہے، اور وہ عوام میں ہے۔ اس کا ثبوت نہ مانگ بیٹھیے گا۔ اس غم وغصے کو کسی ہسپتال کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: منکی پاکس کا خطرہ سنگین ہو گیا، لاہور میں مزید 3 نئے مریضوں کی تصدیق
سیاسی زلزلوں کے اثرات
کھلاڑی کا بلا رنز اُگل رہا ہو تو سمجھ دار ی اسی میں ہوتی ہے کہ "گیم کا ٹیمپو سلو" کیا جائے۔ "سیاسی زلزلوں" اور تخت الٹنے کا موسم ہے۔ عوام کی گھن گرج بڑھتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز سے وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر حسین کی ملاقات
آخری کال اور سول نافرمانی
بات "فائنل کال" سے "سول نافرمانی کی کال" تک جا پہنچی ہے۔ جواب میں کہا جا رہا ہے "تمہاری نافرمانی کی ایسی کی تیسی"۔
یہ بھی پڑھیں: نویں جماعت کا طالبعلم کروڑ پتی بن گیا، 87 کروڑ روپے کا بینک بیلنس، لیکن 5 گھنٹے بعد ہی ساری رقم سے محروم ہوگیا
انتشار کا مقابلہ
جہاں بھی انتشار ہوگا ہم اس کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ جھوٹا بیانیہ بنایا جا رہا ہے۔ لاشوں کی سیاست کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ نے نئے سٹوڈنٹ ویزا انٹرویوز کو روکنے کا حکم دے دیا
معاشرتی مایوسی
ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر نے لکھا تھا کہ "ندامت، پشیمانی اور فکرمندی شاید سب سے زیادہ عام عناصر ہیں جن کے باعث ایک معاشرہ مایوسی، افسردگی اور بے چینی و پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے"۔
یہ بھی پڑھیں: دلجیت دو سانجھ نے آئندہ بھارت میں کنسرٹ نہ کرنے کا اعلان کردیا
سیاسی سطح پر عاجزی کی کمی
ابھی بھی ایک دوسرے کی "ایسی کی تیسی" پھیرنے والے بیانات داغے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر "گندکی ٹریفک" یکطرفہ نہیں دوطرفہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تہران میں ٹرک پکڑا گیا، کتنے ڈرونز لدے تھے۔۔۔؟ تہلکہ خیز انکشاف
مطمئن بے وقوف
مشہور مقولہ یاد آ گیا کہ "بہادر مارے جاتے ہیں، ذہین پاگل ہو جاتے ہیں اور دنیا مطمئن بیوقوفوں سے بھری رہتی ہے"۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی فضائی حدود عارضی طور پر بند ، ایئرپورٹس اتھارٹی کا اعلان
نوجوانوں کا شعور
عوام میں دھیرے دھیرے سیاسی شعور آ رہا ہے۔ آج کا نوجوان بہت کچھ جانتا ہے، بولتا ہے، اس کی نظر میں شعور دینا بغاوت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف نے انٹرنیٹ کی بندش کا حل نکال لیا
سوالات کے بہاؤ میں
آج کی نسل سوالات کے "بہاؤ" میں یہ بھی پوچھتی ہے کہ ہر کوئی یہ کیوں کہتا ہے کہ ہم "بقاء" کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی خوشیوں میں ان کو بھی شامل کریں جو ضرورت مند ہیں: فاروق ستار
سیاسی تناؤ اور مستقبل
مہینے اکتوبر کا تھا سن 2020ء تھا، مقدمے میں 3 سیاسی رہنما بری ہو چکے ہیں۔ اس بار مقدموں کا نتیجہ کیا نکلے گا؟
خلاصہ
عوام کس تکلیف سے دوچار ہیں اس کا اندازہ لگانا ہے تو نمائندگی کے دعویداروں کو "عوامی سمندر" میں چھلانگ لگانی پڑے گی، تیرنا آتا ہو گا تو بچ جائیں گے ورنہ اللہ حافظ۔
نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں








