سیاسی زلزلے آ رہے ہیں، نوبت سول نافرمانی کی کال تک کیوں پہنچی، سوال لاشیں ملنے کا نہیں عوام میں غم وغصے کا ہے، گیم کا ٹیمپو سلو کون کرے گا۔۔؟
دنیا میں سیاسی زلزلے
دنیا بھر میں "سیاسی زلزلے" آ رہے ہیں، ریکٹرسکیل پر شدت حیران کن، گہرائی اقتدار کے ایوانوں کو ہلا رہی ہے۔ بڑے بڑے برج الٹ چکے ہیں۔ افغانستان، امریکہ، بنگلہ دیش اور اب شام میں "سیاسی زلزلے" نے ہلاکر رکھ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی حملے کے جواب میں ایران اسرائیل پر میزائل داغ سکتا ہے، اسرائیلی حکام نے شہریوں کو خبردار کردیا
مشرق وسطیٰ میں تبدیلی کی پیشگوئیاں
مشرق وسطیٰ میں فوجی اور سیاسی توازن میں بڑی تبدیلی کی پیشگوئیاں کی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں بھی ہلکے "جھٹکے" محسوس کیے جا رہے ہیں۔ دعا کریں "آفٹر شاکس" نہ آئیں اور زیادہ نقصان نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے پاکستان آنے والے مہاجرین کو پہلے چند سال نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا، جڑانوالہ پہنچے تو چولہا جلانے کے لیے لکڑیاں نہ تھیں
سیاسی بادشاہت کے خلاف نفرت
"سیاسی بادشاہت" کے خلاف نفرت جنم لے چکی ہے۔ دعا کریں اس کی عمر میں اضافہ نہ ہو۔ سوالات کا سلسلہ تھما نہیں، جاری ہے۔۔۔ دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی 20 ورلڈ کپ: جنوبی افریقا کا ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ
عوام کا غم اور غصہ
سوال لاشیں ملنے کا نہیں، غم وغصے کا ہے، اور وہ عوام میں ہے۔ اس کا ثبوت نہ مانگ بیٹھیے گا۔ اس غم وغصے کو کسی ہسپتال کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں مزید 3 روز گرمی برقرار رہنے کی پیش گوئی
سیاسی زلزلوں کے اثرات
کھلاڑی کا بلا رنز اُگل رہا ہو تو سمجھ دار ی اسی میں ہوتی ہے کہ "گیم کا ٹیمپو سلو" کیا جائے۔ "سیاسی زلزلوں" اور تخت الٹنے کا موسم ہے۔ عوام کی گھن گرج بڑھتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے کل ملاقات کا دن، فہرست جیل حکام کو ارسال
آخری کال اور سول نافرمانی
بات "فائنل کال" سے "سول نافرمانی کی کال" تک جا پہنچی ہے۔ جواب میں کہا جا رہا ہے "تمہاری نافرمانی کی ایسی کی تیسی"۔
یہ بھی پڑھیں: 14 شہداء پولیس کے لیے شہید پیکیج کی منظوری، وطن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ہمارے اصل ہیرو ہیں: وزیر قانون پنجاب
انتشار کا مقابلہ
جہاں بھی انتشار ہوگا ہم اس کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ جھوٹا بیانیہ بنایا جا رہا ہے۔ لاشوں کی سیاست کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شہری تو دور، اسلام آباد میں پولیس بھی ڈاکوؤں کے نشانے پر، ایک اہلکار شہید
معاشرتی مایوسی
ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر نے لکھا تھا کہ "ندامت، پشیمانی اور فکرمندی شاید سب سے زیادہ عام عناصر ہیں جن کے باعث ایک معاشرہ مایوسی، افسردگی اور بے چینی و پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے"۔
یہ بھی پڑھیں: عوام اپنا قومی اور صوبائی اسمبلی کا نمائندہ منتخب نہیں کر سکتے تو وہ کہاں جائیں گے، 20 اور 21 دسمبر کو قومی کانفرنس منعقد کی جائے گی، اسد قیصر
سیاسی سطح پر عاجزی کی کمی
ابھی بھی ایک دوسرے کی "ایسی کی تیسی" پھیرنے والے بیانات داغے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر "گندکی ٹریفک" یکطرفہ نہیں دوطرفہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حادثے کے دن موسم خراب تھا، ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوسکتا تھا، بیرسٹر سیف۔
مطمئن بے وقوف
مشہور مقولہ یاد آ گیا کہ "بہادر مارے جاتے ہیں، ذہین پاگل ہو جاتے ہیں اور دنیا مطمئن بیوقوفوں سے بھری رہتی ہے"۔
یہ بھی پڑھیں: سولر نیٹ میٹرنگ پر وفاقی حکومت، نیپرا اور لیسکو سے جواب طلب
نوجوانوں کا شعور
عوام میں دھیرے دھیرے سیاسی شعور آ رہا ہے۔ آج کا نوجوان بہت کچھ جانتا ہے، بولتا ہے، اس کی نظر میں شعور دینا بغاوت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا وسیع جنگ کے خطرے کی طرف بڑھ رہی ہے: سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خدشہ ظاہر کیا
سوالات کے بہاؤ میں
آج کی نسل سوالات کے "بہاؤ" میں یہ بھی پوچھتی ہے کہ ہر کوئی یہ کیوں کہتا ہے کہ ہم "بقاء" کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ویر زارا میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی تھی، نادیہ جمیل کا انکشاف
سیاسی تناؤ اور مستقبل
مہینے اکتوبر کا تھا سن 2020ء تھا، مقدمے میں 3 سیاسی رہنما بری ہو چکے ہیں۔ اس بار مقدموں کا نتیجہ کیا نکلے گا؟
خلاصہ
عوام کس تکلیف سے دوچار ہیں اس کا اندازہ لگانا ہے تو نمائندگی کے دعویداروں کو "عوامی سمندر" میں چھلانگ لگانی پڑے گی، تیرنا آتا ہو گا تو بچ جائیں گے ورنہ اللہ حافظ۔
نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں








