سیاسی زلزلے آ رہے ہیں، نوبت سول نافرمانی کی کال تک کیوں پہنچی، سوال لاشیں ملنے کا نہیں عوام میں غم وغصے کا ہے، گیم کا ٹیمپو سلو کون کرے گا۔۔؟
دنیا میں سیاسی زلزلے
دنیا بھر میں "سیاسی زلزلے" آ رہے ہیں، ریکٹرسکیل پر شدت حیران کن، گہرائی اقتدار کے ایوانوں کو ہلا رہی ہے۔ بڑے بڑے برج الٹ چکے ہیں۔ افغانستان، امریکہ، بنگلہ دیش اور اب شام میں "سیاسی زلزلے" نے ہلاکر رکھ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز نے فی شیئر 45 روپے منافع کی منظوری دے دی
مشرق وسطیٰ میں تبدیلی کی پیشگوئیاں
مشرق وسطیٰ میں فوجی اور سیاسی توازن میں بڑی تبدیلی کی پیشگوئیاں کی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں بھی ہلکے "جھٹکے" محسوس کیے جا رہے ہیں۔ دعا کریں "آفٹر شاکس" نہ آئیں اور زیادہ نقصان نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: تھائی لینڈ نے کمبوڈیا کی سرحد سے متصل 8 اضلاع میں مارشل لا نافذ کر دیا
سیاسی بادشاہت کے خلاف نفرت
"سیاسی بادشاہت" کے خلاف نفرت جنم لے چکی ہے۔ دعا کریں اس کی عمر میں اضافہ نہ ہو۔ سوالات کا سلسلہ تھما نہیں، جاری ہے۔۔۔ دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟ جانیے
عوام کا غم اور غصہ
سوال لاشیں ملنے کا نہیں، غم وغصے کا ہے، اور وہ عوام میں ہے۔ اس کا ثبوت نہ مانگ بیٹھیے گا۔ اس غم وغصے کو کسی ہسپتال کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: وکلاء اور حکومت ایک ہی ٹیم کی طرح کام کر رہے ہیں: وزیر قانون پنجاب صہیب احمد بھرتھ
سیاسی زلزلوں کے اثرات
کھلاڑی کا بلا رنز اُگل رہا ہو تو سمجھ دار ی اسی میں ہوتی ہے کہ "گیم کا ٹیمپو سلو" کیا جائے۔ "سیاسی زلزلوں" اور تخت الٹنے کا موسم ہے۔ عوام کی گھن گرج بڑھتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے سزا یافتہ رہنماؤں کو اعلیٰ عدالتوں سے ریلیف ملے گا، اسد عمر
آخری کال اور سول نافرمانی
بات "فائنل کال" سے "سول نافرمانی کی کال" تک جا پہنچی ہے۔ جواب میں کہا جا رہا ہے "تمہاری نافرمانی کی ایسی کی تیسی"۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومت کا وادیٔ پشاور میں وفاق کے تعاون سے ٹرین چلانے کا فیصلہ
انتشار کا مقابلہ
جہاں بھی انتشار ہوگا ہم اس کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ جھوٹا بیانیہ بنایا جا رہا ہے۔ لاشوں کی سیاست کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرگودھا میں ڈاکو آئل ٹینکر سے 80 لیٹر پیٹرول اور نقدی لوٹ کر فرار
معاشرتی مایوسی
ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر نے لکھا تھا کہ "ندامت، پشیمانی اور فکرمندی شاید سب سے زیادہ عام عناصر ہیں جن کے باعث ایک معاشرہ مایوسی، افسردگی اور بے چینی و پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے"۔
یہ بھی پڑھیں: ہم پہلے بھی اس ترمیم کو نہیں مانتے تھے اور آج بھی نہیں مانتے، جنید اکبر
سیاسی سطح پر عاجزی کی کمی
ابھی بھی ایک دوسرے کی "ایسی کی تیسی" پھیرنے والے بیانات داغے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر "گندکی ٹریفک" یکطرفہ نہیں دوطرفہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی: پی ٹی آئی کارکنان اور پولیس کا مری روڈ پر سامنا
مطمئن بے وقوف
مشہور مقولہ یاد آ گیا کہ "بہادر مارے جاتے ہیں، ذہین پاگل ہو جاتے ہیں اور دنیا مطمئن بیوقوفوں سے بھری رہتی ہے"۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا؟
نوجوانوں کا شعور
عوام میں دھیرے دھیرے سیاسی شعور آ رہا ہے۔ آج کا نوجوان بہت کچھ جانتا ہے، بولتا ہے، اس کی نظر میں شعور دینا بغاوت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں شعبان المعظم کا چاند نظر نہیں آیا، یکم شعبان بدھ کو ہوگی
سوالات کے بہاؤ میں
آج کی نسل سوالات کے "بہاؤ" میں یہ بھی پوچھتی ہے کہ ہر کوئی یہ کیوں کہتا ہے کہ ہم "بقاء" کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیلابی صورتِ حال، نارووال سیالکوٹ جانے والی تمام ٹرینیں بند
سیاسی تناؤ اور مستقبل
مہینے اکتوبر کا تھا سن 2020ء تھا، مقدمے میں 3 سیاسی رہنما بری ہو چکے ہیں۔ اس بار مقدموں کا نتیجہ کیا نکلے گا؟
خلاصہ
عوام کس تکلیف سے دوچار ہیں اس کا اندازہ لگانا ہے تو نمائندگی کے دعویداروں کو "عوامی سمندر" میں چھلانگ لگانی پڑے گی، تیرنا آتا ہو گا تو بچ جائیں گے ورنہ اللہ حافظ۔
نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں








