جن لاپتہ افراد کی گمشدگی کے مقدمات درج ہو چکے پولیس رپورٹس پیش کرے،سندھ ہائیکورٹ
سندھ ہائیکورٹ کا لاپتہ افراد کی بازیابی پر فیصلہ
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کی بازیابی کی درخواستوں پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن لاپتہ افراد کی گمشدگی کے مقدمات درج ہو چکے ہیں، پولیس رپورٹس پیش کرے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدے میں ایک فریق کو اختیار ہی نہیں کہ کوئی تبدیلی کرے: احمر بلال صوفی
پولیس کی تحقیقات کا حکم
عدالت نے ہدایت کی کہ پولیس معاملے کی تحقیقات کرے اور یہ پتہ لگایا جائے کہ وہ افراد کہاں گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جج صاحب زندہ دل اور حسن پرست انسان تھے، بات بات میں ہنسنے کا بہانہ ڈھونڈ لیتے تھے، الیکشن کی ساری ذمہ داری مجھے دیدی خود سارا دن موج کرتے
سماعت کا پس منظر
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں لڑکی سمیت 6 لاپتہ افراد کی بازیابی کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے کہا کہ جن لاپتہ افراد کی گمشدگی کے مقدمات درج ہیں، ان کے بارے میں پولیس رپورٹس پیش کی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: چار بیٹوں نے اپنے 90 سالہ والد کے لیے دلہن بیاہ لائے، دلہن کی عمر کتنی ہے؟ سوشل میڈیا پر بحث شروع
عدالت کے سوالات
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ لڑکی شاہین کا معلوم نہیں ہو رہا کہ وہ کہاں گئی۔ جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ اگر مقدمہ درج ہو چکا ہے تو پھر تحقیقات کی ضرورت ہے۔
رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت
عدالت نے کہا کہ پولیس لاپتہ افراد کا سراغ لگا کر ٹرائل کورٹ میں رپورٹ پیش کرے۔ عدالت نے لاپتہ شہری گل زریں کی بازیابی کی رپورٹ متعلقہ ٹرائل کورٹ میں پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ اختر منیر، فہد علوی اور نعیم کی بازیابی کی درخواستوں پر نوٹس جاری کر دیئے گئے۔








