جن لاپتہ افراد کی گمشدگی کے مقدمات درج ہو چکے پولیس رپورٹس پیش کرے،سندھ ہائیکورٹ

سندھ ہائیکورٹ کا لاپتہ افراد کی بازیابی پر فیصلہ
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کی بازیابی کی درخواستوں پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن لاپتہ افراد کی گمشدگی کے مقدمات درج ہو چکے ہیں، پولیس رپورٹس پیش کرے۔
یہ بھی پڑھیں: گناہ کی دلدل اور اس کا انجام: زناکاروں کے لیے سبق آموز اور عبرت ناک داستان
پولیس کی تحقیقات کا حکم
عدالت نے ہدایت کی کہ پولیس معاملے کی تحقیقات کرے اور یہ پتہ لگایا جائے کہ وہ افراد کہاں گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: معروف ٹی وی اداکار راشد محمود کی محتسب پنجاب سے ملاقات،خصوصی پیغام بھی ریکارڈ کروایا
سماعت کا پس منظر
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں لڑکی سمیت 6 لاپتہ افراد کی بازیابی کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے کہا کہ جن لاپتہ افراد کی گمشدگی کے مقدمات درج ہیں، ان کے بارے میں پولیس رپورٹس پیش کی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا کے خلاف آخری ٹی 20 میچ، قومی ٹیم میں بڑی تبدیلی
عدالت کے سوالات
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ لڑکی شاہین کا معلوم نہیں ہو رہا کہ وہ کہاں گئی۔ جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ اگر مقدمہ درج ہو چکا ہے تو پھر تحقیقات کی ضرورت ہے۔
رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت
عدالت نے کہا کہ پولیس لاپتہ افراد کا سراغ لگا کر ٹرائل کورٹ میں رپورٹ پیش کرے۔ عدالت نے لاپتہ شہری گل زریں کی بازیابی کی رپورٹ متعلقہ ٹرائل کورٹ میں پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ اختر منیر، فہد علوی اور نعیم کی بازیابی کی درخواستوں پر نوٹس جاری کر دیئے گئے۔