اصغر خان کیس: وزارت دفاع سے حساس اداروں میں سیاسی سیل ختم کرنے کی رپورٹ طلب
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اصغر خان کیس میں وزارت دفاع سے حساس اداروں میں سیاسی سیل ختم کرنے کی رپورٹ طلب کرلی اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو وزارت دفاع کا جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ہدایت کی کہ ایف آئی اے عدالت کو مطمئن کرے کہ عدالتی فیصلے پر عمل ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے کسان کو تباہ کرنے کا سوچا ہوا ہے، ہمارے پاس اگلی فصل کاشت کرنے کیلئے پیسے نہیں : کسان اتحاد کا شکوہ
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے اصغرخان کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو حساس اداروں میں سیاسی سیل کے خاتمے کے حوالے سے وزارت دفاع کا جواب جمع کرانے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چورنڈ اوورسیز فاؤنڈیشن کی خدمات نہایت قابلِ ستائش ہیں: ناصر عباس تارڑ
عدالت میں بیان
دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سیاسی سیل تو حساس اداروں میں اصغر خان کیس فیصلے کے بعد ختم کر دیئے تھے، جس پر جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اس کا مطلب ہے حساس اداروں میں سیاسی سیل تھے۔ وکیل سلمان اکرام راجہ نے کہا کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ حساس اداروں میں سیاسی سیل تھا، جن لوگوں نے 1990 کا الیکشن چوری کیا ان کے خلاف کیا ایکشن ہوا؟ اسلم بیگ اسد درانی یونس حبیب نے الیکشن چوری کا اعتراف کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جب گیند ہوا میں ہوتی ہے تو جسم کا ہر حصہ کیچ ڈراپ ہونے کی دعا کرتا ہے: فہیم اشرف
انکوائری کے نتائج
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے نے اصغر خان کیس میں انکوائری بند کردی ہے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا سیاستدانوں میں تقسیم رقم برآمد کرلی گئی، بڑے بڑے سیاسی نام ہیں جن میں رقم تقسیم کا الزام لگایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ارسا نے پنجاب اور سندھ کے لیے پانی کی فراہمی میں اضافہ کر دیا
ایف آئی اے کا موقف
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ایف آئی اے کی انکوائری میں رقم تقسیم کے شواہد نہیں ملے، اصغر خان درخواست گزار تھے ان کا انتقال ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی سپریم لیڈر نے حسین سلامی کی شہادت کے بعد پاسدران انقلاب کے نئے سربراہ کے نام کا اعلان کر دیا
سوالات اور جوابات
جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا ایف آئی اے نے اپنا کام کیا؟ کیا حساس اداروں کے سربراہان نے سیاسی سیل کے خاتمے کا بیان حلفی دیا؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حساس اداروں کا آئین اور قانون کے تحت سیاست میں کوئی کردار نہیں۔
آخری ہدایت
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر پہلے بیان حلفی نہیں لیا تو حساس اداروں کے سربراہان سے آج بیان حلفی لے لیں، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اصغر خان کیس کے فیصلے پر عمل کیا گیا ہے، حساس اداروں میں سیاسی سیل کو عدالتی فیصلہ کے بعد ختم کر دیا گیا تھا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ہدایت کی کہ ایف آئی اے عدالت کو مطمئن کرے کہ عدالتی فیصلہ پر عمل ہو چکا ہے۔ بعدازاں آئینی بینچ نے وزارت دفاع سے رپورٹ طلب کرکے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔








