سندھ ہائیکورٹ: کاروکاری کے الزام میں قتل نوجوان کی نعش ڈھونڈنے کیلئے کمیٹی بنانے کا حکم
سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ ہائیکورٹ نے لاڑکانہ میں کاروکاری کے الزام میں قتل علی احمد بروہی کی نعش ڈھونڈنے کیلئے کمیٹی بنانے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: صحافی کالونی فیز ٹو کے الاٹمنٹ فارمز جاری، اپنے وعدے میں سرخرو ہوئے: صدر لاہور پریس کلب ارشد انصار ی کا تقریب سے خطاب
قتل کے کیس کی سماعت
سندھ ہائیکورٹ میں کاروکاری کے الزام میں لاڑکانہ کے علی احمد بروہی کے قتل اور نعش نہر میں بہانے کے کیس کی سماعت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی ہنگامہ آرائی کیس؛ عمر ایوب اور زرتاج گل کی عبوری ضمانتوں میں 17 جنوری تک توسیع
کمیٹی کی تشکیل
عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ڈی ایس پی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے کر نوجوان کی نعش کی بازیابی یقینی بنائی جائے، نعش ملنے پر انویسٹیگیشن کمیٹی ڈی این اے ٹیسٹ بھی کرائے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام سے شانگلہ اور سوات کے مختلف علاقوں کے وفود کی ملاقات
پولیس کی رپورٹ
عدالت میں فوکل پرسن پولیس نے کہا کہ ایک ہفتے میں نوجوان سے متعلق کمیٹی بنائی جائے گی جو لاپتہ نوجوان کی نعش کا بھی پتہ لگائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے معروف فیملی وی لاگر رجب بٹ ایک بار پھر تنازع کی زد میں آگئے
درخواست گزار کا بیان
درخواست گزار کے مطابق مقتول علی احمد بروہی کے قتل کیس کا چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا، ایک سال قبل علی احمد بروہی پر کاروکاری کا الزام لگایا گیا تھا۔
مقتول کی موت کا واقعہ
درخواست گزار کے مطابق مقتول کو ملزمان نے گھر بلایا اور قتل کر کے نعش نامعلوم مقام پر پھینک دی، ازخود نوٹس کے باوجود پولیس 1 سال سے لاش ڈھونڈنے میں ناکام رہی ہے。








