سندھ ہائیکورٹ: کاروکاری کے الزام میں قتل نوجوان کی نعش ڈھونڈنے کیلئے کمیٹی بنانے کا حکم

سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ ہائیکورٹ نے لاڑکانہ میں کاروکاری کے الزام میں قتل علی احمد بروہی کی نعش ڈھونڈنے کیلئے کمیٹی بنانے کا حکم دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ابوظہبی ائیرپورٹ سے محدود کمرشل پروازوں کی بحالی کا اعلان کر دیا گیا

قتل کے کیس کی سماعت

سندھ ہائیکورٹ میں کاروکاری کے الزام میں لاڑکانہ کے علی احمد بروہی کے قتل اور نعش نہر میں بہانے کے کیس کی سماعت ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر تعلیم کا مختلف امتحانی سنٹرز کا دورہ، بوٹی مافیا کا ایک اور نیٹ ورک پکڑ لیا

کمیٹی کی تشکیل

عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ڈی ایس پی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے کر نوجوان کی نعش کی بازیابی یقینی بنائی جائے، نعش ملنے پر انویسٹیگیشن کمیٹی ڈی این اے ٹیسٹ بھی کرائے۔

یہ بھی پڑھیں: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، رائس مل سے ایک کروڑ 90 لاکھ روپے کے چاول بغیر پیمنٹ اٹھائے جانے کا انکشاف

پولیس کی رپورٹ

عدالت میں فوکل پرسن پولیس نے کہا کہ ایک ہفتے میں نوجوان سے متعلق کمیٹی بنائی جائے گی جو لاپتہ نوجوان کی نعش کا بھی پتہ لگائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: سیلاب سے متاثر ہونے والے متوقع اضلاع میں ہائی الرٹ کر دیا: مریم اورنگزیب

درخواست گزار کا بیان

درخواست گزار کے مطابق مقتول علی احمد بروہی کے قتل کیس کا چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا، ایک سال قبل علی احمد بروہی پر کاروکاری کا الزام لگایا گیا تھا۔

مقتول کی موت کا واقعہ

درخواست گزار کے مطابق مقتول کو ملزمان نے گھر بلایا اور قتل کر کے نعش نامعلوم مقام پر پھینک دی، ازخود نوٹس کے باوجود پولیس 1 سال سے لاش ڈھونڈنے میں ناکام رہی ہے。

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...