سندھ ہائیکورٹ: کاروکاری کے الزام میں قتل نوجوان کی نعش ڈھونڈنے کیلئے کمیٹی بنانے کا حکم
سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ ہائیکورٹ نے لاڑکانہ میں کاروکاری کے الزام میں قتل علی احمد بروہی کی نعش ڈھونڈنے کیلئے کمیٹی بنانے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: دن کی روشنی نے تل ابیب میں بڑے پیمانے پر تباہی کو بے نقاب کردیا،ماریو نوفال
قتل کے کیس کی سماعت
سندھ ہائیکورٹ میں کاروکاری کے الزام میں لاڑکانہ کے علی احمد بروہی کے قتل اور نعش نہر میں بہانے کے کیس کی سماعت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی پنجاب بار کونسل کے انتخابات میں فاتح انڈیپینڈنٹ گروپ کو مبارکباد
کمیٹی کی تشکیل
عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ڈی ایس پی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے کر نوجوان کی نعش کی بازیابی یقینی بنائی جائے، نعش ملنے پر انویسٹیگیشن کمیٹی ڈی این اے ٹیسٹ بھی کرائے۔
یہ بھی پڑھیں: میں بانی متحدہ کی بیٹی کو ایئر پورٹ لینے جا رہا ہوں، رؤف صدیقی
پولیس کی رپورٹ
عدالت میں فوکل پرسن پولیس نے کہا کہ ایک ہفتے میں نوجوان سے متعلق کمیٹی بنائی جائے گی جو لاپتہ نوجوان کی نعش کا بھی پتہ لگائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد زیر غور نہیں، رانا ثنا اللہ
درخواست گزار کا بیان
درخواست گزار کے مطابق مقتول علی احمد بروہی کے قتل کیس کا چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا، ایک سال قبل علی احمد بروہی پر کاروکاری کا الزام لگایا گیا تھا۔
مقتول کی موت کا واقعہ
درخواست گزار کے مطابق مقتول کو ملزمان نے گھر بلایا اور قتل کر کے نعش نامعلوم مقام پر پھینک دی، ازخود نوٹس کے باوجود پولیس 1 سال سے لاش ڈھونڈنے میں ناکام رہی ہے。








