ہمارا مینڈیٹ چرا کر احتجاج کا حق بھی چھین لیا گیا: شبلی فراز
پی ٹی آئی کے رہنما کی تشویش
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پی ٹی آئی کے رہنما، سابق وفاقی وزیر اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ہم سے انتخابی نشان چھین لیا گیا ہے۔ ہماری قیادت کو گرفتار یا مجبور کیا گیا کہ منظرعام پر نہ آئے۔
یہ بھی پڑھیں: خانپور ڈیم بھر گیا، این ڈی ایم اے کا اسپل ویز کھولنے کا فیصلہ
انتخابات کی شفافیت پر سوالات
بہت پہلے سے آثار نمایاں تھے کہ عام انتخابات شفاف نہیں ہوں گے۔ ہم سے ہمارا مینڈیٹ چرایا گیا۔ پی ٹی آئی پر غیر معمولی مظالم ڈھائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق پاکستان کو تحریری طور پر آگاہ کردیا
سیاسی سرگرمیوں کی اہمیت
سینیٹ کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ ہم نے جمہوری و آئینی حق استعمال کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ احتجاج نہ کرنا زیادہ شرم ناک ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: احسن اقبال نے این ایف سی ایوارڈ کا فارمولا تبدیل کرنے کا مطالبہ کردیا
پرامن احتجاج کی کامیابی
سینیٹ کے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ احتجاج میں جلسے بھی ہوتے ہیں اور ریلیاں بھی نکالی جاتی ہیں۔ ہم نے پرامن احتجاج کی کال دی اور لاکھوں لوگ آئے۔
یہ بھی پڑھیں: جیسا خیال کیا جا رہا تھا، کمشنر ایک ایک اپیل بڑے غور سے سنتے، اپیل کنندہ کو پورا موقع دیتے پھر اعتراضات پر متعلقہ ڈی سی او اپنا مؤقف بیان کرتا
سیاسی شعور کی نشانی
شبلی فراز کا کہنا تھا کہ معاشرہ سیاسی طور پر باشعور ہو چکا ہے۔ ہمارے دور میں بھی احتجاج کیا گیا مگر ہم نے کبھی رکاوٹ کھڑی نہیں کی، کسی کو نہیں روکا۔ ہم سے ہمارا احتجاج کا جمہوری حق چھینا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب نے پولیو کے خاتمے کے لئے قابلِ عمل پلان مانگ لیا
الیکشن ٹربیونلز کے حوالے سے خدشات
سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ الیکشن ٹربیونلز محض مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ مخصوص نشستوں کے حوالے سے تاحال جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں تاحال نامکمل ہیں۔
معلومات کی تقسیم اور بحث کا مطالبہ
شبلی فراز کا کہنا تھا کہ جب یہ سب کچھ جاری رہا تو ہم نے پرامن احتجاج کی کال دی۔ ہمیں بحث بھی کرنی ہے اور حقائق بھی سامنے رکھنے ہیں۔








