ہمسائے کیا سوچیں گے
مصنف اور مترجم
مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
مترجم: ریاض محمود انجم
قسط: 76
یہ بھی پڑھیں: زیادہ صوبے بنانے سے انصاف کا حصول ممکن اور آمدنی میں اضافہ ہوگا، میاں عامر محمود
شرمندگی اور ندامت کے جذبات
”تم نے ہمیں بے عزت کر دیا۔“ یہ ایک اور مؤثر اور اہم فقرہ ہے جس کے باعث آپ شرمندگی و ندامت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک اور فقرہ ”ہمسائے کیا سوچیں گے۔“ اس کے ذریعے والدین بیرونی عوامل کے ذریعے آپ کو شرمندگی اور ندامت میں مبتلا کرتے ہیں، اور آپ اپنے متعلق کچھ بھی نہیں سوچ سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈکی بھائی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور اے ٹی ایم کارڈز کی سپرداری کی درخواست، این سی سی آئی اے کو 15 دسمبر تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم
تعلیمی دباؤ
والدین کا یہ رویہ ”اگر تم امتحان میں ناکام ہوئے تو خاندان میں ہماری ناک کٹ جائے گی“ آپ کی صلاحیتوں اور استعدادوں پر اس قدر گراں گزرتا ہے کہ آپ تعلیمی لحاظ سے پہلے سے بھی زیادہ کمزور ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ثنایوسف اور قاتل کا سوشل میڈیا ایپ پر رابطہ ہوا، پھر دوست بنے تو واٹس ایپ پر آگئے، ملزم نے ایک ہوٹل بک کروا رکھا تھا ” معروف صحافی نے اندر کی بات بتادی
بیماری اور الزام
والدین اپنی بیماریوں کو بھی آپ کو شرمندگی و ندامت میں مبتلا رکھنے کے لیے بطور محرک استعمال کرتے ہیں: ”تم نے میرا فشار خون زیادہ کر دیا ہے“ یا ”تم مجھے مار دینا چاہتے ہو!“، ”تمہاری وجہ سے مجھ پر حملہ قلب ہوا۔“
یہ بھی پڑھیں: بھارت کو غشی کے دورے پڑیں گے کہ پاکستان اتنا تگڑا ملک کیسے بن گیا: وزیر اعظم
زندگی بھر کا بوجھ
چونکہ اس قسم کی ندامت و شرمندگی تمام عمر آپ کے ساتھ رہتی ہے، اس لیے آپ کے کاندھے بھی مضبوط اور بڑے ہونے چاہئیں۔ اگر آپ کے کاندھے بڑے اور مضبوط نہیں ہیں تو پھر یہ شرمندگی اور ندامت آپ کے والدین کی وفات تک جاری رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل میں زیادہ ففٹیز فخر نے رضوان کو پیچھے چھوڑ دیا
جنسی اور رومانی تعلقات
جنسی معاملات یا رومانی تعلقات کے ضمن میں والدین کی طرف سے آپ کو شرمندگی و ندامت کے احساس میں مبتلا رہنے کا عمل ایک بہت ہی عمومی اور روایتی رویہ اور طرزعمل ہے۔ ”خدا تمہیں معاف کرے، تم اس قدر غلیظ رسالے پڑھتے ہو!“
یہ بھی پڑھیں: قلعہ سیف اللہ، نوشکی اور چمن میں دشمن کی دراندازی اور زمینی حملوں کی مذموم کوشش کو بہادر فورسز نے ناکام بنا دیا،طارق فضل چودھری
معاشرتی تعلقات
مزید برآں معاشرتی تعلقات کے حوالے سے بھی آپ کو ہر موڑ پر احساس شرمندگی اور ندامت میں مبتلا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ”دادی اماں کے سامنے تم نے بہتی ناک کو بازو سے صاف کر کے مجھے میری نظروں میں ہی گرا دیا ہے۔”
یہ بھی پڑھیں: شہناز گل کو کالج کی طالبہ نے بوسہ دے دیا
بچوں کی معذوری
ایک بچے میں اس قدر صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ وہ احساس شرمندگی اور ندامت کا شکار ہوئے بغیر معاشرتی تعلق داری قائم کر سکے۔ تاہم، اس کی یہ کوشش ناکام بنادی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے چین سے میزائل خریدنے کی رپورٹ پر چین کا رد عمل بھی آ گیا
نتیجہ
اس ضمن میں والدین کی طرف سے ایک ایسا رویہ جو یہ ظاہر کرتا ہو کہ بچے کا رویہ اور طرزعمل کیوں ناپسندیدہ ہے، بہت ہی پراثر اور زبردست ہوتا ہے۔ جیسے کہ اگر ٹونی کو بتایا جاتا ہے کہ اس کے شوروغل کے باعث گفتگو میں خلل واقع ہو رہا ہے تو اس کے ذہن اور دل میں ندامت کے بیج بو دیئے جاتے ہیں۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








