ہمسائے کیا سوچیں گے

مصنف اور مترجم

مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
مترجم: ریاض محمود انجم
قسط: 76

یہ بھی پڑھیں: پہلگام حملہ، اپوزیشن کی مودی سرکار پر “سوالات کی بوچھاڑ”، دلی میں آل پارٹیز کانفرنس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

شرمندگی اور ندامت کے جذبات

”تم نے ہمیں بے عزت کر دیا۔“ یہ ایک اور مؤثر اور اہم فقرہ ہے جس کے باعث آپ شرمندگی و ندامت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک اور فقرہ ”ہمسائے کیا سوچیں گے۔“ اس کے ذریعے والدین بیرونی عوامل کے ذریعے آپ کو شرمندگی اور ندامت میں مبتلا کرتے ہیں، اور آپ اپنے متعلق کچھ بھی نہیں سوچ سکتے۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹیبلشمنٹ یا دیگر جماعتوں سے پی ٹی آئی کی بات چیت میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کا گالم گلوچ بریگیڈ ہے: رانا ثنااللہ

تعلیمی دباؤ

والدین کا یہ رویہ ”اگر تم امتحان میں ناکام ہوئے تو خاندان میں ہماری ناک کٹ جائے گی“ آپ کی صلاحیتوں اور استعدادوں پر اس قدر گراں گزرتا ہے کہ آپ تعلیمی لحاظ سے پہلے سے بھی زیادہ کمزور ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور عوام پر اثرات، حافظ نعیم الرحمان کا موقف

بیماری اور الزام

والدین اپنی بیماریوں کو بھی آپ کو شرمندگی و ندامت میں مبتلا رکھنے کے لیے بطور محرک استعمال کرتے ہیں: ”تم نے میرا فشار خون زیادہ کر دیا ہے“ یا ”تم مجھے مار دینا چاہتے ہو!“، ”تمہاری وجہ سے مجھ پر حملہ قلب ہوا۔“

یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک مقیم بھارتی گینگسٹر گولڈی برار کے والدین کو بھتہ خوری کیس میں گرفتار کر لیا گیا

زندگی بھر کا بوجھ

چونکہ اس قسم کی ندامت و شرمندگی تمام عمر آپ کے ساتھ رہتی ہے، اس لیے آپ کے کاندھے بھی مضبوط اور بڑے ہونے چاہئیں۔ اگر آپ کے کاندھے بڑے اور مضبوط نہیں ہیں تو پھر یہ شرمندگی اور ندامت آپ کے والدین کی وفات تک جاری رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نرگس فخر کی بہن نے اپنے بوائے فرینڈ اور اس کی خاتون دوست کے گھر کو آگ لگا دی، دونوں ہلاک

جنسی اور رومانی تعلقات

جنسی معاملات یا رومانی تعلقات کے ضمن میں والدین کی طرف سے آپ کو شرمندگی و ندامت کے احساس میں مبتلا رہنے کا عمل ایک بہت ہی عمومی اور روایتی رویہ اور طرزعمل ہے۔ ”خدا تمہیں معاف کرے، تم اس قدر غلیظ رسالے پڑھتے ہو!“

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں آج یکم ربیع الاول ،پاکستان میں بھی چاندنظر آنے کا امکان

معاشرتی تعلقات

مزید برآں معاشرتی تعلقات کے حوالے سے بھی آپ کو ہر موڑ پر احساس شرمندگی اور ندامت میں مبتلا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ”دادی اماں کے سامنے تم نے بہتی ناک کو بازو سے صاف کر کے مجھے میری نظروں میں ہی گرا دیا ہے۔”

یہ بھی پڑھیں: آپریشن غضب للحق: افغانستان کے اندر 46 مقامات پر مؤثر فضائی کارروائیاں، 415 افغان طالبان ہلاک، 580 سے زائد زخمی، 182 چیک پوسٹس تباہ

بچوں کی معذوری

ایک بچے میں اس قدر صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ وہ احساس شرمندگی اور ندامت کا شکار ہوئے بغیر معاشرتی تعلق داری قائم کر سکے۔ تاہم، اس کی یہ کوشش ناکام بنادی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یورپ ہمارے خلاف حملوں میں شریک ہونے سے باز رہے: ایران نے خبردار کر دیا

نتیجہ

اس ضمن میں والدین کی طرف سے ایک ایسا رویہ جو یہ ظاہر کرتا ہو کہ بچے کا رویہ اور طرزعمل کیوں ناپسندیدہ ہے، بہت ہی پراثر اور زبردست ہوتا ہے۔ جیسے کہ اگر ٹونی کو بتایا جاتا ہے کہ اس کے شوروغل کے باعث گفتگو میں خلل واقع ہو رہا ہے تو اس کے ذہن اور دل میں ندامت کے بیج بو دیئے جاتے ہیں۔

نوٹ

یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...