ہمسائے کیا سوچیں گے
مصنف اور مترجم
مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
مترجم: ریاض محمود انجم
قسط: 76
یہ بھی پڑھیں: سرور شاہدہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر سائنس ٹرسٹ کی لینڈ سائٹ پر تقریب کا انعقاد
شرمندگی اور ندامت کے جذبات
”تم نے ہمیں بے عزت کر دیا۔“ یہ ایک اور مؤثر اور اہم فقرہ ہے جس کے باعث آپ شرمندگی و ندامت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک اور فقرہ ”ہمسائے کیا سوچیں گے۔“ اس کے ذریعے والدین بیرونی عوامل کے ذریعے آپ کو شرمندگی اور ندامت میں مبتلا کرتے ہیں، اور آپ اپنے متعلق کچھ بھی نہیں سوچ سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومت نے ڈیجیٹل گورننس سسٹم کا آغاز کر دیا
تعلیمی دباؤ
والدین کا یہ رویہ ”اگر تم امتحان میں ناکام ہوئے تو خاندان میں ہماری ناک کٹ جائے گی“ آپ کی صلاحیتوں اور استعدادوں پر اس قدر گراں گزرتا ہے کہ آپ تعلیمی لحاظ سے پہلے سے بھی زیادہ کمزور ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کرنل ہاشم ڈوگر کا استحکام پاکستان پارٹی چھوڑنے کا اعلان
بیماری اور الزام
والدین اپنی بیماریوں کو بھی آپ کو شرمندگی و ندامت میں مبتلا رکھنے کے لیے بطور محرک استعمال کرتے ہیں: ”تم نے میرا فشار خون زیادہ کر دیا ہے“ یا ”تم مجھے مار دینا چاہتے ہو!“، ”تمہاری وجہ سے مجھ پر حملہ قلب ہوا۔“
یہ بھی پڑھیں: سوئی ناردرن گیس کے حصے داران نے مالی سال 2023-24 کے لیے تاریخ کا بلند ترین 75 فیصد نقد مقسوم منظور کر لیا
زندگی بھر کا بوجھ
چونکہ اس قسم کی ندامت و شرمندگی تمام عمر آپ کے ساتھ رہتی ہے، اس لیے آپ کے کاندھے بھی مضبوط اور بڑے ہونے چاہئیں۔ اگر آپ کے کاندھے بڑے اور مضبوط نہیں ہیں تو پھر یہ شرمندگی اور ندامت آپ کے والدین کی وفات تک جاری رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے وفد کی عمران خان سے مشاورت کیلیے اڈیالہ جیل آمد
جنسی اور رومانی تعلقات
جنسی معاملات یا رومانی تعلقات کے ضمن میں والدین کی طرف سے آپ کو شرمندگی و ندامت کے احساس میں مبتلا رہنے کا عمل ایک بہت ہی عمومی اور روایتی رویہ اور طرزعمل ہے۔ ”خدا تمہیں معاف کرے، تم اس قدر غلیظ رسالے پڑھتے ہو!“
یہ بھی پڑھیں: دبئی کی آبادی تاریخ کی بلند ترین سطح 40 لاکھ تک پہنچ گئی
معاشرتی تعلقات
مزید برآں معاشرتی تعلقات کے حوالے سے بھی آپ کو ہر موڑ پر احساس شرمندگی اور ندامت میں مبتلا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ”دادی اماں کے سامنے تم نے بہتی ناک کو بازو سے صاف کر کے مجھے میری نظروں میں ہی گرا دیا ہے۔”
یہ بھی پڑھیں: 9 سال سے لاپتہ ایم کیو ایم لندن کے کارکن کو ہر ممکن تلاش کرنے کا حکم
بچوں کی معذوری
ایک بچے میں اس قدر صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ وہ احساس شرمندگی اور ندامت کا شکار ہوئے بغیر معاشرتی تعلق داری قائم کر سکے۔ تاہم، اس کی یہ کوشش ناکام بنادی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات
نتیجہ
اس ضمن میں والدین کی طرف سے ایک ایسا رویہ جو یہ ظاہر کرتا ہو کہ بچے کا رویہ اور طرزعمل کیوں ناپسندیدہ ہے، بہت ہی پراثر اور زبردست ہوتا ہے۔ جیسے کہ اگر ٹونی کو بتایا جاتا ہے کہ اس کے شوروغل کے باعث گفتگو میں خلل واقع ہو رہا ہے تو اس کے ذہن اور دل میں ندامت کے بیج بو دیئے جاتے ہیں۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








