ہمسائے کیا سوچیں گے
مصنف اور مترجم
مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
مترجم: ریاض محمود انجم
قسط: 76
یہ بھی پڑھیں: ہماری صنعت میں ٹیلنٹ کی بجائے ظاہری خوبصورتی کو اہمیت ملتی ہے: عدنان شاہ ٹیپو
شرمندگی اور ندامت کے جذبات
”تم نے ہمیں بے عزت کر دیا۔“ یہ ایک اور مؤثر اور اہم فقرہ ہے جس کے باعث آپ شرمندگی و ندامت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک اور فقرہ ”ہمسائے کیا سوچیں گے۔“ اس کے ذریعے والدین بیرونی عوامل کے ذریعے آپ کو شرمندگی اور ندامت میں مبتلا کرتے ہیں، اور آپ اپنے متعلق کچھ بھی نہیں سوچ سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس چل بسے
تعلیمی دباؤ
والدین کا یہ رویہ ”اگر تم امتحان میں ناکام ہوئے تو خاندان میں ہماری ناک کٹ جائے گی“ آپ کی صلاحیتوں اور استعدادوں پر اس قدر گراں گزرتا ہے کہ آپ تعلیمی لحاظ سے پہلے سے بھی زیادہ کمزور ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹی کی وہ تصویر جو باپ کو جیل پہنچا گئی
بیماری اور الزام
والدین اپنی بیماریوں کو بھی آپ کو شرمندگی و ندامت میں مبتلا رکھنے کے لیے بطور محرک استعمال کرتے ہیں: ”تم نے میرا فشار خون زیادہ کر دیا ہے“ یا ”تم مجھے مار دینا چاہتے ہو!“، ”تمہاری وجہ سے مجھ پر حملہ قلب ہوا۔“
یہ بھی پڑھیں: پشاور: عدالت کا ڈی جی ایکسائز سمیت 8 اہلکاروں کی تنخواہ بند کرنے کا حکم
زندگی بھر کا بوجھ
چونکہ اس قسم کی ندامت و شرمندگی تمام عمر آپ کے ساتھ رہتی ہے، اس لیے آپ کے کاندھے بھی مضبوط اور بڑے ہونے چاہئیں۔ اگر آپ کے کاندھے بڑے اور مضبوط نہیں ہیں تو پھر یہ شرمندگی اور ندامت آپ کے والدین کی وفات تک جاری رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام حملہ، بھارتی یوٹیوبر دھرو راٹھی نے مودی حکومت کے فالس فلیگ آپریشن کو بے نقاب کردیا
جنسی اور رومانی تعلقات
جنسی معاملات یا رومانی تعلقات کے ضمن میں والدین کی طرف سے آپ کو شرمندگی و ندامت کے احساس میں مبتلا رہنے کا عمل ایک بہت ہی عمومی اور روایتی رویہ اور طرزعمل ہے۔ ”خدا تمہیں معاف کرے، تم اس قدر غلیظ رسالے پڑھتے ہو!“
یہ بھی پڑھیں: آرمی ایکٹ میں بنیادی ضابطہ موجود ہے مگر عام شہریوں کے لیے اپیل کے مناسب فورم کا فقدان ہے: سپریم کورٹ
معاشرتی تعلقات
مزید برآں معاشرتی تعلقات کے حوالے سے بھی آپ کو ہر موڑ پر احساس شرمندگی اور ندامت میں مبتلا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ”دادی اماں کے سامنے تم نے بہتی ناک کو بازو سے صاف کر کے مجھے میری نظروں میں ہی گرا دیا ہے۔”
یہ بھی پڑھیں: ایک دن کا جی ڈی پی نقصان 300 ارب، مفتاح اسماعیل نے ملک کی 3 بڑی جماعتوں کو اہم مشورہ دیدیا
بچوں کی معذوری
ایک بچے میں اس قدر صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ وہ احساس شرمندگی اور ندامت کا شکار ہوئے بغیر معاشرتی تعلق داری قائم کر سکے۔ تاہم، اس کی یہ کوشش ناکام بنادی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملبے کی زد میں آکر ایک ایشیائی باشندہ جاں بحق،ایرانی حملوں کا جواب دینے کا مکمل حق رکھتے ہیں: یواے ای
نتیجہ
اس ضمن میں والدین کی طرف سے ایک ایسا رویہ جو یہ ظاہر کرتا ہو کہ بچے کا رویہ اور طرزعمل کیوں ناپسندیدہ ہے، بہت ہی پراثر اور زبردست ہوتا ہے۔ جیسے کہ اگر ٹونی کو بتایا جاتا ہے کہ اس کے شوروغل کے باعث گفتگو میں خلل واقع ہو رہا ہے تو اس کے ذہن اور دل میں ندامت کے بیج بو دیئے جاتے ہیں۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








