ہمسائے کیا سوچیں گے
مصنف اور مترجم
مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
مترجم: ریاض محمود انجم
قسط: 76
یہ بھی پڑھیں: نصرت فتح علی خان کی گلوکاری سن کر مجھے بھگوان سے تعلق جڑتا محسوس ہوتا ہے، بالی ووڈ اداکارہ شہناز گل
شرمندگی اور ندامت کے جذبات
”تم نے ہمیں بے عزت کر دیا۔“ یہ ایک اور مؤثر اور اہم فقرہ ہے جس کے باعث آپ شرمندگی و ندامت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک اور فقرہ ”ہمسائے کیا سوچیں گے۔“ اس کے ذریعے والدین بیرونی عوامل کے ذریعے آپ کو شرمندگی اور ندامت میں مبتلا کرتے ہیں، اور آپ اپنے متعلق کچھ بھی نہیں سوچ سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: تھائی لینڈ کی سابقہ ملکہ 93 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں
تعلیمی دباؤ
والدین کا یہ رویہ ”اگر تم امتحان میں ناکام ہوئے تو خاندان میں ہماری ناک کٹ جائے گی“ آپ کی صلاحیتوں اور استعدادوں پر اس قدر گراں گزرتا ہے کہ آپ تعلیمی لحاظ سے پہلے سے بھی زیادہ کمزور ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری، حکومت نے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولائز کرنے کے لیے جامع پلان تیار کر لیا
بیماری اور الزام
والدین اپنی بیماریوں کو بھی آپ کو شرمندگی و ندامت میں مبتلا رکھنے کے لیے بطور محرک استعمال کرتے ہیں: ”تم نے میرا فشار خون زیادہ کر دیا ہے“ یا ”تم مجھے مار دینا چاہتے ہو!“، ”تمہاری وجہ سے مجھ پر حملہ قلب ہوا۔“
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا ؟
زندگی بھر کا بوجھ
چونکہ اس قسم کی ندامت و شرمندگی تمام عمر آپ کے ساتھ رہتی ہے، اس لیے آپ کے کاندھے بھی مضبوط اور بڑے ہونے چاہئیں۔ اگر آپ کے کاندھے بڑے اور مضبوط نہیں ہیں تو پھر یہ شرمندگی اور ندامت آپ کے والدین کی وفات تک جاری رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کویت میں امریکی لڑاکا طیارہ گر کر تباہ، ویڈیو وائرل
جنسی اور رومانی تعلقات
جنسی معاملات یا رومانی تعلقات کے ضمن میں والدین کی طرف سے آپ کو شرمندگی و ندامت کے احساس میں مبتلا رہنے کا عمل ایک بہت ہی عمومی اور روایتی رویہ اور طرزعمل ہے۔ ”خدا تمہیں معاف کرے، تم اس قدر غلیظ رسالے پڑھتے ہو!“
یہ بھی پڑھیں: ایرانی جوہری تنصیبات تباہ نہ ہونے کی رپورٹس پر ٹرمپ امریکی میڈیا پر برس پڑے
معاشرتی تعلقات
مزید برآں معاشرتی تعلقات کے حوالے سے بھی آپ کو ہر موڑ پر احساس شرمندگی اور ندامت میں مبتلا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ”دادی اماں کے سامنے تم نے بہتی ناک کو بازو سے صاف کر کے مجھے میری نظروں میں ہی گرا دیا ہے۔”
یہ بھی پڑھیں: ناقابل تردید شواہد فراہم کردیئے، 9 مئی واقعات کے کیسز کا جلد فیصلہ سنایا جائے، عطا تارڑ کی پریس کانفرنس
بچوں کی معذوری
ایک بچے میں اس قدر صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ وہ احساس شرمندگی اور ندامت کا شکار ہوئے بغیر معاشرتی تعلق داری قائم کر سکے۔ تاہم، اس کی یہ کوشش ناکام بنادی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ہمشیرہ عظمٰی خان کو ملاقات کی اجازت مل گئی
نتیجہ
اس ضمن میں والدین کی طرف سے ایک ایسا رویہ جو یہ ظاہر کرتا ہو کہ بچے کا رویہ اور طرزعمل کیوں ناپسندیدہ ہے، بہت ہی پراثر اور زبردست ہوتا ہے۔ جیسے کہ اگر ٹونی کو بتایا جاتا ہے کہ اس کے شوروغل کے باعث گفتگو میں خلل واقع ہو رہا ہے تو اس کے ذہن اور دل میں ندامت کے بیج بو دیئے جاتے ہیں۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








