کراچی سکھر موٹروے شروع کرنے تک تمام منصوبے روکیں، سینیٹ کمیٹی وزارت منصوبہ بندی پر برہم
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی نے حیدر آباد تا سکھر موٹروے کو دیگر منصوبوں پر ترجیح نہ دینے پر برہمی کا اظہار کیا۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ جب تک کراچی سکھر موٹروے شروع نہیں ہوتا، اس وقت تک تمام منصوبے روکنے چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے لوگ سڑکوں پر آگئے تو کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا: فاروق ستار
اجلاس کی تفصیلات
ڈان نیوز کے مطابق سینیٹر قرۃ العین مری کی صدارت میں اجلاس منعقد ہوا، جس میں حیدرآباد سکھر موٹروے منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو تحلیل کر کے ہائی ویز کو صوبوں کے حوالے کرنے کی تجویز دی۔
یہ بھی پڑھیں: جام کمال خان سے ایرانی سفیر کی ملاقات، تجارتی و اقتصادی تعاون کے فروغ پر اتفاق
مالی معاملات پر سوالات
سینیٹر قرۃ العین مری نے سوال کیا کہ اگر کراچی سکھر موٹروے کے لئے پیسے نہیں ہیں تو لاہور ساہیوال موٹروے پر پیسے کیسے خرچ کئے جا رہے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: 7 دوستوں کا 15 سال پرانا خواب پورا، برطانیہ کا سب سے قیمتی خزانہ دریافت
وزیر مملکت کا موقف
وزیر مملکت برائے پلاننگ نے کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ سب سے پہلی ترجیح کراچی اور سکھر کے درمیان موٹروے کو دینی چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ کہانی بنگلہ دیش کی ہے، مگر سوال ہم سب کے لیے ہے۔۔۔اگر جماعت اسلامی اقتدار میں آئی تو ہندو محفوظ نہیں رہیں گے؟
کمیٹی کی ہدایت
قائمہ کمیٹی نے دوبارہ ہدایت دی کہ سپرہائی وے کو ایم نائن سے منسوب نہ کیا جائے، اور ایم نائن کا نام صرف نئی تجویز کنندہ روڈ کو دیا جائے۔
سینیٹر فیصل سبزواری کی رائے
سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا کہ دنیا بھر میں موٹرویز کی شروعات بندرگاہوں سے کی جاتی ہیں مگر ہمارے ملک میں الٹی گنگا بہتی ہے۔








