کراچی سکھر موٹروے شروع کرنے تک تمام منصوبے روکیں، سینیٹ کمیٹی وزارت منصوبہ بندی پر برہم
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی نے حیدر آباد تا سکھر موٹروے کو دیگر منصوبوں پر ترجیح نہ دینے پر برہمی کا اظہار کیا۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ جب تک کراچی سکھر موٹروے شروع نہیں ہوتا، اس وقت تک تمام منصوبے روکنے چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد منتخب ہونے والے طارق رندھاوا کو انٹیلی جنس ایجنسی کے اہلکار اٹھا کر جہانگیر ترین کے پاس لے کر گئے: صدیق جان
اجلاس کی تفصیلات
ڈان نیوز کے مطابق سینیٹر قرۃ العین مری کی صدارت میں اجلاس منعقد ہوا، جس میں حیدرآباد سکھر موٹروے منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو تحلیل کر کے ہائی ویز کو صوبوں کے حوالے کرنے کی تجویز دی۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹے پر جادو ٹونے کا الزام، گینگ لیڈر کے ہاتھوں بزرگوں کا قتلِ عام، 184 افراد ہلاک
مالی معاملات پر سوالات
سینیٹر قرۃ العین مری نے سوال کیا کہ اگر کراچی سکھر موٹروے کے لئے پیسے نہیں ہیں تو لاہور ساہیوال موٹروے پر پیسے کیسے خرچ کئے جا رہے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: ایسے بزدلانہ حملے مجھے خاموش کرنے کے بجائے مزید مضبوط کریں گے، حملے کے بعد شہزاد اکبر کا پہلا بیان سامنے آگیا
وزیر مملکت کا موقف
وزیر مملکت برائے پلاننگ نے کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ سب سے پہلی ترجیح کراچی اور سکھر کے درمیان موٹروے کو دینی چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: موسیٰ خیل میں ہیضہ سے 8 افراد جاں بحق
کمیٹی کی ہدایت
قائمہ کمیٹی نے دوبارہ ہدایت دی کہ سپرہائی وے کو ایم نائن سے منسوب نہ کیا جائے، اور ایم نائن کا نام صرف نئی تجویز کنندہ روڈ کو دیا جائے۔
سینیٹر فیصل سبزواری کی رائے
سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا کہ دنیا بھر میں موٹرویز کی شروعات بندرگاہوں سے کی جاتی ہیں مگر ہمارے ملک میں الٹی گنگا بہتی ہے۔








