امریکہ کا چین پر 104 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان، چین کا شدید ردعمل، ہالی ووڈ فلموں پر ممکنہ پابندی کی بازگشت
صدر ٹرمپ کا نیا ٹیکس اعلان
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ بدھ کی صبح 12:01 بجے (ای ڈی ٹی) سے چین سے درآمد ہونے والی اشیاء پر کم از کم 104 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ یہ اقدام چین کی جانب سے امریکی مصنوعات پر 34 فیصد جوابی ٹیکس واپس نہ لینے کے فیصلے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دھی رانی پروگرام: خانیوال اور وہاڑی میں58جوڑوں کی اجتماعی شادی کا اہتمام ،تقریب سے صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ کا خطاب
چین اور امریکی تجارتی جنگ میں کشیدگی
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، چین اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی جنگ میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ دو معروف چینی بلاگرز، لیو ہونگ اور "چیئرمین ریبٹ" نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی حکام امریکی دباؤ کے خلاف جوابی اقدامات پر غور کر رہے ہیں جن میں ہالی ووڈ فلموں پر پابندی اور امریکی زرعی مصنوعات پر اضافی ٹیکس شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، 13 سالہ گھریلو ملازمہ کا ریپ، ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور، حاملہ لڑکی کا ڈی این اے کرانے کا حکم
چینی وزارت خارجہ کا جواب
جب چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سے ان بلاگرز کے دعووں کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا، "ہم عمومی طور پر آن لائن تبصروں پر ردعمل نہیں دیتے۔ ہم چین کے مؤقف کو واضح کر چکے ہیں۔ چین اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے مضبوط اقدامات کرتا رہے گا۔"
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 2100 روپے کی بڑی کمی
ٹرمپ کا ٹیکس بڑھانے کا اعلان
گزشتہ ہفتے، صدر ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر پہلے سے موجود 20 فیصد ٹیکس کے ساتھ مزید 34 فیصد ٹیکس کا اعلان کیا تھا۔ چین نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اتنی ہی شرح کا ٹیکس امریکی مصنوعات پر لگا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کا ویزہ ختم ہونے پرغیرقانونی مقیم طلبا کو ملک بدر کرنے کا اعلان ،سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی
امریکہ کی جانب سے مزید دھمکیاں
ٹرمپ نے پیر کے روز اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں چین کو خبردار کیا کہ اگر وہ منگل، 8 اپریل 2025 تک اپنا 34 فیصد جوابی ٹیکس واپس نہ لے، تو امریکہ 50 فیصد اضافی ٹیکس عائد کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی واضح طور پر قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں: بیرسٹر عقیل ملک
مزید ٹیکس کے اثرات
ان کا کہنا تھا، "اگر چین کل تک اپنی 34 فیصد جوابی ٹیکس کی دھمکی واپس نہیں لیتا، تو ہم 9 اپریل سے مزید 50 فیصد ٹیکس عائد کر دیں گے۔ ساتھ ہی چین کے ساتھ تمام مذاکرات بھی معطل کر دیے جائیں گے۔" اگر یہ ٹیکس مکمل طور پر نافذ ہو گیا تو امریکی کمپنیوں کے لیے چینی مصنوعات پر مجموعی ٹیکس 104 فیصد تک جا پہنچے گا۔
چین کا ردعمل
منگل کی صبح چین کی وزارتِ تجارت نے امریکی دھمکی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا، "چین پر ٹیکس بڑھانے کی امریکی دھمکی ایک کے بعد ایک غلطی ہے، جو امریکہ کی بلیک میلنگ پالیسی کو بے نقاب کرتی ہے۔ چین اسے کبھی قبول نہیں کرے گا۔ اگر امریکہ نے ضد جاری رکھی تو چین بھی آخری حد تک جائے گا۔"








