عمر ایوب کے حلقے میں دھاندلی کی تحقیقات کیلئے الیکشن کمیشن کی کارروائی کے خلاف فیصلہ محفوظ
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے حلقے این اے 18 ہری پور میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے الیکشن کمیشن کی کارروائی کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی ڈی (PID) اور پاکستان بزنس کونسل شارجہ کے درمیان معاہدہ
سماعت کا آغاز
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے درخواست پر سماعت کی، الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی اور عمر ایوب کے وکیل نے دلائل دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کی 78 سالہ سیاسی تاریخ میں ایسے حالات کبھی بھی نہیں تھے، جو پچھلے ڈیڑھ سال میں خراب ہوئے، سردار تنویر الیاس
عمر ایوب کے وکیل کے دلائل
وکیل عمر ایوب نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے درخواست پر 60 دنوں میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور 60 دن گزرنے کے بعد الیکشن کمیشن میں کارروائی غیر قانونی ہے۔ عمر ایوب بھاری مارجن سے الیکشن جیتے تھے، عمر ایوب کی جیت کو مخالف امیدوار نے بھی مانا اور خود ٹویٹ بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: خون کا پیاسا نیٹ ورک: غزہ کے بعد ایران اور لبنان میں بھی سکولوں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنا رہا ہے: طیب اردوان
الیکشن کمیشن کے وکیل کا موقف
وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ عمر ایوب نے الیکشن کے روز پہلے خود دھاندلی کی شکایت کی، شام کو جب عمر ایوب جیت گئے تو مخالف امیدوار نے بھی دھاندلی کی شکایت درج کروائی۔ الیکشن کمیشن نے جب دونوں درخواستوں پر کارروائی شروع کی تو عمر ایوب رٹ میں ہائیکورٹ آ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ سے ایمان مزاری، ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی 2 روزہ حفاظتی ضمانت منظور
عدالت کے فیصلے کا عمل
الیکشن کمیشن کے وکیل نے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن نے تاحال کوئی کارروائی یا آرڈر جاری نہیں کیا لہٰذا درخواست خارج کی جائے۔ بعدازاں عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عمر ایوب کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: گوجرانوالہ کے 165 مستحق جوڑوں کی شادی، ’’دھی رانی پروگرام‘‘ نے معاشرتی ناہمواریوں کا خاتمہ کیا : صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ
الیکشن کمیشن کی کارروائی کا چیلنج
یاد رہے کہ عمر ایوب نے این اے 18 ہری پور میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے الیکشن کمیشن کی کارروائی اور 10 جولائی کے آرڈر کو چیلنج کیا تھا۔
سابق چیف جسٹس کی مداخلت
سابق چیف جسٹس عامر فاروق نے الیکشن کمیشن کی کارروائی پر حکم امتناع جاری کیا تھا، عدالت نے الیکشن کمیشن، این اے 18 کے ریٹرننگ افسر، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر اور بابر نواز خان سے جواب طلب کیا تھا۔








