عمر ایوب کے حلقے میں دھاندلی کی تحقیقات کیلئے الیکشن کمیشن کی کارروائی کے خلاف فیصلہ محفوظ
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے حلقے این اے 18 ہری پور میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے الیکشن کمیشن کی کارروائی کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی کے حکمران شیخ محمد کے پوتے نے برطانیہ میں بڑی کامیابی حاصل کرلی
سماعت کا آغاز
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے درخواست پر سماعت کی، الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی اور عمر ایوب کے وکیل نے دلائل دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: سینئر صحافی محسن بیگ نے حکومت کے معاشی اشاریوں میں بہتری کے دعووں پر سوالات اٹھا دیئے
عمر ایوب کے وکیل کے دلائل
وکیل عمر ایوب نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے درخواست پر 60 دنوں میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور 60 دن گزرنے کے بعد الیکشن کمیشن میں کارروائی غیر قانونی ہے۔ عمر ایوب بھاری مارجن سے الیکشن جیتے تھے، عمر ایوب کی جیت کو مخالف امیدوار نے بھی مانا اور خود ٹویٹ بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا شہزادہ محمدبن سلمان سے ہنگامی رابطہ، سعودی حمایت کا اعادہ
الیکشن کمیشن کے وکیل کا موقف
وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ عمر ایوب نے الیکشن کے روز پہلے خود دھاندلی کی شکایت کی، شام کو جب عمر ایوب جیت گئے تو مخالف امیدوار نے بھی دھاندلی کی شکایت درج کروائی۔ الیکشن کمیشن نے جب دونوں درخواستوں پر کارروائی شروع کی تو عمر ایوب رٹ میں ہائیکورٹ آ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی گفتگو کو انکی ہدایت کے مطابق بیان کرنا بہنوں کا فرض ہے، کوئی ان کو اس فرض کی ادائیگی سے نہیں روک سکتا، سلمان اکرم راجا
عدالت کے فیصلے کا عمل
الیکشن کمیشن کے وکیل نے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن نے تاحال کوئی کارروائی یا آرڈر جاری نہیں کیا لہٰذا درخواست خارج کی جائے۔ بعدازاں عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عمر ایوب کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج کے کرنل کا اپنے اعلیٰ افسران پر اہلیہ سے زیادتی کا الزام
الیکشن کمیشن کی کارروائی کا چیلنج
یاد رہے کہ عمر ایوب نے این اے 18 ہری پور میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے الیکشن کمیشن کی کارروائی اور 10 جولائی کے آرڈر کو چیلنج کیا تھا۔
سابق چیف جسٹس کی مداخلت
سابق چیف جسٹس عامر فاروق نے الیکشن کمیشن کی کارروائی پر حکم امتناع جاری کیا تھا، عدالت نے الیکشن کمیشن، این اے 18 کے ریٹرننگ افسر، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر اور بابر نواز خان سے جواب طلب کیا تھا۔








