اوورسیز پی ٹی آئی کی اسٹیبلشمنٹ سے انگیجمنٹ کی کوشش، اپنی صفوں کو صاف کرنے کی ضرورت
عمران خان کی رہائی کی کوششیں
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لئے امریکا میں پی ٹی آئی سے وابستہ افراد اپنی ذاتی حیثیت میں اس بات پر قائل ہیں کہ انگیجمنٹ کے سوا کوئی راستہ نہیں، معاملہ بلآخر مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: نظام المدارس پاکستان کے بورڈ آف گورنرز کا سالانہ اجلاس،مختصر عرصہ میں انقلابی تدریسی اصلاحات کیں:خرم نواز گنڈاپور
عاطف خان کی رائے
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے عالمی امور عاطف خان نے اس نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'پارٹی میں شامل بعض ایسے لیڈر جو انگیجمنٹ کے مخالف ہیں وہ نہیں چاہتے کہ خان رہا ہو۔ انہیں اپنی سیاسی دکان بند ہونے اور سوشل میڈیا پر ویوز ختم ہونے کا ڈر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی شعلہ بیانی سے درجہ حرارت کم ہونے نہیں دے رہے۔'
یہ بھی پڑھیں: وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان رجیم کے ایک اور جھوٹ کا پردہ فاش کر دیا
پاکستان میں انگیجمنٹ بڑھانے کا عزم
عاطف خان نے کہا کہ وہ خود پاکستان آکر انگیجمنٹ بڑھانے کے لئے تیار ہیں اور بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کرنیوالے ڈاکٹر منیر، ڈاکٹر سائرہ بلال اور عثمان ملک کی حوصلہ افزائی کی تھی کہ وہ برف پگھلانے کے لئے کردار ادا کریں۔ عاطف خان پی ٹی آئی کے وہ ینگ لیڈر ہیں جنہوں نے بچپن میں شوکت خانم ہسپتال کیلئے کام کیا۔
یہ بھی پڑھیں: خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای خیریت سے ہیں، سی این این
ڈاکٹر وفد کے بارے میں سجاد برکی کا موقف
عاطف خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی آرگنائزیشن آف انٹرنیشنل چیپٹرز کے سیکرٹری سجاد برکی نے انہیں ابتدا میں خبردار کیا تھا کہ ڈاکٹروں کا وفد پاکستان بھیجنا مناسب نہیں ہے، تاہم ڈاکٹروں کے واپس آنے کے بعد سجاد برکی بھی اس بات کے قائل ہیں کہ یہ درست اقدام تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے 5 بڑے شہروں میں ’’سُکھ دا ویہڑا‘‘ فیملی کمپلیکس کے قیام کافیصلہ
ڈاکٹروں کے وفد کا ماضی
پی ٹی آئی امریکا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں کے وفد کو پاکستان بھیجنے میں اہم کردار ادا کرنے والے امریکن پاکستانی کاروباری شخصیت تنویر احمد نے کہا کہ ان کا اقدام نیک نیتی پر مبنی تھا۔ وفد میں شریک ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ معاملات بہتری کی جانب بڑھیں۔
یہ بھی پڑھیں: چکن کی فی کلو قیمت میں 100 روپے کا حیران کن اضافہ
سوشل میڈیا کا کردار
تنویر احمد نے کہا کہ اصل معاملہ پی ٹی آئی کے نام نہاد حامی سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے بگاڑا۔ انہیں یقین ہوگیا تھا کہ اگر وفد کی ملاقاتیں نتیجہ خیز ہوئیں تو ان کے تجزیوں اور تبصروں سے مرچ مصالحہ غائب ہوجائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: میری بات کو توڑ مروڑ کر یوں پیش کیا گیا جیسے میں نے کوئی دھمکی دی ہو، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی ایمان مزاری سے متعلق ریمارکس پر وضاحت
پی ٹی آئی کے ڈونرز کی تشویش
پی ٹی آئی کے ایک ڈونر نے دعویٰ کیا کہ کپتان جب تک جیل میں ہے، بعض پارٹی رہنماﺅں کی آمدنی کا اہم ذریعہ چندہ ہے جو وہ مختلف مد میں جمع کررہے ہیں۔ یہ خطرناک رجحان ہے کہ چیزیں درست سمت میں جارہی ہوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے اثر ڈال کر رُخ موڑ دیا جائے۔
اختتام
امریکا میں پی ٹی آئی کے ایک رہنما کے بقول، ذاتی مفاد کی چھری پارٹی مفاد کے گلے پر پھیری جارہی ہے جس سے پی ٹی آئی کے اوورسیز حامی بد دل ہورہے ہیں۔








