سلام دعا کے بعد میں نے کہا “سر! آپ بہت کم ظرف انسان ہیں” ان کے چہرے سے مسکراہٹ یوں غائب ہوئی جیسے کبھی آئی ہی نہیں تھی.
مصنف کی تفصیلات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 134
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے حلف اٹھا لیا، کارکنوں کی بڑی تعداد میں شرکت، نعرے بازی، دھکم پیل
سروسز کارپوریشن میں تجربات
میرے بہنوئی مجاہد بھائی کے سروس کارپوریشن کے مالک ذوالفقار اعوان کے ساتھ بہت اچھے مراسم تھے کہ ان کا چھوٹا بھائی بھائی جان مجاہد کے ماتحت بینک میں رہا تھا۔ ان کی وساطت سے مجھے یہاں گریڈ تھری کی ملازمت مل گئی تھی۔ ماہانہ تنخواہ 1850 روپے مقرر ہوئی جو اس گریڈ میں سب سے زیادہ تھی۔ میری تعیناتی کارپوریشن کے ہیڈ آفس لبرٹی مارکیٹ میں ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کابینہ نے آئینی ترمیم سے متعلق کس کے مسودے کی منظوری دی؟ مصدق ملک نے بتا دیا
ہیڈ آفس کی ماحول
ہیڈ آفس میں خواتین بھی تھیں جن میں مسز زاہدہ فنانس کی انچارج اور کارپوریشن میں ان کا بڑا اثر و رسوخ تھا۔ چیئرمین کی سیکرٹری مس نائیلہ خوبصورت لڑکی تھی جبکہ دو تین اور لڑکیاں بھی تھیں۔ چند دنوں بعد مجھے لگا جیسے نائیلہ کی مجھ میں کوئی دلچسپی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: شوہر کی لاش کے سامنے بیٹھی حاملہ خاتون نے ہسپتال کے عملے سے خون آلود بستر صاف کروانے کی کہانی سنائی، ویڈیو وائرل ہو گئی
آڈٹ ڈیپارٹمنٹ میں تجرباتی سفر
میری تعیناتی آڈٹ ڈیپارٹمنٹ میں ہوئی تھی جس کے سربراہ بہاول پور کے رہنے والے شریف اور لکھنوی اردو بولنے والے قریشی صاحب تھے۔ آڈٹ کے لئے چند بار اُن کے ساتھ دوسرے شہروں میں جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ ایک روز میں نے بھی ان سے لکھنو کی اردو بولنے کا ارادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے طریقہ کار کے خلاف دائر درخواستیں سماعت کے لیے مقرر
شرمندگی کا لمحہ
وہ دفتر آئے اور ہمیشہ کی طرح مسکراہٹ ان کے چہرے پر تھی۔ سلام دعا کے بعد میں نے کہا؛ "سر! آپ بہت کم ظرف انسان ہیں۔" ان کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی اور بولے؛ "میاں! ابھی تم نے کیا کہا۔ ذرا دوہرانا اپنا فقرہ۔" ان کی مہربانی، انہوں نے میری معذرت قبول کی، اور میں نے لکھنوی اردو بولنے سے ہمیشہ کے لئے معذرت کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: چاقو سے کٹنے کے بعد بھی کام کرنے والی بیٹری تیار، ایک چارج میں کتنے دن چل سکتی ہے؟ سائنسدانوں نے بڑی کامیابی حاصل کرلی
کرکٹ ٹیم کی شمولیت
سروس کارپوریشن کی کرکٹ ٹیم نئی نئی بنی تھی۔ میری اس ٹیم میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ ایک روز نائیلہ میرے پاس آئی اور بولی؛ "آپ کرکٹ نہیں کھیلتے؟" میں نے کہا؛ "کھیلتا ہوں پر تم کیوں پوچھ رہی ہو؟" اس نے مجھے بتایا کہ ہیڈ آفس کی ٹیم بنی ہے اور اگر میں بھی شامل ہو جاؤں تو مزا آئے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کرم حملے کی عینی شاہدی: ‘گولیاں اور راکٹ کہاں سے پھینکے جارہے تھے، کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا’
کپتان کا اعزاز
ایک روز نیٹ پر وحدت کالونی گراؤنڈ چلا گیا۔ وہاں کارپوریشن کے چیئرمین ذوالفقار اعوان بھی موجود تھے۔ مجھے کھیلتا دیکھ کر خوش ہوئے اور ٹیم کا کپتان بنا دیا۔ اگلے روز نائیلہ بہت خوش تھی اور اس نے مجھے مبارک باد دی۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان ڈیڑھ سال کیلئے وزیراعظم بن سکتے ہیں‘ تہلکہ خیز دعویٰ
ذوالفقار اعوان کی شخصیت
ذوالفقار اعوان صاحب سروس کارپوریشن کی ٹیم بنا کر فرسٹ کلاس کرکٹ میں حصہ لینا چاہتے تھے۔ بعد میں وہ مسلم لیگ کی ٹکٹ پر ایم پی اے بھی منتخب ہوئے تھے۔ میرا اس سکینڈل سے پہلے ہی یہ کارپوریشن چھوڑ چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: 1 ہزار 400 کلو ایکسپائر فروزن گوشت تلف
یادگار لمحات
میری والدہ ساری عمر شعیب کو دعائیں دیتی رہیں۔ ذوالفقار اعوان بھی پیسے کے لین دین میں ہی قتل ہوئے تھے۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








