بچوں کی ماں نے مذہب تبدیل کر کے 12 ویں جماعت کے نوجوان سے شادی کر لی
بھارت میں نیا شادی کا واقعہ
ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن )بھارت میں 3 بچوں کی ماں نے بارہویں جماعت کے طالب علم کی محبت میں گرفتار ہو کر مذہب تبدیل کرکے شادی کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: 3سالہ بچی کا فضائی آلودگی پر قابو نہ پانے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع
واقعے کی تفصیلات
بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق یہ واقعہ ریاست اترپردیش کے ضلع امروہا کے مندر میں پیش آیا جہاں شبنم نامی خاتون نے ہندو مذہب اختیار کرکے نوجوان طالب علم سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کا فیصلہ کیا۔ حسن پور کے سرکل افسر دیپ کمار پنت نے بتایا کہ خاتون نے اپنا پرانا نام شبنم چھوڑ کر نیا نام شیوانی رکھ لیا ہے۔ شبنم اس سے قبل 2 مرتبہ شادی کر چکی ہے اور اس کے والدین حیات نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میں نے پاک بھارت جنگ سمیت 7 جنگیں رکوائی ہیں، اس دوران اقوام متحدہ کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
مذہب کی تبدیلی کے قوانین
رپورٹ کے مطابق اترپردیش میں مذہب کی تبدیلی کے حوالے سے سخت قوانین نافذ ہیں، یو پی پروہبیشن آف ان لاء فل کنورژن آف ریلیجن ایکٹ 2021 کے تحت کسی کو دھوکے یا جبر کے ذریعے مذہب بدلنے سے روکا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف سے ایک ارب 2کروڑ30لاکھ ڈالر موصول
پولیس کی کارروائی
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاہم اب تک کسی بھی فریق کی طرف سے کوئی باقاعدہ شکایت درج نہیں کروائی گئی ہے۔ شبنم نے اپنی پہلی شادی میرٹھ میں کی تھی جو بعد ازاں طلاق پر ختم ہو گئی تھی جب کہ دوسری شادی اس نے توفیق نامی شخص سے کی جو گاؤں سیداں والی کا رہائشی ہے، توفیق ایک حادثے کے باعث 2011 میں معذور ہو چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: انگلینڈ میں پولیس کو چکمہ دے کر دکان سے پرفیوم چوری کرنے والی خاتون کو دلچسپ سزا سنا دی گئی
نئی زندگی کا آغاز
شیوانی نے کچھ عرصہ قبل 12 ویں جماعت کے طالب علم سے تعلقات استوار کیے اور بلآخر توفیق سے علیحدگی اختیار کرکے ہندو مذہب اپنا لیا۔
خاندانی حمایت
نوجوان طالب علم کے والد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے فیصلے کے حامی ہیں اور اگر دونوں ایک ساتھ خوش ہیں تو خاندان بھی ان کے ساتھ ہے۔ ہم بس یہی چاہتے ہیں کہ دونوں خوش حال زندگی گزاریں۔








