بلوچستان: گندم کی بوریوں کے خوردبرد ہونے کے 2 سکینڈل سامنے آگئے
گندم کی بوریوں کی چوری کے سکینڈل
کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان کے محکمہ خوراک میں گندم کی بوریوں کے خوردبرد ہونے کے 2 سکینڈل سامنے آگئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا بیوروکریسی سے دفعہ 144 اور کرفیو نافذ کرنے کا اختیار واپس لینے کا فیصلہ
اینٹی کرپشن کی کارروائی
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق محکمہ اینٹی کرپشن نے کوئٹہ میں محکمہ خوراک کے گوداموں سے 2018 بوریاں گندم چوری کرنے والے 5 اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے 3 اہلکاروں کو گرفتار کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر وردا کیس میں سنسنی خیز انکشافات: قتل کا سودا ایک کروڑ میں کرنے کا انکشاف
چوری کی تفصیلات
ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن عبدالوحد کاکڑ نے جیو نیوز کو بتایا کہ کوئٹہ کے وائٹ روڈ اور سپنی روڈ پر واقع محکمہ خوراک کے گوداموں سے 2 کروڑ 30 لاکھ روپے مالیت کی 2018 بوریاں گندم چوری کرکے بغیر کسی قانونی دستاویزات کے فلور ملز کو بھجوائی جارہی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اپنا پیارا وطن ہے جہاں کچھ لوگوں کو ریل گاڑی میں کسی پنجرے میں قید زرافے کی طرح کھڑکی یا دروازے سے گردن باہر نکالے بنا چین نہیں پڑتا
تحقیقات کا آغاز
ضلعی انتظامیہ کی درخواست پر محکمہ خوراک میں گندم کی چوری کی تحقیقات مکمل کرکے ڈائریکٹر ایڈمن محکمہ خوراک سلمان کاکڑ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسلم شاہ اور 3 اہلکاروں عبدالمتین، علاو¿ الدین اور سلیم کے خلاف مقدمہ درج کرکے 3 اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا۔
مزید تحقیقات
ڈی جی اینٹی کرپشن نے بتایا کہ محکمہ خوراک ژوب کے گوداموں سے 4885 بوریاں گندم غائب کئے جانے کے سکینڈل کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد 2 اہلکاروں محمد اعظم اور ظفر اچکزئی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا اور ان کی گرفتاری کےلئے مختلف ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں۔








