بلوچستان: گندم کی بوریوں کے خوردبرد ہونے کے 2 سکینڈل سامنے آگئے
گندم کی بوریوں کی چوری کے سکینڈل
کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان کے محکمہ خوراک میں گندم کی بوریوں کے خوردبرد ہونے کے 2 سکینڈل سامنے آگئے۔
یہ بھی پڑھیں: خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر
اینٹی کرپشن کی کارروائی
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق محکمہ اینٹی کرپشن نے کوئٹہ میں محکمہ خوراک کے گوداموں سے 2018 بوریاں گندم چوری کرنے والے 5 اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے 3 اہلکاروں کو گرفتار کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر زلزلے کے جھٹکے
چوری کی تفصیلات
ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن عبدالوحد کاکڑ نے جیو نیوز کو بتایا کہ کوئٹہ کے وائٹ روڈ اور سپنی روڈ پر واقع محکمہ خوراک کے گوداموں سے 2 کروڑ 30 لاکھ روپے مالیت کی 2018 بوریاں گندم چوری کرکے بغیر کسی قانونی دستاویزات کے فلور ملز کو بھجوائی جارہی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: کومل میر نے کاسمیٹک سرجری اور وزن میں اضافے پر خاموشی توڑ دی
تحقیقات کا آغاز
ضلعی انتظامیہ کی درخواست پر محکمہ خوراک میں گندم کی چوری کی تحقیقات مکمل کرکے ڈائریکٹر ایڈمن محکمہ خوراک سلمان کاکڑ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسلم شاہ اور 3 اہلکاروں عبدالمتین، علاو¿ الدین اور سلیم کے خلاف مقدمہ درج کرکے 3 اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا۔
مزید تحقیقات
ڈی جی اینٹی کرپشن نے بتایا کہ محکمہ خوراک ژوب کے گوداموں سے 4885 بوریاں گندم غائب کئے جانے کے سکینڈل کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد 2 اہلکاروں محمد اعظم اور ظفر اچکزئی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا اور ان کی گرفتاری کےلئے مختلف ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں۔








