اسرائیلی حملے میں مزید درجنوں فلسطینی شہید، ملبے تلے چیخیں سنائی دیتی رہیں
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملہ
غزہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی فضائی حملے میں غزہ کے علاقے شجاعیہ میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بچوں سمیت کم از کم 38 فلسطینی شہید ہوگئے، جبکہ درجنوں افراد زخمی اور لاپتا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جنوب مشرقی ایشیا میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 1300 سے تجاوز کر گئیں
حملے کی تفصیلات
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا کہ غزہ شہر کے مشرقی مضافات میں ایک کثیر المنزلہ عمارت پر کیے گئے اس حملے میں 29 افراد موقع پر جاں بحق ہوئے، جبکہ 80 کے قریب افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ طبی عملے کا کہنا ہے کہ قریبی مکانات بھی تباہ ہو چکے ہیں، ملبے تلے چیخیں سنائی دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز سے بیلا روس کے سفیر کی ملاقات، پنجاب میں الیکٹرک بس پراجیکٹ میں معاونت کی پیشکش
مزید ہلاکتیں اور بمباری
علاقے کے دیگر حصوں میں بھی اسرائیلی بمباری جاری رہی، جہاں مزید 9 فلسطینی شہید ہوئے، جس سے صرف بدھ کے روز شہادتوں کی مجموعی تعداد 38 ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: نوبیل امن انعام: اعزاز ناقابلِ منتقلی اور ناقابلِ تنسیخ ، نوبیل کمیٹی کی وضاحت
جنگ بندی کے ستائے فلسطینی
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 18 مارچ کو جنگ بندی ختم ہونے کے بعد صرف تین ہفتوں میں 1500 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے، جبکہ اکتوبر 2023 سے اب تک 50,800 سے زائد فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں زمین بوس ہونے والی عمارت میں کتنے خاندان رہائش پذیر تھے؟ علاقہ مکین کا اہم بیان
انخلا کا حکم
ادھر اسرائیل نے غزہ کے رہائشیوں کو انکلیو کے کئی علاقوں سے انخلا کا حکم دیا ہے، جس پر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فلسطینیوں کو مستقل طور پر بے دخل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں فیض کی مشہور نظم ’ہم دیکھیں گے‘ گانا ’بغاوت‘ قرار، ایک تقریب کے منتظمین کے خلاف مقدمہ درج۔
جنگ بندی کی کوششیں
دوسری جانب قطر، مصر اور امریکا کی حمایت سے جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں مگر اب تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
اقوام متحدہ کا انتباہ
اقوام متحدہ کی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے پیرس میں ایک تقریب سے خطاب میں خبردار کیا ہے کہ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو اسرائیل تشدد جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو پر جنگی جرائم کے مقدمات کا خدشہ ہے، اس لئے وہ حملے جاری رکھ کر احتساب سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔








