اسرائیلی حملے میں مزید درجنوں فلسطینی شہید، ملبے تلے چیخیں سنائی دیتی رہیں
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملہ
غزہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی فضائی حملے میں غزہ کے علاقے شجاعیہ میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بچوں سمیت کم از کم 38 فلسطینی شہید ہوگئے، جبکہ درجنوں افراد زخمی اور لاپتا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریا: سکول میں فائرنگ سے مرنیوالوں کی تعداد میں اضافہ، چانسلر نے ’’قومی سانحہ‘‘ قرار دیدیا
حملے کی تفصیلات
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا کہ غزہ شہر کے مشرقی مضافات میں ایک کثیر المنزلہ عمارت پر کیے گئے اس حملے میں 29 افراد موقع پر جاں بحق ہوئے، جبکہ 80 کے قریب افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ طبی عملے کا کہنا ہے کہ قریبی مکانات بھی تباہ ہو چکے ہیں، ملبے تلے چیخیں سنائی دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی چوری کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا جائے: سی ای او لیسکو و دیگر عہدیداران کا سیمینار سے خطاب
مزید ہلاکتیں اور بمباری
علاقے کے دیگر حصوں میں بھی اسرائیلی بمباری جاری رہی، جہاں مزید 9 فلسطینی شہید ہوئے، جس سے صرف بدھ کے روز شہادتوں کی مجموعی تعداد 38 ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ریاست مونٹانا ایئر پورٹ پر طیارہ لینڈنگ کے دوران رن وے پر کھڑے دوسرے طیارے سے ٹکرا گیا
جنگ بندی کے ستائے فلسطینی
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 18 مارچ کو جنگ بندی ختم ہونے کے بعد صرف تین ہفتوں میں 1500 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے، جبکہ اکتوبر 2023 سے اب تک 50,800 سے زائد فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سوریا کمار سے متعلق بیان پر بالی ووڈ اداکارہ نے وضاحت پیش کردی
انخلا کا حکم
ادھر اسرائیل نے غزہ کے رہائشیوں کو انکلیو کے کئی علاقوں سے انخلا کا حکم دیا ہے، جس پر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فلسطینیوں کو مستقل طور پر بے دخل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں سونا سستا، پاکستان میں کیا صورتحال رہی؟جانیے
جنگ بندی کی کوششیں
دوسری جانب قطر، مصر اور امریکا کی حمایت سے جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں مگر اب تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
اقوام متحدہ کا انتباہ
اقوام متحدہ کی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے پیرس میں ایک تقریب سے خطاب میں خبردار کیا ہے کہ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو اسرائیل تشدد جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو پر جنگی جرائم کے مقدمات کا خدشہ ہے، اس لئے وہ حملے جاری رکھ کر احتساب سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔








