این اے 241 مبینہ دھاندلی کیس، الیکشن کمیشن و دیگر سے دلائل طلب
سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ ہائی کورٹ نے این اے 241 کے نتائج میں مبینہ دھاندلی سے متعلق کیس کی اگلی سماعت پر الیکشن کمیشن سمیت دیگر سے دلائل طلب کر لیے۔
یہ بھی پڑھیں: بیسیوں انجن مختلف گاڑیوں کو اپنے پیچھے لگائے تیار مگر ساکت حالت میں اِدھر اْدھر کھڑے تھے،ہال میں گہرا سناٹا تھا اور کم روشنی میں بڑا ہی پراسرار ماحول تھا
پاکستان تحریک انصاف کی درخواست
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق این اے 241 میں مبینہ انتخابی دھاندلی سے متعلق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان کی الیکشن پٹیشن کی منتقلی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: نو منتخب ارکان اسمبلی نے ضمنی الیکشن میں اپنی فتح کو وزیراعلیٰ مریم نواز کی محنت کا ثمر قرار دیدیا
عدالت کا استفسار
عدالت نے استفسار کیا کہ الیکشن ٹریبونل کے قیام کے طریقہ کار میں ترمیم سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کہاں ہے؟ جس کے جواب میں درخواست گزار کے وکیل نے کہا ہے کہ عدالت نے قرار دیا کہ الیکشن ٹریبونلز کو ریگولیٹ کرنا ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر حملہ، صدر ٹرمپ کا بیان بھی آ گیا
عدالت کے ریمارکس
عدالت کی جانب سے ریمارکس میں کہا گیا ہے کہ پہلے ہم یہ دیکھیں گے کہ یہ معاملہ ہمارے دائرہ اختیار میں آتا ہے یا نہیں، ٹریبونلز کا قیام چیف جسٹس ہائی کورٹس کی مشاورت سے کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ نے ”پرواز کارڈ“ کا افتتاح کر دیا، 3 لاکھ روپے بلاسود دینے کا اعلان، ایسے پنجاب کا خواب دیکھتی ہوں جہاں ہر چیز پر ”میڈ ان پنجاب“ لکھا ہو: مریم نواز
الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار
عدالت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن ہائی کورٹ کے انتظامی دائرہ اختیار میں نہیں آتا، الیکشن ٹریبونل کے قیام سے قبل عدالت مداخلت نہیں کرتی ہے، جس کے جواب میں درخواست گزار کے وکیل نے کہا ہے کہ الیکشن پٹیشن کی منتقلی الیکشن پراسس کا حصہ نہیں، اس لیے عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر میں دریائے چناب پر دنیا کے سب سے اونچے ریلوے پل کا افتتاح کردیا
قائم مقام چیف جسٹس کا بیان
سماعت کے دوران قائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ ججز کو پسند نا پسند کی بنیاد پر منتخب کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: این اے ۱۸ ہری پور ضمنی انتخاب، ۲۲ پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق ن لیگی امیدوار آگے
نظامِ انصاف پر اعتماد
قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ ججز پر اعتماد ہونا چاہیے ورنہ یہ سسٹم نہیں چلے گا، اب نیا طریقہ شروع ہو گیا ہے، جج کے خلاف ریفرنس فائل کر کے رجسٹرار کو کہا جاتا ہے ہمارے کیسز اس جج کے سامنے نہ لگائے جائیں۔
سماعت کی ملتوی
اس کے ساتھ ہی وکیل درخواست گزار علی لاکھانی ایڈووکیٹ کے دلائل مکمل ہو گئے، عدالت نے درخواست کی سماعت 8 مئی تک ملتوی کر دی۔








