مارک کارنی کی غزہ میں جاری نسل کشی کی مخالفت، نیتن یاہو سیخ پا
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کینیڈین ہم منصب سے ردعمل
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اپنے کینیڈین ہم منصب مارک کارنی کی غزہ میں جاری نسل کشی کی مخالفت پر سیخ پا ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: محمد شہزاد بٹ، حاجی محمد اسحاق اور شہناز اختر کے انتقال پر تعزیتی ریفرنس کا انعقاد
سوشل میڈیا پر بیان
روز نامہ جنگ کے مطابق، انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ شیئر کرکے کینیڈا کے وزیرِ اعظم سے اپنے بیان سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ بھی کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: خلیج میں امریکی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا، دھواں اٹھ رہا ہے: ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ
نیتن یاہو کا بیان
یکس پر شیئر کی گئی پوسٹ میں نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ کینیڈا نے ہمیشہ سویلائزیشن کا ساتھ دیا ہے، مسٹر کارنی کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی رینکنگ میں پاکستانی عدلیہ کو اور نیچے دھکیل دیا گیا: لیاقت بلوچ
تنقید اور مطالبات
ان کا کہنا ہے کہ مارک کارنی حماس کے بجائے یہودی ریاست کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، اور انہوں نے کارنی سے اپنا غیر ذمے دارانہ بیان واپس لینے کا کہا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے مقبول ترین ٹک ٹاکر خابی لامی کو امریکہ میں حراست میں لے لیا گیا
مارک کارنی کا بیان
واضح ہے کہ کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے اسرائیل کی پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ غزہ میں جاری نسل کشی سے واقف ہیں، اسی لئے اسلحے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
حاضرین کا ردعمل
مارک کارنی کے بیان کے بعد حاضرین نے "کارنی کارنی" کے نعرے بھی لگائے تھے۔








