مارک کارنی کی غزہ میں جاری نسل کشی کی مخالفت، نیتن یاہو سیخ پا
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کینیڈین ہم منصب سے ردعمل
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اپنے کینیڈین ہم منصب مارک کارنی کی غزہ میں جاری نسل کشی کی مخالفت پر سیخ پا ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے سعودی عرب کو ساڑھے تین ارب ڈالر کا امریکی اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دیدی
سوشل میڈیا پر بیان
روز نامہ جنگ کے مطابق، انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ شیئر کرکے کینیڈا کے وزیرِ اعظم سے اپنے بیان سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ بھی کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی نئی انتظامیہ کی اہم رکن ’کیثیرن المونٹے ڈاکوسٹا‘ نے استعفیٰ دیدیا
نیتن یاہو کا بیان
یکس پر شیئر کی گئی پوسٹ میں نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ کینیڈا نے ہمیشہ سویلائزیشن کا ساتھ دیا ہے، مسٹر کارنی کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: دوستی اور بھائی چارے کی خوبصورت جھلک، بنگلہ دیش میں مذہبی محفل میں ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے لگ گئے
تنقید اور مطالبات
ان کا کہنا ہے کہ مارک کارنی حماس کے بجائے یہودی ریاست کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، اور انہوں نے کارنی سے اپنا غیر ذمے دارانہ بیان واپس لینے کا کہا۔
یہ بھی پڑھیں: مبینہ لڑائی جھگڑا اور تشدد کیس: ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ و دیگر کی عبوری ضمانتوں میں توسیع
مارک کارنی کا بیان
واضح ہے کہ کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے اسرائیل کی پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ غزہ میں جاری نسل کشی سے واقف ہیں، اسی لئے اسلحے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
حاضرین کا ردعمل
مارک کارنی کے بیان کے بعد حاضرین نے "کارنی کارنی" کے نعرے بھی لگائے تھے۔








