میرے 600 مہمانوں کو کھانا کھلاؤ ورنہ شادی کینسل
شادی کی منسوخی کی داستان
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کے ایک چھوٹے قصبے میں ایک شادی اس وقت منسوخ کر دی گئی جب دولہے کے خاندان نے دلہن کے گھر والوں سے 600 مہمانوں کے کھانے کا بندوبست کرنے کا مطالبہ کیا، جو کہ دلہن کے خاندان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب دلہن کے بھائی نے یہ واقعہ ریڈ اٹ پر شیئر کرتے ہوئے قانونی مشورہ طلب کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران سے پاکستانی شہریوں کا انخلا جاری، 377 وطن پہنچ گئے
شادی کی روایات
دلہن کے بھائی نے بتایا کہ ان کی بہن کی منگنی ایک ایسے شخص سے ہوئی تھی جسے وہ رشتہ داروں کے ذریعے جانتے تھے۔ ان کے مطابق ان کے قصبے میں شادی کی دو روایات ہیں: ایک پرتکلف تقریب جس میں مٹن بریانی کا اہتمام ہوتا ہے اور جس پر 10 سے 15 لاکھ روپے خرچ آ سکتا ہے، یا ایک سادہ شام کی تقریب جس میں چائے پیش کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سعودی عرب میں سعودی وزیر انصاف ولید السمعانی سے ملاقات، مفاہمتی یاداشت پر دستخط
دولت کے مطالبات
ابتدائی طور پر دونوں خاندان اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ ہر فریق اپنے مہمانوں کے کھانے کا خرچ خود اٹھائے گا لیکن بعد میں دولہے کے خاندان نے اچانک مطالبہ کیا کہ دلہن کا خاندان تمام 600 مہمانوں کے کھانے کا بندوبست کرے۔ دلہن کے بھائی کے مطابق ان کا خاندان اس اضافی خرچ کا متحمل نہیں تھا اور انہوں نے صاف صاف دلہے والوں کو یہ بات بتا دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: خالی نہیں دنیائے ہوّس اہلِ وفا سے،کمیاب تو یہ لوگ ہیں نایاب نہیں ہیں،سٹیزن کونسل ملک کے سلگتے مسائل و موضوعات پر غور و فکر کرتی ہے۔
دلہن کے بھائی کا بیان
دلہن کے بھائی نے لکھا "ہم امیر نہیں ہیں، اتنی بڑی رقم برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم نے دولہے والوں کو یہی چند روز پہلے بتا دیا تھا۔ شادی مئی میں ہونا تھی لیکن اب انہوں نے شادی منسوخ کر دی کیونکہ ہم لاکھوں روپے خرچ کر کے ان کی شان و شوکت کا بندوبست نہیں کر سکتے۔"
یہ بھی پڑھیں: 38ویں سینئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء کا ایوانِ صدر کا دورہ، قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی نے خوش آمدید کہا
مالی صورت حال
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ دولہے کا خاندان بھی مالی طور پر مستحکم نہیں ہے۔ ان کے مطابق دولہے نے فون پر شادی منسوخ کرنے کا اعلان کیا اور اس گفتگو کی ریکارڈنگ ان کے پاس موجود ہے۔ فون کال میں دولہے نے کہا "ہمیں 600 لوگوں کو کھانا کھلانا ہے، چونکہ آپ نے شام کی تقریب پر اکتفا کیا ہے اور ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں، اس لیے ہم شادی منسوخ کر رہے ہیں۔"
خاندان کا ردعمل
دلہن کے بھائی نے مزید کہا کہ ان کی ماں اور بہن مسلسل رو رہی ہیں اور خاندان قانونی کارروائی سے اس لیے ہچکچا رہا ہے کہ کہیں اس سے لڑکی کی عزت کو نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے سوال کیا کہ وہ اس معاملے کو پنچایت یا عدالت میں کیسے لے کر جائیں؟








