غزہ میں جاری صہیونی سفاکیت، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اسلامی ممالک کے سربراہان کو خط بھیج دیا
خط امیر جماعت اسلامی کا
لاہور(نمایندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اسلامی ممالک کے سربراہان کے نام خط لکھ کر ان کی توجہ غزہ میں جاری صہیونی سفاکیت کی طرف دلائی ہے اور اہل فلسطین کی مدد کے لیے عملی اقدامات کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمیں حقِ حکمرانی میں حصہ اور تمام زبانوں کا احترام چاہیے: محمود خان اچکزئی کا جامشورو میں جلسے سے خطاب
یوم احتجاج کی تجویز
انھوں نے اہل غزہ سے اظہار یکجہتی کے لیے 20اپریل جمعہ کو عالمی سطح پر یوم احتجاج منانے کی بھی تجویز دی ہے۔ مسلم سربراہان کے نام جاری خطوط میں انھوں نے کہا کہ وہ آپ کو غزہ میں جاری ہولناک انسانی بحران پر گہرے دکھ اور تشویش کے ساتھ یہ خط لکھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میں اس قیدی کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہوں، جس کے ساتھ کوئی ملاقات کرنا ہی نہیں چاہتا، سینیٹر ایمل ولی خان
انسانی بحران کی شدت
تباہی اور انسانی تکالیف کی شدت عالمی برادری کی فوری اور مشترکہ کارروائی کا تقاضا کرتی ہے۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب ہولوکاسٹ، بوسنیا کی نسل کشی، یا کوسوو کے تنازعے جیسے شدید انسانی بحران پیش آئے، تو دنیا نے اہم موڑ پر انسانی وقار اور انصاف کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر قدم اٹھایا۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ فیلوشپ پروگرام کے وفد کا دورہ پاکستان، تحفیف اسلحہ پربریفنگ دی
غزہ میں جاری نسلی تشدد
انھوں نے خط میں کہا کہ آج ہم غزہ میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں، وہ نسل کشی سے کم نہیں۔ معصوم شہری، بشمول خواتین اور بچے، بلا تمیز قتل کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کوشش ہے پاکستان کو ڈیجیٹل حب پر پہنچائیں، 3 سال تک فائبر نیٹ کو 60 فیصد تک لے جائیں گے، شزا فاطمہ
عالمی برادری کی خاموشی
اسپتال، صحافی، اسکول، اور پناہ گاہیں جو بین الاقوامی قوانین کے تحت محفوظ تصور کی جاتی ہیں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس ظلم کے سامنے عالمی برادری کی خاموشی یا بے عملی انتہائی تشویشناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے ساتھ جنگ میں کتنی ہلاکتیں ہوئیں؟ لبنان نے دل دہلا دینے والے اعداد و شمار جاری کردیے
پاکستان کی نمائندگی کی اپیل
انھوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے مسلم اکثریتی ممالک کی حکومتوں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر جاری قتل عام کو روکنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کریں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل، ایران جنگ میں امریکہ کب شامل ہوگا؟ صحافی کے سوال پر صدر ٹرمپ نے جواب دے دیا
بین الاقوامی تعاون کی اہمیت
جدید ہتھیاروں کی تباہ کن صلاحیت جو اسرائیل کو آزادی سے اور غیر متناسب طور پر میسر ہے نے اس تباہی کی شدت کو ماضی کے تمام بحرانوں سے کہیں بڑھا دیا ہے۔ سوشل میڈیا اور براہِ راست نشریات کے ذریعے آج دنیا ان مظالم کو لمحہ بہ لمحہ دیکھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ سپرسکسز کے دوسرے سیمی فائنل میں سری لنکا نے بنگلہ دیش کو شکست دیدی
مختلف ممالک کی حمایت
عالمی سطح پر شعور بے مثال ہے اور دنیا بھر کے مسلمان اور امن پسند لوگ غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی اور درد کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ کے ملک کے عوام بھی ہمارے درد اور غم میں برابر کے شریک ہیں، جیسا کہ دنیا کے بے شمار دوسرے لوگ بھی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پاکستان اب بھی ایشیا کپ فائنل کھیل سکتا ہے؟
اجلاس کی تشکیل کی درخواست
انھوں نے مسلم سربراہان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ لمحہ ہے جو جرات مندانہ اور اخلاقی قیادت کا تقاضا کرتا ہے۔ ہم آپ سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ فوری طور پر مسلم ممالک کے رہنماؤں کا اجلاس بلایا جائے تاکہ ایک واضح اور اجتماعی حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے
محافظت کا فوری اقدام
اگر دنیا خاموش رہی، تو ہم ایک اور انسانی ناکامی کے باب پر افسوس کرتے رہ جائیں گے بالکل جیسے روانڈا میں ہوا۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار پوری دنیا یہ سب براہِ راست دیکھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات میزائلوں اور ڈرونز کے تلے نہیں ہوسکتے: بلاول بھٹو زرداری
اجلاس کا مقصد
ہم یہ بھی اپیل کرتے ہیں کہ تمام ریاستی سربراہان کا ایک خصوصی اجلاس بلایا جائے جس کا واحد ایجنڈا غزہ میں جاری نسل کشی کو روکنا ہو۔ تعمیر نو اور بحالی کے اقدامات بعد میں کیے جا سکتے ہیں، لیکن سب سے پہلے اس خونریزی کا خاتمہ ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین نیب کا وفد کے ہمراہ بورڈ آف ریونیو کا دورہ، پلس پراجیکٹ اور ای رجسٹریشن سسٹم پر بریفنگ
بین الاقوامی اثر و رسوخ کا استعمال
ہم سمجھتے ہیں کہ تمام مسلم ممالک کسی نہ کسی سطح پر بین الاقوامی اثر و رسوخ رکھتے ہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ اسے مؤثر طریقے سے استعمال کیا جائے۔
20 اپریل کا عالمی احتجاج
مزید برآں ہم یہ تجویز پیش کرتے ہیں کہ جمعہ، 20 اپریل کو سرکاری طور پر "یوم عالمی احتجاج" قرار دیا جائے۔ اس دن کو ریلیوں، جلوسوں، خصوصی دعاؤں، اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے عالمی مظاہروں سے منایا جانا چاہیے۔
ہم بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی رابطہ کر رہے ہیں تاکہ وہ اس اتحاد اور ظلم کے خلاف مزاحمت کے دن کی توثیق کریں.








