غزہ کے بجائے جہنم میں رہنا پسند کروں گا، یورپی ڈاکٹر کا دل دہلا دینے والا بیان
ڈاکٹر میڈس گلبرٹ کا تبصرہ
اوسلو (ڈیلی پاکستان آن لائن) غزہ میں طویل عرصے تک کام کرنے والے ایمرجنسی میڈیسن کے ڈاکٹر میڈس گلبرٹ کا کہنا ہے کہ الاہلی ہسپتال پر حملہ شمالی غزہ میں کسی بھی ایسے شخص کے لئے سزائے موت ہے جسے شدید چوٹ یا صدمہ پہنچا ہو یا سرجری کی ضرورت ہو۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کا اہم اجلاس شروع، وزیر خزانہ بجٹ 26-2025 پیش کر رہے ہیں
ہسپتال کی اہمیت
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ناروے کے شہر ٹرمسو سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر میڈس گلبرٹ نے کہا کہ وہ اس ہسپتال کو اچھی طرح جانتے ہیں اور انہوں نے اسے ’شمالی غزہ میں ایک بہت اہم طبی ادارہ‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں جائیدادوں کے ریٹس 15 سے 75 فیصد تک بڑھ گئے
اسرائیلی دعویٰ کی حقیقت
اسرائیل کے اس دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہ حماس ہسپتال کو استعمال کر رہی ہے، ڈاکٹر میڈس گلبرٹ نے کہا کہ اسرائیلی فوج کبھی بھی ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکی ہے کہ فلسطینی ہسپتالوں کو کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سپر لیگ کے آئندہ ایڈیشن میں کتنی ٹیمز حصہ لیں گی؟ اعلان ہوگیا
غزہ میں صورتحال
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کس قسم کی بزدل، افسردہ اور مکمل طور پر غیر اخلاقی فوج آدھی رات کو بیمار اور زخمی افراد کے ساتھ ہسپتال پر حملہ کرسکتی ہے؟
ڈاکٹر گلبرٹ کی تشویش
ڈاکٹر میڈس گلبرٹ کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ میں اب غزہ میں رہنے کے بجائے جہنم میں رہنا پسند کروں گا، کیوں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک بہت منظم، بہت سنسنی خیز، اور لوگوں کی جینے کی صلاحیت کو کمزور کرنے کا افسوسناک طریقہ ہے۔








