کس نے پولیس کو اختیار دیا کہ لوگوں کو گنجا کرکے ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کریں؟ لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائی کورٹ نے قصور میں لڑکے لڑکیوں کی گرفتاری کے بعد ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے کیس میں ریمارکس دیے کہ پولیس کو یہ اختیار کس نے دیا کہ لوگوں کو گنجا کر کے ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت پنجاب کا نفرت پھیلانے والوں کے لیے حکومتی مراعات پر مکمل پابندی کا فیصلہ
کیس کی سماعت
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق، قصور میں لڑکے اور لڑکیوں کی گرفتاری کے بعد ویڈیو وائرل کرنے سے متعلق کیس میں توہین عدالت کی درخواست پر سماعت لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سے کینجھر جھیل جانے والی بس کھائی میں گر گئی، 6 افراد جاں بحق
عدالتی استفسارات
عدالتی حکم پر ڈی پی او قصور عدالت میں پیش ہوئے، جس دوران جسٹس علی ضیا باجوہ نے استفسار کیا کہ لوگوں کو گنجا کر کے ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر ڈال رہے ہیں؟ پولیس کو یہ اختیار کس قانون نے دیا ہے؟ کیسے کسی بندے کو پکڑ کر گنجا کرکے ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر ڈال دیتے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: پختونخوا پولیس کو افسران، بلٹ پروف گاڑیاں اور کم اجرت کا سامنا
قانون کی پاسداری
جسٹس علی ضیا باجوہ نے پوچھا کہ اس ملک میں کوئی قانون رہ گیا ہے یا نہیں؟ ویڈیو میں بھارتی فلم کا کلپ مکس کرکے پولیس کے آفیشل سوشل میڈیا پیج پر اپ لوڈ کیا گیا۔ عدالت نے ڈی آئی جی کو کل پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی واقعے کی رپورٹ پیش کریں۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا ایران پر اسرائیلی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار، فریقین سے تحمل کی اپیل
پولیس کی وضاحت
ڈی پی او نے عدالت کو بتایا کہ جس نے ویڈیو بنائی اس کو معطل کر دیا گیا ہے اور جن لوگوں نے ویڈیو وائرل کی ان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔ ایس ایچ او کو بھی نوکری سے فارغ کرنے کی سفارش کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ: کراچی میں ای چالان کے خلاف درخواست، آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی ٹریفک سے جواب طلب
عدالت کے احکامات
جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا کہ عدالت کسی بھی قسم کے غیر قانونی کام کی اجازت نہیں دے گی، کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کریں مگر اس کے عمل کو پبلک کیوں کریں؟
یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت گر گئی
عدلیہ کی تشویش
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر نے ملزموں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا کی تھی، تفتیشی افسر نے ملزموں کو مقدمہ میں سہولت دی۔ عدالت نے کہا کہ کیسی سہولت دی؟ کسی مذہب یا معاشرے میں ایسے عمل کی اجازت نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: ندیم مبارک اور رجب بٹ کی پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست فریقین کو نوٹس جاری، جواب طلب
غیر اخلاقی سرگرمیوں کا معاملہ
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کا کہنا تھاکہ فارم ہاو¿س پر غیر اخلاقی سرگرمیوں اور پارٹیوں کا انعقاد ہوتا ہے، جس پر عدالت نے کہاکہ ایسے کام کی کوئی اجازت نہیں، اور پولیس کو اس پر کارروائی کرنی چاہئے مگر ویڈیو بنا کر وائرل کرنے کی اجازت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پرواز کے دوران ایک مسافر کی دروازہ کھولنے کی کوشش، اسے قابو کیا تو دوسرے مسافر نے ایسی حرکت کردی کہ پولیس حرکت میں آ گئی۔
عدالت کی مزید ہدایت
ڈی پی او نے بتایا کہ فارم ہاو¿س کا مالک فرار ہو گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ فارم ہاو¿س کے مالک کو فرار نہیں ہونا چاہئے تھا۔ عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بھی پیش ہوں گے اور وضاحت کریں گے کہ دنیا میں کسی زیر حراست ملزم کو ایکسپوز کرنے کا قانون موجود ہے؟
توہین عدالت کا نوٹس
لاہور ہائی کورٹ نے قصور پولیس کے تفتیشی افسر صادق، کانسٹیبل اور ایس ایچ او کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر کیوں نہ پولیس والوں کو 6 ماہ کیلئے جیل بھیج دیا جائے۔








