آئینی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کی نئی سنیارٹی لسٹ معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی نئی سنیارٹی لسٹ معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا بنوں اور دیگر علاقوں میں 8 دہشتگردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
کیس کی سماعت
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے تبادلے اور سنیارٹی سے متعلق درخواستوں پر سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے کی۔ اس دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک، وقار، شہزاد/انعام اور میجر سعید/محمد سعید نے آر ایل کے آئی ٹی ایف ماسٹرز ٹائٹلز اپنے نام کر لیے
وکیل کے دلائل
دلائل کے آغاز میں وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہونے والے ججز کے معاملے کو آرٹیکل 175 کے ساتھ دیکھنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ججز ٹرانسفر، فیڈرل ازم اور انتظامی کمیٹی کی تشکیل سے متعلق دلائل دوں گا۔ اس پر جسٹس علی مظہر نے کہا کہ ججز کا ٹرانسفر آرٹیکل 200 کے تحت ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بینک آف پنجاب نے 30 ستمبر، 2025 تک 9 ماہ میں آپریٹنگ منافع میں شاندار 156 فیصد ریکارڈ اضافہ کیا
ججز کا ٹرانسفر
جسٹس علی مظہر نے وضاحت کی کہ ایک جج کا ٹرانسفر 4 درجات پر رضامندی کے اظہار کے بعد ہوتا ہے۔ جس جج نے ٹرانسفر ہونا ہوتا ہے، اس کی رضامندی معلوم کی جاتی ہے، جس ہائیکورٹ سے ٹرانسفر ہونا ہوتی ہے، اس کے چیف جسٹس سے رضامندی لی جاتی ہے۔ بعد میں چیف جسٹس پاکستان کی رضامندی کے بعد صدر مملکت ٹرانسفر کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آڈیو لیکس کمیشن کیس؛ سپریم کورٹ کی اتھارٹی کو انڈر مائین ہونے نہیں دیں گے، جسٹس جمال مندوخیل کا اٹارنی جنرل سے مکالمہ
انصاف کی بنیاد
جسٹس علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آپ آئین میں نئے الفاظ شامل کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ اس پر منیر اے ملک نے جواب دیا کہ ہمارا اعتراض دونوں پر ہے - یعنی ٹرانسفر اور سنیارٹی؛ جس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال کیا کہ جب ججز کی اسامیاں خالی تھیں تو ٹرانسفر کے بجائے نئے جج کیوں نہیں تعینات کئے گئے؟
یہ بھی پڑھیں: مصر میں کچے نو ڈلز کھانے سے 13سالہ حافظ قرآن بچہ انتقال کر گیا
عدالت کا فیصلہ
آئینی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی نئی سنیارٹی لسٹ معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔ اس کے علاوہ ٹرانسفر ہونے والے ججز کو کام سے روکنے کی استدعا بھی مسترد کی گئی۔
نوٹسز اور سماعت کی تاریخ
بعد ازاں عدالت نے 5 ججز کی درخواست پر نوٹسز جاری کرتے ہوئے قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر، جسٹس خادم حسین، جسٹس محمد آصف اور جوڈیشل کمیشن سمیت اٹارنی جنرل پاکستان کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 17 اپریل تک ملتوی کر دی۔








