آئینی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کی نئی سنیارٹی لسٹ معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی نئی سنیارٹی لسٹ معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک میں ‘پاکستانی ہوٹل’: 220 ملین ڈالر کی قیمت اور ٹرمپ کے بھارتی مشیر کا اعتراض
کیس کی سماعت
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے تبادلے اور سنیارٹی سے متعلق درخواستوں پر سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے کی۔ اس دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیے۔
یہ بھی پڑھیں: قاسم اور سلمان کا احتجاج میں شرکت کا اعلان، حکومت کے ہاتھ پاؤں پھولنے کی وجہ کیا ہے؟
وکیل کے دلائل
دلائل کے آغاز میں وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہونے والے ججز کے معاملے کو آرٹیکل 175 کے ساتھ دیکھنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ججز ٹرانسفر، فیڈرل ازم اور انتظامی کمیٹی کی تشکیل سے متعلق دلائل دوں گا۔ اس پر جسٹس علی مظہر نے کہا کہ ججز کا ٹرانسفر آرٹیکل 200 کے تحت ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چوہنگ میں پرائمری سکول کے طلباء پر فائرنگ کا نوٹس لے لیا
ججز کا ٹرانسفر
جسٹس علی مظہر نے وضاحت کی کہ ایک جج کا ٹرانسفر 4 درجات پر رضامندی کے اظہار کے بعد ہوتا ہے۔ جس جج نے ٹرانسفر ہونا ہوتا ہے، اس کی رضامندی معلوم کی جاتی ہے، جس ہائیکورٹ سے ٹرانسفر ہونا ہوتی ہے، اس کے چیف جسٹس سے رضامندی لی جاتی ہے۔ بعد میں چیف جسٹس پاکستان کی رضامندی کے بعد صدر مملکت ٹرانسفر کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گھوڑے کی عصمت دری کرتے ہوئے آدمی کی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے آگئی
انصاف کی بنیاد
جسٹس علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آپ آئین میں نئے الفاظ شامل کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ اس پر منیر اے ملک نے جواب دیا کہ ہمارا اعتراض دونوں پر ہے - یعنی ٹرانسفر اور سنیارٹی؛ جس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال کیا کہ جب ججز کی اسامیاں خالی تھیں تو ٹرانسفر کے بجائے نئے جج کیوں نہیں تعینات کئے گئے؟
یہ بھی پڑھیں: اوگرا نے اسلام آباد انتظامیہ سے آئل ٹینکر نہ روکنے کی درخواست کردی
عدالت کا فیصلہ
آئینی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی نئی سنیارٹی لسٹ معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔ اس کے علاوہ ٹرانسفر ہونے والے ججز کو کام سے روکنے کی استدعا بھی مسترد کی گئی۔
نوٹسز اور سماعت کی تاریخ
بعد ازاں عدالت نے 5 ججز کی درخواست پر نوٹسز جاری کرتے ہوئے قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر، جسٹس خادم حسین، جسٹس محمد آصف اور جوڈیشل کمیشن سمیت اٹارنی جنرل پاکستان کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 17 اپریل تک ملتوی کر دی۔








