اگر اسٹیبلشمنٹ رابطہ کرتی ہے تو مذاکرات کے لیے جائیں گے ، بیرسٹر گوہر
مذاکرات کے امکانات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ رابطہ کرتی ہے تو مذاکرات کے لیے جائیں گے اور اگر رابطہ بحال ہو اور ایک دن بھی مذاکرات ہوں تو معاملات حل ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں روکنے کے لیے ڈرون استعمال کرنے کا فیصلہ
سیاسی مسائل کا حل
سماء ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سیاسی مسائل کا سیاسی حل ڈھونڈنا ضروری ہے اور پارٹی نے مذاکرات کے لیے ہمیشہ کوششیں کیں لیکن کوئی خاطرخواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: سانگھڑ میں وڈیروں کے بیٹے نے 14 سالہ لڑکی کو جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد تیز دھار آلے سے زبان بھی کاٹ دی
پی ٹی آئی کی کوششیں
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے کئی بار بردباری کا مظاہرہ کیا، نشان چھینے جانے اور مینڈیٹ چوری ہونے کے باوجود پارلیمنٹ میں بیٹھ کر اپنا کردار ادا کیا۔ بانی پی ٹی آئی نے بارہا مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا لیکن کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس اور ریسکیو ٹیم نے دریائے چناب کے سیلابی ریلے میں پھنسے 200 مویشیوں کو ریسکیو کر لیا
کمیٹی کی ناکامی
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے شبلی فراز، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب کو مذاکرات کا اختیار دیا جبکہ محمود اچکزئی کو بھی اپنے پلیٹ فارم سے بات چلا نے کی ہدایت کی لیکن 26 نومبر کے بعد بنائی گئی کمیٹی بھی کوئی حل نہ نکال سکی۔
یہ بھی پڑھیں: ویلڈن سپیشل ہیروز ویلڈن
جمہوریت کے لیے مذاکرات
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ وہ مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہتے لیکن وہ اپنے لیے نہیں بلکہ جمہوریت اور ایوان کی مضبوطی کے لیے بات چیت کے خواہشمند ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: راجن پور پولیس کے کچہ آپریشن کے دوران مزید انتہائی مطلوب 18 ڈاکوؤں نے سرنڈر کر دیا
رابطہ کی صورت حال
انہوں نے کہا کہ ملک کی خاطر بات چیت ہونی چاہیے لیکن فی الحال کوئی ایسی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 26 نومبر سے قبل اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ ضرور ہوا تھا لیکن پریکٹیکلی مذاکرات شروع نہ ہو سکے، اگر رابطہ جاری رہتا تو دو سے تین ماہ میں کوئی حل نکل سکتا تھا۔
آخری ملاقات
ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سے آخری ملاقات امن و امان کے حوالے سے ہوئی تھی لیکن اس سے بھی کوئی خاص فائدہ نہ ہوا۔








