اگر اسٹیبلشمنٹ رابطہ کرتی ہے تو مذاکرات کے لیے جائیں گے ، بیرسٹر گوہر
مذاکرات کے امکانات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ رابطہ کرتی ہے تو مذاکرات کے لیے جائیں گے اور اگر رابطہ بحال ہو اور ایک دن بھی مذاکرات ہوں تو معاملات حل ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں زرعی خدمات: کاشتکاروں کی دہلیز پر پہنچانے کے لئے منفرد ایگریکلچر لیب آن ویل شروع کیا جائے گا
سیاسی مسائل کا حل
سماء ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سیاسی مسائل کا سیاسی حل ڈھونڈنا ضروری ہے اور پارٹی نے مذاکرات کے لیے ہمیشہ کوششیں کیں لیکن کوئی خاطرخواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: پیکٹا نے جماعت ہشتم کے امتحانات 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا
پی ٹی آئی کی کوششیں
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے کئی بار بردباری کا مظاہرہ کیا، نشان چھینے جانے اور مینڈیٹ چوری ہونے کے باوجود پارلیمنٹ میں بیٹھ کر اپنا کردار ادا کیا۔ بانی پی ٹی آئی نے بارہا مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا لیکن کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔
یہ بھی پڑھیں: فی لیٹر پیٹرول پر 94 روپے 89 پیسے کے ٹیکس عائد ہیں: پیٹرولیم ڈویژن
کمیٹی کی ناکامی
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے شبلی فراز، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب کو مذاکرات کا اختیار دیا جبکہ محمود اچکزئی کو بھی اپنے پلیٹ فارم سے بات چلا نے کی ہدایت کی لیکن 26 نومبر کے بعد بنائی گئی کمیٹی بھی کوئی حل نہ نکال سکی۔
یہ بھی پڑھیں: خوارج کے ناپاک عزائم خاک میں ملانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں: وزیر داخلہ
جمہوریت کے لیے مذاکرات
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ وہ مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہتے لیکن وہ اپنے لیے نہیں بلکہ جمہوریت اور ایوان کی مضبوطی کے لیے بات چیت کے خواہشمند ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ پنکی کا ایجنڈا وہی ہے جو اسرائیل کا ہے: عظمیٰ بخاری
رابطہ کی صورت حال
انہوں نے کہا کہ ملک کی خاطر بات چیت ہونی چاہیے لیکن فی الحال کوئی ایسی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 26 نومبر سے قبل اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ ضرور ہوا تھا لیکن پریکٹیکلی مذاکرات شروع نہ ہو سکے، اگر رابطہ جاری رہتا تو دو سے تین ماہ میں کوئی حل نکل سکتا تھا۔
آخری ملاقات
ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سے آخری ملاقات امن و امان کے حوالے سے ہوئی تھی لیکن اس سے بھی کوئی خاص فائدہ نہ ہوا۔








