ارسا نے سندھ کو زیادہ پانی دینے کے پنجاب حکومت کے دعوے کو مسترد کردیا
ارسا کی جانب سے پانی کی تقسیم کی وضاحت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے سندھ کو زیادہ پانی دیے جانے سے متعلق خبروں کی تردید کردی۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ خوشگوار سرپرائز، مجھے نہیں لگتا 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کا جلسہ کامیاب ہوگا، احتجاج کی حکمت عملی کہاں گئی؟ شیر افضل مروت
رپورٹ مسترد
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ارسا حکام نے ابتدائی جائزے میں سندھ کو زیادہ پانی دینے کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ارسا ہمیشہ پانی کی منصفانہ تقسیم کرتا ہے، کسی کا حق لیا نہ کسی کو حق دیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ایک بار پھر پاک وہیلز کار میلہ، مقام اور اوقات کار بھی سامنے آگئے
خط کا جائزہ
ارسا ترجمان کے مطابق حکام نے پنجاب حکومت کی جانب سے بجھوائے گئے خط کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے اور ارسا خط کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بال ٹیمپرنگ کا معاملہ، شاہین، فخر اور حارث مصیبت میں پھنس گئے، ویڈیو ثبوت سامنے آ گیا
پانی کی کمی کا سامنا
ترجمان کے مطابق پانی کی کمی کو چاروں صوبے مل کر برداشت کر رہے ہیں، ملک میں حساس صورتحال کے پیش نظر الزام تراشی سے اجتناب کیا جانا چاہیے، ارسا ریگولیٹری باڈی ہے اور اس پر مانیٹرنگ موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان کی طالبان حکومت نے تاجروں کو پاکستان کیساتھ تجارت ختم کرنے کا حکم دیدیا
پانی کی تقسیم کا نظام
ارسا ذرائع کے مطابق صوبوں نے اپنے حصے کا پانی ربیع فصل میں استعمال کیا اور خریف فصل میں بھی پانی کی تقسیم قوانین کے مطابق ہو رہی ہے جب کہ پانی کا خود کار نظام ہے جس کے باعث کوئی صوبہ زیادہ پانی نہیں لے سکتا۔
پنجاب حکومت کا خط
واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے پیر کو پانی کی تقسیم پر انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کو خط لکھ کر کہا تھا کہ خریف کی فصلوں کے لیے پانی کی 43 فیصد کمی ہے اور اس میں بھی پنجاب کے حصے کا پانی زیادہ اور سندھ کا کم روکا جا رہا ہے۔








