ارسا نے سندھ کو زیادہ پانی دینے کے پنجاب حکومت کے دعوے کو مسترد کردیا
ارسا کی جانب سے پانی کی تقسیم کی وضاحت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے سندھ کو زیادہ پانی دیے جانے سے متعلق خبروں کی تردید کردی۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ کے حوالے سے پاکستان کے ذمہ دارانہ مؤقف اور دانشمندانہ سفارت کاری کو سراہتے ہیں، سعودی سفیر
رپورٹ مسترد
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ارسا حکام نے ابتدائی جائزے میں سندھ کو زیادہ پانی دینے کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ارسا ہمیشہ پانی کی منصفانہ تقسیم کرتا ہے، کسی کا حق لیا نہ کسی کو حق دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی کی قیمت کا معاملہ، ن لیگ نظام حکومت چلانا بھول گئی؟ اسد علی طور کا خرم دستگیر کو ایکس پر جواب
خط کا جائزہ
ارسا ترجمان کے مطابق حکام نے پنجاب حکومت کی جانب سے بجھوائے گئے خط کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے اور ارسا خط کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کی مصروف شاہراہ کے بل بورڈ پر نازیبا ویڈیو چلانے کی اصل کہانی کیا ہے ؟ گرفتار ملزم کا اعترافی ویڈیو بیان سامنے آگیا
پانی کی کمی کا سامنا
ترجمان کے مطابق پانی کی کمی کو چاروں صوبے مل کر برداشت کر رہے ہیں، ملک میں حساس صورتحال کے پیش نظر الزام تراشی سے اجتناب کیا جانا چاہیے، ارسا ریگولیٹری باڈی ہے اور اس پر مانیٹرنگ موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سائنسدانوں نے انسانی آنکھ کو ایسا رنگ دکھادیا جو آج سے پہلے کبھی کسی انسان نے نہیں دیکھا
پانی کی تقسیم کا نظام
ارسا ذرائع کے مطابق صوبوں نے اپنے حصے کا پانی ربیع فصل میں استعمال کیا اور خریف فصل میں بھی پانی کی تقسیم قوانین کے مطابق ہو رہی ہے جب کہ پانی کا خود کار نظام ہے جس کے باعث کوئی صوبہ زیادہ پانی نہیں لے سکتا۔
پنجاب حکومت کا خط
واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے پیر کو پانی کی تقسیم پر انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کو خط لکھ کر کہا تھا کہ خریف کی فصلوں کے لیے پانی کی 43 فیصد کمی ہے اور اس میں بھی پنجاب کے حصے کا پانی زیادہ اور سندھ کا کم روکا جا رہا ہے۔








