ارسا نے سندھ کو زیادہ پانی دینے کے پنجاب حکومت کے دعوے کو مسترد کردیا
ارسا کی جانب سے پانی کی تقسیم کی وضاحت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے سندھ کو زیادہ پانی دیے جانے سے متعلق خبروں کی تردید کردی۔
یہ بھی پڑھیں: شاپور جی سکلت: بھارت کے ایک امیر خاندان کے سیاستدان جنہوں نے اپنے نام کے ساتھ ‘ٹاٹا’ نہیں لگایا
رپورٹ مسترد
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ارسا حکام نے ابتدائی جائزے میں سندھ کو زیادہ پانی دینے کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ارسا ہمیشہ پانی کی منصفانہ تقسیم کرتا ہے، کسی کا حق لیا نہ کسی کو حق دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سپر لیگ 11 کے لیے بنگلہ دیش کے کھلاڑیوں کو این او سی جاری کر دیا گیا
خط کا جائزہ
ارسا ترجمان کے مطابق حکام نے پنجاب حکومت کی جانب سے بجھوائے گئے خط کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے اور ارسا خط کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گا۔
یہ بھی پڑھیں: Israeli Aggression Against Pakistan via Imran Khan, Claims Defense Minister Khawaja Asif
پانی کی کمی کا سامنا
ترجمان کے مطابق پانی کی کمی کو چاروں صوبے مل کر برداشت کر رہے ہیں، ملک میں حساس صورتحال کے پیش نظر الزام تراشی سے اجتناب کیا جانا چاہیے، ارسا ریگولیٹری باڈی ہے اور اس پر مانیٹرنگ موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کسی کے میسجز پڑھ کر سیٹ ہونے والی نہیں ہوں، سبینا فاروق کھل کر بول پڑیں
پانی کی تقسیم کا نظام
ارسا ذرائع کے مطابق صوبوں نے اپنے حصے کا پانی ربیع فصل میں استعمال کیا اور خریف فصل میں بھی پانی کی تقسیم قوانین کے مطابق ہو رہی ہے جب کہ پانی کا خود کار نظام ہے جس کے باعث کوئی صوبہ زیادہ پانی نہیں لے سکتا۔
پنجاب حکومت کا خط
واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے پیر کو پانی کی تقسیم پر انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کو خط لکھ کر کہا تھا کہ خریف کی فصلوں کے لیے پانی کی 43 فیصد کمی ہے اور اس میں بھی پنجاب کے حصے کا پانی زیادہ اور سندھ کا کم روکا جا رہا ہے۔








