ملزمان کو گنجا کرکے ویڈیو چلانے کیس: ایسا کوئی واقعہ دوبارہ ہوا تو متعلقہ ڈی پی او ذمہ دار ہوگا، عدالت
لاہور ہائیکورٹ میں پتنگ بازی اور ہوائی فائرنگ کا معاملہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں پتنگ بازی اور ہوائی فائرنگ کرنے والے ملزمان کو گنجا کرنے کے معاملے کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے پورے پنجاب میں اس فیصلے کو سرکولیٹ کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ اگر ایسا کوئی واقعہ دوبارہ ہوا تو متعلقہ ڈی پی او ذمہ دار ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کو ججز کی سکیورٹی کا معاملہ سنجیدگی سے لینا ہوگا،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے وفاق اور صوبائی حکومت سے جواب طلب کرلیا
عدالتی سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق جسٹس علی ضیا باجوہ کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں عدالت نے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی۔ عدالتی حکم پر ڈی آئی جی آپریشن اور ڈی آئی جی سیکیورٹی عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ بھی عدالت میں موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی: سگی خالہ نے 17 سالہ بھانجی کو اغوا کرکے خاوند کے ذریعے جنسی زیادتی کا نشانہ بنوا ڈالا
ویڈیو کی نمائش اور ڈی آئی جی آپریشنز کا اعتراف
عدالت نے ملزمان کو گنجا کرنے والی ویڈیو چلائی اور ڈی آئی جی آپریشنز سے سوال کیا کہ یہ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ ڈی آئی جی آپریشنز نے عدالت میں اپنی غلطی تسلیم کرلی اور کہا کہ یہ بہت بڑی غلطی تھی، آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب جو بھی مواد اپ لوڈ ہوگا وہ متعلقہ ایس پی کی منظوری سے کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: عراق میں کلورین گیس لیک سے 600 سے زائد زائرین اسپتال منتقل
عدالت کے تحفظات اور ڈی آئی جی کا وعدہ
عدالت نے کہا کہ ’بڑا اچھا کیا آپ نے ہوائی فائرنگ کرنے والوں کو پکڑا، لیکن یہ جو حرکت ہوئی، عدالت اس کی اجازت نہیں دے گی۔‘ ڈی آئی جی آپریشنز نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسی سنگین غلطی نہیں ہوگی، اور اب کسی کی تذلیل کی گئی تو متعلقہ افسر کے پورٹ فولیو میں لکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی برادری کے فورمز پر بھارت کے ’’آبی روئیے‘‘ کو چیلنج کرنا ہوگا، ہم سمجھوتہ نہیں کریں گے: شیری رحمان
پچھلی انڈرٹیکنگ اور عدالت کے مطالبات
عدالت نے کہا کہ چھ ماہ پہلے آئی جی پنجاب کی انڈرٹیکنگ آئی تھی، لیکن پھر بھی وہی کام ہو رہا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ آئندہ ایسا نہ ہو، لیکن عدالت نے کہا کہ ’کوشش نہیں، ہمیں اس کے نتائج چاہیے۔‘
یہ بھی پڑھیں: حملوں کے نتیجے میں ایران اور مختلف ممالک میں کتنا جانی نقصان ہوا۔۔؟ تفصیلات سامنے آگئیں
واضح جاری مواد کی کمی
عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ ’یہ جو لوگوں کو گنجا کیا گیا، کیا یہ بات آپ کے علم میں نہیں تھی؟‘ ڈی آئی جی آپریشنز نے جواب دیا کہ ’نہیں، یہ بات میرے علم میں نہیں تھی۔‘
سوشل میڈیا کے حوالے سے بحث
وکیل نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جو پیج ہے وہ کسی ڈی آئی جی کا نہیں، بلکہ کسی ٹک ٹاکر کا لگتا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے کارروائی کل تک ملتوی کر دی۔








