امریکی وفد کے سامنے اپوزیشن نے بانی پی ٹی آئی کا دور تک ذکر بھی نہیں کیا، سپیکر ایاز صادق
ایاز صادق کا امریکی وفد سے ملاقات کا اعلان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ امریکی وفد سے ملاقات کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی اور چیف وہپ کو باقاعدہ دعوت دی گئی تھی، مگر وہ شریک نہ ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بیرونی قوتوں سے مدد مانگتے ہیں، اُنہیں ان ہی سے بات بھی کرنی چاہیے۔ سپیکر کا کہنا تھا کہ ان کے پاس دعوت کے باقاعدہ ثبوت اور شواہد موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ کے متاثرین کے نقصانات کا ازالہ ہوگا: ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید
امریکی کانگریس کے ارکان کی بیان بازی
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ایاز صادق کا کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کے تینوں ارکان نے واضح طور پر کہا کہ ان کا پاکستان کے اندرونی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکی وفد نے پی ٹی آئی بانی عمران خان کا نام تک نہیں لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملیحہ لودھی کا بھارتی وزیر خارجہ کی شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں آمد پر بیان
مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش
سپیکر نے کہا کہ وہ مذاکرات کیلئے سہولت کار بننے کو تیار ہیں، مگر یہ کام زبردستی ممکن نہیں۔ ’تالی دو ہاتھ سے بجتی ہے۔ اگر کوئی فریق بیٹھنے پر آمادہ نہ ہو تو میں بار بار زبردستی نہیں کر سکتا۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یا اپوزیشن کی طرف سے رابطہ کیا گیا تو وہ ان کی بات ضرور آگے رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میٹرک بورڈ کے سالانہ امتحانات ملتوی
اپوزیشن کے طرزعمل پر تنقید
اپوزیشن کے طرزعمل پر تنقید کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ ایوان میں وقفہ سوالات کے دوران بار بار کورم کی نشاندہی کی جاتی ہے، جس سے قانون سازی کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ اپوزیشن عوامی مسائل پر بحث نہیں ہونے دیتی۔ ’میں اپوزیشن لیڈر کے خط کا جواب دے چکا ہوں۔ اگر تحریک عدم اعتماد لائی گئی تو ان کے اپنے لوگ بھی ساتھ نہیں رہیں گے۔’
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں زمین بوس ہونے والی عمارت میں کتنے خاندان رہائش پذیر تھے؟ علاقہ مکین کا اہم بیان
اسمبلی کی کارکردگی پر جائزہ
اسمبلی کی مجموعی کارکردگی پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ وہ ایک سال کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کورم پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، ورنہ قانون سازی ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ جو ہو رہا ہے یہ مکافات عمل کی وجہ سے ہے،سینیٹر عرفان صدیقی
محمود اچکزئی کے بیان پر ردعمل
محمود اچکزئی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے سپیکر نے کہا, ’انہوں نے مجھے حوالدار کہا، تو واضح کریں کون سا حوالدار؟ وہ میرے لیے محض ایک فرد ہیں۔’
یہ بھی پڑھیں: این سی سی آئی اے افسران مبینہ گینگ بنا کر رشوت خوری کر رہے ہیں، ڈکی بھائی کو پکڑنے والے افسران کا 3 روزہ ریمانڈ منظور
اجلاسوں میں شفافیت اور بہتر کارروائی
ایاز صادق نے بتایا کہ ان کا دیگر تمام اسمبلیوں کے سپیکرز سے رابطہ ہے اور مختلف امور پر مشترکہ پیش رفت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے دس اراکین کے حوالے سے شکایات کی مکمل تحقیقات کی گئیں، مگر کسی کے خلاف کوئی شواہد نہیں ملے۔ ’میں نے اراکین کے پروڈکشن آرڈرز بھی جاری کیے اور ہمیشہ پارلیمانی اصولوں کو ترجیح دی۔’
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایئر ٹریفک کنٹرول کو فضائی حدود کی کڑی نگرانی کی ہدایت
مذاکراتی عمل کی اہمیت
انہوں نے واضح کیا کہ وہ نہ صرف بطور سپیکر بلکہ بطور رکن پارلیمنٹ مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق بند کمرے کی گفتگو اچھی ہوتی ہے، مگر مسائل کا مستقل حل صرف مذاکرات سے ہی نکلتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ باکسنگ چیلنج: پاکستان کی لاورا اکرم کو سیمی فائنل میں شکست
پیپلز پارٹی سے مذاکرات کی صورتحال
پیپلز پارٹی سے متعلق گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پیر کو اس جماعت نے نہروں کے مسئلے پر بات چیت کی درخواست دی، جس پر تیس ارکان نے اظہار خیال کیا، مگر اپوزیشن کی طرف سے کوئی بات نہ کی گئی۔ اگلے دن جب قرارداد کی بات ہوئی تو بحث مکمل ہونے کی وجہ سے مزید بات ممکن نہ تھی۔ ’ڈپٹی وزیراعظم کا مؤقف بھی واضح آ چکا تھا۔ ہم نے کسی کو نہروں کے معاملے پر بات سے نہیں روکا۔ حکومت کا فیصلہ تھا کہ سیشن ختم کیا جائے۔’
یہ بھی پڑھیں: بیٹوں کی گرفتاری پر علیمہ خان کا دو ٹوک بیان۔۔۔کہتی ہیں جتنا مرضی دباؤ ڈال لیں، ڈرنے والوں میں سے نہیں ہیں
پارلیمنٹ کی فعالیت کی یقین دہانی
انہوں نے زور دیا کہ وہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو مساوی وقت دیتے ہیں، اور پارلیمنٹ کی فعالیت کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی کے چیف کیوریٹر ٹونی ہیمنگ مستعفی ہوگئے
بین الاقوامی صورتحال پر اظہار فکرمندی
بین الاقوامی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ایاز صادق نے فلسطین کے حالات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ ’جب فلسطین کی ویڈیوز دیکھتے ہیں تو دل دکھتا ہے۔ بچے، خواتین شہید ہو رہے ہیں۔’ انہوں نے بتایا کہ ترکی میں غزہ کے مسئلے پر سپیکرز کانفرنس رکھی گئی ہے جس میں وہ شرکت کریں گے اور پاکستان کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کریں گے۔
کشمیر اور فلسطین کی حالت پر تاکید
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہر بین الاقوامی وفد سے ملاقات کے دوران کشمیر اور فلسطین کا معاملہ ضرور اٹھاتا ہے۔ ’اسلامی ممالک وہ کردار ادا نہیں کر پائے جو انہیں کرنا چاہیے تھا۔’








