امریکی وفد کے سامنے اپوزیشن نے بانی پی ٹی آئی کا دور تک ذکر بھی نہیں کیا، سپیکر ایاز صادق
ایاز صادق کا امریکی وفد سے ملاقات کا اعلان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ امریکی وفد سے ملاقات کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی اور چیف وہپ کو باقاعدہ دعوت دی گئی تھی، مگر وہ شریک نہ ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بیرونی قوتوں سے مدد مانگتے ہیں، اُنہیں ان ہی سے بات بھی کرنی چاہیے۔ سپیکر کا کہنا تھا کہ ان کے پاس دعوت کے باقاعدہ ثبوت اور شواہد موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امن اور ترقی کے لئے تعلیم کی اہمیت مسلمہ ہے: وزیراعلیٰ مریم نواز کا تعلیم کے عالمی دن پر پیغام
امریکی کانگریس کے ارکان کی بیان بازی
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ایاز صادق کا کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کے تینوں ارکان نے واضح طور پر کہا کہ ان کا پاکستان کے اندرونی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکی وفد نے پی ٹی آئی بانی عمران خان کا نام تک نہیں لیا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ اور پیوٹن کی ملاقات کا کوئی فوری امکان نہیں، وائٹ ہاؤس کا اعلان
مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش
سپیکر نے کہا کہ وہ مذاکرات کیلئے سہولت کار بننے کو تیار ہیں، مگر یہ کام زبردستی ممکن نہیں۔ ’تالی دو ہاتھ سے بجتی ہے۔ اگر کوئی فریق بیٹھنے پر آمادہ نہ ہو تو میں بار بار زبردستی نہیں کر سکتا۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یا اپوزیشن کی طرف سے رابطہ کیا گیا تو وہ ان کی بات ضرور آگے رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں موبائل انٹرنیٹ سروس 24 گھنٹوں کے لیے معطل
اپوزیشن کے طرزعمل پر تنقید
اپوزیشن کے طرزعمل پر تنقید کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ ایوان میں وقفہ سوالات کے دوران بار بار کورم کی نشاندہی کی جاتی ہے، جس سے قانون سازی کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ اپوزیشن عوامی مسائل پر بحث نہیں ہونے دیتی۔ ’میں اپوزیشن لیڈر کے خط کا جواب دے چکا ہوں۔ اگر تحریک عدم اعتماد لائی گئی تو ان کے اپنے لوگ بھی ساتھ نہیں رہیں گے۔’
یہ بھی پڑھیں: عزاداروں کو تحفظ اور سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے: عظمٰی بخاری کا چنیوٹ کا دورہ
اسمبلی کی کارکردگی پر جائزہ
اسمبلی کی مجموعی کارکردگی پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ وہ ایک سال کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کورم پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، ورنہ قانون سازی ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کو اس وقت ذمہ دارانہ اور بالغ نظر سیاسی قیادت کی ضرورت ہے : گورنر خیبر پختونخوا
محمود اچکزئی کے بیان پر ردعمل
محمود اچکزئی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے سپیکر نے کہا, ’انہوں نے مجھے حوالدار کہا، تو واضح کریں کون سا حوالدار؟ وہ میرے لیے محض ایک فرد ہیں۔’
یہ بھی پڑھیں: میری بیٹی آپ کو انکل سمجھتی تھی، آپ نے اسے کھلونے کی طرح استعمال کیا: آسٹریلیا میں درجنوں بچیوں کے ریپ کا مجرم عمر قید کی سزا یافتہ
اجلاسوں میں شفافیت اور بہتر کارروائی
ایاز صادق نے بتایا کہ ان کا دیگر تمام اسمبلیوں کے سپیکرز سے رابطہ ہے اور مختلف امور پر مشترکہ پیش رفت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے دس اراکین کے حوالے سے شکایات کی مکمل تحقیقات کی گئیں، مگر کسی کے خلاف کوئی شواہد نہیں ملے۔ ’میں نے اراکین کے پروڈکشن آرڈرز بھی جاری کیے اور ہمیشہ پارلیمانی اصولوں کو ترجیح دی۔’
یہ بھی پڑھیں: گاڑی کے چالان پر جنید صفدر کا ردعمل بھی آگیا
مذاکراتی عمل کی اہمیت
انہوں نے واضح کیا کہ وہ نہ صرف بطور سپیکر بلکہ بطور رکن پارلیمنٹ مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق بند کمرے کی گفتگو اچھی ہوتی ہے، مگر مسائل کا مستقل حل صرف مذاکرات سے ہی نکلتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اہلکاروں پر تشدد کا مقدمہ: علیم خان اور شعیب صدیقی بری
پیپلز پارٹی سے مذاکرات کی صورتحال
پیپلز پارٹی سے متعلق گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پیر کو اس جماعت نے نہروں کے مسئلے پر بات چیت کی درخواست دی، جس پر تیس ارکان نے اظہار خیال کیا، مگر اپوزیشن کی طرف سے کوئی بات نہ کی گئی۔ اگلے دن جب قرارداد کی بات ہوئی تو بحث مکمل ہونے کی وجہ سے مزید بات ممکن نہ تھی۔ ’ڈپٹی وزیراعظم کا مؤقف بھی واضح آ چکا تھا۔ ہم نے کسی کو نہروں کے معاملے پر بات سے نہیں روکا۔ حکومت کا فیصلہ تھا کہ سیشن ختم کیا جائے۔’
یہ بھی پڑھیں: مصطفیٰ کمال نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کو ناگزیر قرار دے دیا
پارلیمنٹ کی فعالیت کی یقین دہانی
انہوں نے زور دیا کہ وہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو مساوی وقت دیتے ہیں، اور پارلیمنٹ کی فعالیت کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں اماموں اور مذہبی شخصیات کا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کرنا منظم ہراسانی ہے: دفتر خارجہ
بین الاقوامی صورتحال پر اظہار فکرمندی
بین الاقوامی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ایاز صادق نے فلسطین کے حالات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ ’جب فلسطین کی ویڈیوز دیکھتے ہیں تو دل دکھتا ہے۔ بچے، خواتین شہید ہو رہے ہیں۔’ انہوں نے بتایا کہ ترکی میں غزہ کے مسئلے پر سپیکرز کانفرنس رکھی گئی ہے جس میں وہ شرکت کریں گے اور پاکستان کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کریں گے۔
کشمیر اور فلسطین کی حالت پر تاکید
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہر بین الاقوامی وفد سے ملاقات کے دوران کشمیر اور فلسطین کا معاملہ ضرور اٹھاتا ہے۔ ’اسلامی ممالک وہ کردار ادا نہیں کر پائے جو انہیں کرنا چاہیے تھا۔’








