سیف سٹی کیمروں کے ذریعے ای چالان کرنے کا قانون لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
لاہور میں ای چالان کا قانون چیلنج
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) سیف سٹی کیمروں کے ذریعے ای چالان کرنے کا قانون لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ رجسٹرار آفس نے درخواست کے قابل سماعت ہونے کے متعلق اعتراض عائد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی بینکوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا
درخواست دائر کرنے کی تفصیلات
شہری فلک شیر نے ایڈووکیٹ مظہر آمین چدھڑ کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ اس درخواست میں پنجاب حکومت، ہوم سیکرٹری، آئی جی پنجاب اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں اجلاس، ملیر جیل سے 200 سے زائد قیدیوں کے فرار پر آئی جی جیل خانہ جات کو عہدے سے ہٹا دیا گیا
رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراض
رجسٹرار آفس نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر یہ اعتراض عائد کیا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے ای چالان کے متعلق دائر انٹرا کورٹ اپیل کی مصدقہ کاپی فراہم نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی افریقا کے خلاف میچ کے بعد بابر اعظم کی ٹویٹ وائرل
درخواست گزار کا موقف
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ای چالان کے ذریعے شہریوں کو فئیر ٹرائل کا حق نہیں دیا جا رہا۔ متاثرہ شخص کا مؤقف سنے بغیر اس کا چالان کرنا ناانصافی اور آئین و قانون کے خلاف ہے۔
درخواست کی استدعا
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سیف سٹی کیمروں کے ذریعے ای چالان کرنے کے قانون کو کالعدم قرار دیا جائے۔








