زمین سے باہر کسی سیارے میں زندگی کی موجودگی کے اب تک کے ٹھوس ترین شواہد دریافت
سائنسدانوں کا بڑا دعویٰ
لندن (ویب ڈیسک) سائنسدانوں نے زمین سے باہر پہلی بار اب تک کسی قسم کی زندگی کے مضبوط ترین شواہد کو تلاش کرنے کے دعویٰ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر دوستی دکھاوا قرار‘ نعیمہ بٹ نے ساتھی اداکاروں کے رویے کو بے نقاب کر دیا
جیمز ویب کے ذریعے دریافت
نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے سائنسدانوں نے زمین سے 124 نوری برسوں کے فاصلے میں واقع ایک بڑے سیارے میں یہ شواہد دریافت کیے۔
یہ بھی پڑھیں: فارمولا ون والے بلنڈر پر میرے اپنے بچوں نے میرا مذاق اڑایا تھا، ندا یاسر
کے 2۔ 18 بی کی تحقیق
کے 2۔ 18 بی نامی اس سیارے کے مشاہدے کے دوران ایسے 2 مرکبات کے کیمیائی آثار کا انکشاف ہوا جو کہ زمین پر زندگی کے لیے اہم ترین تصور کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فوج مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ، پنجاب کے 6 اضلاع میں ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری
کیمیائی شواہد کی اہمیت
dimethyl sulfide (ڈی ایم ایس) اور dimethyl disulfide (ڈی ایم ڈی ایس) نامی کیمیکلز کو کسی خلائی زندگی کی حیاتیاتی سرگرمیوں کا ٹھوس ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا مگر اس سے اس سوال کا جواب مل سکے گا کہ ہم اس کائنات میں اکیلے ہیں یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شہر قائد میں دھند نے ڈیرے ڈال لیے، حد نگاہ متاثر
کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین کی شراکت
برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین نے اس تحقیق پر کام کیا اور انہوں نے بتایا کہ یہ ہمارے نظام شمسی سے باہر اب تک کسی قسم کی حیاتیاتی سرگرمیوں کے ٹھوس ترین شواہد ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شاپنگ کیلئے مخصوص ’’ڈرون کارٹ‘‘ متعارف
محققین کی احتیاط
انہوں نے کہا کہ ہم بہت محتاط ہیں، ہم خود سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ سگنل حقیقی ہے اور اس کا مطلب کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چمن: انسدادِ پولیو ٹیم پر فائرنگ، پولیس اہلکار شہید
سائنسی چیلنجز
دیگر سائنسدان اس حوالے سے زیادہ پراعتماد نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ کے 2۔ 18 بی کے حالات زندگی کے لیے موزوں ہیں یا نہیں، اسی طرح ڈی ایم ایس اور ڈی ایم ڈی ایس کی موجودگی واقعی حیاتیاتی زندگی کی جانب اشارہ کرتی ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شرح خواندگی کم ہونے کی بنیادی وجہ انگریزی ہے، طلباء کی بڑی تعداد دل برداشتہ ہو کر تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہے، نصاب اردو زبان میں تبدیل کریں
سیارے کی خصوصیات
کے 2۔ 18 بی زمین کے مقابلے میں لگ بھگ 9 گنا بڑا ہے اور اپنے ستارے کے مدار میں اس جگہ موجود ہے جسے زندگی کے لیے موزوں تصور کیا جاتا ہے۔
وہ ستارہ ہمارے سورج کے مقابلے میں 50 فیصد سے بھی زیادہ چھوٹا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: 1 ہزار 400 کلو ایکسپائر فروزن گوشت تلف
ماضی کی تحقیقات
ہبل ٹیلی اسکوپ نے 2019 میں پانی کے بخارات کو اس کی آب و ہوا میں دیکھا تھا اور اس وقت سائنسدانوں نے قرار دیا تھا کہ یہ نظام شمسی سے باہر زندگی کے لیے اہم ترین سیارہ ثابت ہوسکتا ہے۔
بعد ازاں 2013 میں وہاں میتھین کی موجودگی بھی ثابت ہوئی تھی اور اب وہاں 2 کیمیکلز کی موجودگی ثابت ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی خاتون نے زلزلے میں جان بچانے والے فوجی اہلکار کو جیون ساتھی بنا لیا
حیات کی تلاش میں چیلنجز
نظام شمسی سے باہر موجود سیارے تصاویر لینے کے لیے بہت زیادہ دور ہیں اور وہاں روبوٹیک اسپیس کرافٹ کو بھیجنے کے لیے بھی بہت زیادہ وقت درکار ہے۔
مگر سائنسدانوں کی جانب سے سیاروں کے حجم، کثافت اور درجہ حرارت کے ساتھ ساتھ کیمیائی اشاروں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاتا ہے کہ وہ زندگی کے لیے موزوں ہیں یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آپ نے ڈونلڈ ٹرمپ کا پوڈل (کتے کی ایک نسل) بن کر کتنا لطف اٹھایا؟ممبرپارلیمنٹ زاراسلطانہ کا برطانوی وزیراعظم سے سوال
مستقبل کی امیدیں
محققین کے مطابق اب تک کا سگنل بہت مضبوط اور واضح ہے، اگر ہم وہاں حیاتیاتی سرگرمیوں کے دوران خارج ہونے والے مالیکیولز کو دریافت کر پاتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا جب ہم ایسا کرنے کے قابل ہوں گے، زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ ایسا ممکن نظر آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ ان کیمیکلز کی موجودگی کسی ایسے عمل کا نتیجہ ہو جس سے ہم واقف نہ ہوں، مگر ابھی تک کوئی ایسا عمل دریافت نہیں کرسکتے جو حیاتیاتی سرگرمیوں کے بغیر ان کیمیکلز کو تیار کرسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی
تیزی سے ہونے والی تحقیقات
چونکہ یہ سیارہ زمین سے 120 نوری برسوں کے فاصلے پر واقع ہے تو اس بحث کا اختتام ممکن نہیں کہ وہاں واقعی کسی قسم کی زندگی موجود ہے یا نہیں، مگر محققین کے مطابق سوال یہ نہیں کہ ہم وہاں کبھی پہنچ پائیں گے یا نہیں، ہم فطرت پر حیاتیاتی قوانین کا اطلاق کریں گے اور پھر اپنے جوابات حاصل کریں گے۔
تحقیقی نتائج کی اشاعت
اس تحقیق کے نتائج The Astrophysical Journal Letters میں شائع ہوئے۔








