زمین سے باہر کسی سیارے میں زندگی کی موجودگی کے اب تک کے ٹھوس ترین شواہد دریافت
سائنسدانوں کا بڑا دعویٰ
لندن (ویب ڈیسک) سائنسدانوں نے زمین سے باہر پہلی بار اب تک کسی قسم کی زندگی کے مضبوط ترین شواہد کو تلاش کرنے کے دعویٰ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تہجد کی نماز پڑھتا ہوں، میرے لیے وہی می ٹائم ہے، فیشن ڈیزائنر منیب نواز
جیمز ویب کے ذریعے دریافت
نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے سائنسدانوں نے زمین سے 124 نوری برسوں کے فاصلے میں واقع ایک بڑے سیارے میں یہ شواہد دریافت کیے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں یورپین فلم فیسٹیول کے چوتھے ایڈیشن کا آغاز ہوگیا
کے 2۔ 18 بی کی تحقیق
کے 2۔ 18 بی نامی اس سیارے کے مشاہدے کے دوران ایسے 2 مرکبات کے کیمیائی آثار کا انکشاف ہوا جو کہ زمین پر زندگی کے لیے اہم ترین تصور کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کینالز سے متعلق بلاول کا دعویٰ درست ثابت ہوا تو عارف علوی کو شوکاز دیا جائے گا: علی محمد خان
کیمیائی شواہد کی اہمیت
dimethyl sulfide (ڈی ایم ایس) اور dimethyl disulfide (ڈی ایم ڈی ایس) نامی کیمیکلز کو کسی خلائی زندگی کی حیاتیاتی سرگرمیوں کا ٹھوس ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا مگر اس سے اس سوال کا جواب مل سکے گا کہ ہم اس کائنات میں اکیلے ہیں یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہوریوں کا تعاون قابل تحسین، فیسٹیول کے اختتام پر پتنگ بازی پر پابندی برقرار رہے گی، مریم نواز
کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین کی شراکت
برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین نے اس تحقیق پر کام کیا اور انہوں نے بتایا کہ یہ ہمارے نظام شمسی سے باہر اب تک کسی قسم کی حیاتیاتی سرگرمیوں کے ٹھوس ترین شواہد ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے ایران اسرائیل کشیدگی کے حوالے سے شنگھائی تعاون تنظیم کے بیان سے لاتعلقی کا اعلان کردیا
محققین کی احتیاط
انہوں نے کہا کہ ہم بہت محتاط ہیں، ہم خود سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ سگنل حقیقی ہے اور اس کا مطلب کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میرے بلاوے سے زیادہ شاید اسے موت کا بلاوا تھا، وقت جب پورا ہو جائے تو نہ کسی کی آواز سنائی دیتی ہے نہ کسی کے کہنے پر کوئی رکتا ہے
سائنسی چیلنجز
دیگر سائنسدان اس حوالے سے زیادہ پراعتماد نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ کے 2۔ 18 بی کے حالات زندگی کے لیے موزوں ہیں یا نہیں، اسی طرح ڈی ایم ایس اور ڈی ایم ڈی ایس کی موجودگی واقعی حیاتیاتی زندگی کی جانب اشارہ کرتی ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 10 سال سے سندھ کو کچھ نہیں ملا، اس بار ازالے کی امید ہے: ناصر شاہ
سیارے کی خصوصیات
کے 2۔ 18 بی زمین کے مقابلے میں لگ بھگ 9 گنا بڑا ہے اور اپنے ستارے کے مدار میں اس جگہ موجود ہے جسے زندگی کے لیے موزوں تصور کیا جاتا ہے۔
وہ ستارہ ہمارے سورج کے مقابلے میں 50 فیصد سے بھی زیادہ چھوٹا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے پنجاب میں ضمنی انتخابات کا نیا شیڈول جاری کر دیا
ماضی کی تحقیقات
ہبل ٹیلی اسکوپ نے 2019 میں پانی کے بخارات کو اس کی آب و ہوا میں دیکھا تھا اور اس وقت سائنسدانوں نے قرار دیا تھا کہ یہ نظام شمسی سے باہر زندگی کے لیے اہم ترین سیارہ ثابت ہوسکتا ہے۔
بعد ازاں 2013 میں وہاں میتھین کی موجودگی بھی ثابت ہوئی تھی اور اب وہاں 2 کیمیکلز کی موجودگی ثابت ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمان کے قریب کشتی حادثے میں 19 پاکستانی لاپتہ، ایک شخص زندہ بچا
حیات کی تلاش میں چیلنجز
نظام شمسی سے باہر موجود سیارے تصاویر لینے کے لیے بہت زیادہ دور ہیں اور وہاں روبوٹیک اسپیس کرافٹ کو بھیجنے کے لیے بھی بہت زیادہ وقت درکار ہے۔
مگر سائنسدانوں کی جانب سے سیاروں کے حجم، کثافت اور درجہ حرارت کے ساتھ ساتھ کیمیائی اشاروں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاتا ہے کہ وہ زندگی کے لیے موزوں ہیں یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے افغان فورسز کی جارحیت ناکام بنا دی،پاک فوج کی موثر کارروائی
مستقبل کی امیدیں
محققین کے مطابق اب تک کا سگنل بہت مضبوط اور واضح ہے، اگر ہم وہاں حیاتیاتی سرگرمیوں کے دوران خارج ہونے والے مالیکیولز کو دریافت کر پاتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا جب ہم ایسا کرنے کے قابل ہوں گے، زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ ایسا ممکن نظر آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ ان کیمیکلز کی موجودگی کسی ایسے عمل کا نتیجہ ہو جس سے ہم واقف نہ ہوں، مگر ابھی تک کوئی ایسا عمل دریافت نہیں کرسکتے جو حیاتیاتی سرگرمیوں کے بغیر ان کیمیکلز کو تیار کرسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: قصور ڈانس پارٹی میں ڈسٹرکٹ پولیس افسر کا پرنسپل سیکریٹری ملوث نکلا
تیزی سے ہونے والی تحقیقات
چونکہ یہ سیارہ زمین سے 120 نوری برسوں کے فاصلے پر واقع ہے تو اس بحث کا اختتام ممکن نہیں کہ وہاں واقعی کسی قسم کی زندگی موجود ہے یا نہیں، مگر محققین کے مطابق سوال یہ نہیں کہ ہم وہاں کبھی پہنچ پائیں گے یا نہیں، ہم فطرت پر حیاتیاتی قوانین کا اطلاق کریں گے اور پھر اپنے جوابات حاصل کریں گے۔
تحقیقی نتائج کی اشاعت
اس تحقیق کے نتائج The Astrophysical Journal Letters میں شائع ہوئے۔








