زمین سے باہر کسی سیارے میں زندگی کی موجودگی کے اب تک کے ٹھوس ترین شواہد دریافت

سائنسدانوں کا بڑا دعویٰ

لندن (ویب ڈیسک) سائنسدانوں نے زمین سے باہر پہلی بار اب تک کسی قسم کی زندگی کے مضبوط ترین شواہد کو تلاش کرنے کے دعویٰ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ریاست ماں جیسی ہے، بچوں کی صحت، تعلیم، تحفظ اور ترقی پر کوئی سمجھوتہ نہیں: وزیر اعلیٰ پنجاب

جیمز ویب کے ذریعے دریافت

نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے سائنسدانوں نے زمین سے 124 نوری برسوں کے فاصلے میں واقع ایک بڑے سیارے میں یہ شواہد دریافت کیے۔

یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف نے ریسکیو 1122 منصوبے کو سیاست کی نذر نہیں ہونے دیا، وزیر صحت

کے 2۔ 18 بی کی تحقیق

کے 2۔ 18 بی نامی اس سیارے کے مشاہدے کے دوران ایسے 2 مرکبات کے کیمیائی آثار کا انکشاف ہوا جو کہ زمین پر زندگی کے لیے اہم ترین تصور کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سال 2026 میں 12 سال سے کم عمر بچوں کو حج پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی

کیمیائی شواہد کی اہمیت

dimethyl sulfide (ڈی ایم ایس) اور dimethyl disulfide (ڈی ایم ڈی ایس) نامی کیمیکلز کو کسی خلائی زندگی کی حیاتیاتی سرگرمیوں کا ٹھوس ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا مگر اس سے اس سوال کا جواب مل سکے گا کہ ہم اس کائنات میں اکیلے ہیں یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: صورتِ حال انتہائی خطرناک، بھارت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے: ممتاز زہرہ بلوچ

کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین کی شراکت

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین نے اس تحقیق پر کام کیا اور انہوں نے بتایا کہ یہ ہمارے نظام شمسی سے باہر اب تک کسی قسم کی حیاتیاتی سرگرمیوں کے ٹھوس ترین شواہد ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ریئلمی جی ٹی 7 پیرس میں لانچ ہوگیا، پاکستان میں کب آرہا ہے دیکھیے۔۔۔ ڈیلی پاکستان کی ایکسکلوسو کوریج

محققین کی احتیاط

انہوں نے کہا کہ ہم بہت محتاط ہیں، ہم خود سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ سگنل حقیقی ہے اور اس کا مطلب کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ریل کا سفر آرام دہ تھا اور رومانٹک بھی، ہم بھی بیوی والے ہو گئے تھے، وہ تھی بھی میرا چاند ہی، جیتا جاگتا، ہنستا مسکراتا، گاتا چاند، بھرے گھر سے آئی تھی۔

سائنسی چیلنجز

دیگر سائنسدان اس حوالے سے زیادہ پراعتماد نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ کے 2۔ 18 بی کے حالات زندگی کے لیے موزوں ہیں یا نہیں، اسی طرح ڈی ایم ایس اور ڈی ایم ڈی ایس کی موجودگی واقعی حیاتیاتی زندگی کی جانب اشارہ کرتی ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں نئی تعمیرات کیا چیز لازمی قرار دیدی گئی؟ شہریوں کو بڑی خبر

سیارے کی خصوصیات

کے 2۔ 18 بی زمین کے مقابلے میں لگ بھگ 9 گنا بڑا ہے اور اپنے ستارے کے مدار میں اس جگہ موجود ہے جسے زندگی کے لیے موزوں تصور کیا جاتا ہے۔

وہ ستارہ ہمارے سورج کے مقابلے میں 50 فیصد سے بھی زیادہ چھوٹا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بسنت سے متعلق ایونٹ کینسل کرنے کی خبریں ۔۔۔ وزیر اطلاعات کی وضاحت آگئی

ماضی کی تحقیقات

ہبل ٹیلی اسکوپ نے 2019 میں پانی کے بخارات کو اس کی آب و ہوا میں دیکھا تھا اور اس وقت سائنسدانوں نے قرار دیا تھا کہ یہ نظام شمسی سے باہر زندگی کے لیے اہم ترین سیارہ ثابت ہوسکتا ہے۔

بعد ازاں 2013 میں وہاں میتھین کی موجودگی بھی ثابت ہوئی تھی اور اب وہاں 2 کیمیکلز کی موجودگی ثابت ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب بھر کے پارکس اور باغات میں سگریٹ نوشی اور ویپنگ پر پابندی

حیات کی تلاش میں چیلنجز

نظام شمسی سے باہر موجود سیارے تصاویر لینے کے لیے بہت زیادہ دور ہیں اور وہاں روبوٹیک اسپیس کرافٹ کو بھیجنے کے لیے بھی بہت زیادہ وقت درکار ہے۔

مگر سائنسدانوں کی جانب سے سیاروں کے حجم، کثافت اور درجہ حرارت کے ساتھ ساتھ کیمیائی اشاروں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاتا ہے کہ وہ زندگی کے لیے موزوں ہیں یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف 12جون کو متحدہ عرب امارات کا سرکاری دورہ کریں گے

مستقبل کی امیدیں

محققین کے مطابق اب تک کا سگنل بہت مضبوط اور واضح ہے، اگر ہم وہاں حیاتیاتی سرگرمیوں کے دوران خارج ہونے والے مالیکیولز کو دریافت کر پاتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا جب ہم ایسا کرنے کے قابل ہوں گے، زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ ایسا ممکن نظر آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ ان کیمیکلز کی موجودگی کسی ایسے عمل کا نتیجہ ہو جس سے ہم واقف نہ ہوں، مگر ابھی تک کوئی ایسا عمل دریافت نہیں کرسکتے جو حیاتیاتی سرگرمیوں کے بغیر ان کیمیکلز کو تیار کرسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: زمین دار نے کھیت میں داخل ہونے پر بکریوں کے ساتھ کیا کیا؟ افسوسناک انکشاف

تیزی سے ہونے والی تحقیقات

چونکہ یہ سیارہ زمین سے 120 نوری برسوں کے فاصلے پر واقع ہے تو اس بحث کا اختتام ممکن نہیں کہ وہاں واقعی کسی قسم کی زندگی موجود ہے یا نہیں، مگر محققین کے مطابق سوال یہ نہیں کہ ہم وہاں کبھی پہنچ پائیں گے یا نہیں، ہم فطرت پر حیاتیاتی قوانین کا اطلاق کریں گے اور پھر اپنے جوابات حاصل کریں گے۔

تحقیقی نتائج کی اشاعت

اس تحقیق کے نتائج The Astrophysical Journal Letters میں شائع ہوئے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...