چینی صدر کا دورۂ کمبوڈیا مشترکہ مستقبل کے حامل دوطرفہ معاشرے کی تعمیر کو فروغ دے گا:ماہرین
چینی صدر شی جن پھنگ کا دورہ کمبوڈیا
نوم پنہ (شِنہوا) کمبوڈیا کے حکام اور ماہرین نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پھنگ کے دورے سے نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے حامل اعلیٰ معیار اور اعلیٰ سطح کے کمبوڈیا-چین معاشرے کی تعمیر میں جدید روح پھونکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: علیزے شاہ نے سوشل میڈیا کو پھر خیرباد کہہ دیا، اس بار وجہ کیا بنی؟
تجارتی تعلقات میں اضافہ
کمبوڈیا کی وزارت تجارت کے سیکریٹری خارجہ اور ترجمان پین سووچیت نے کہا کہ شی جن پھنگ کا دورہ تمام شعبوں بالخصوص معیشت اور تجارت، سرمایہ کاری، ثقافت، سیاحت اور عوامی تبادلوں میں دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو مزید فروغ دینے کے چین کے پختہ عزم کا اعادہ کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا تعاون جلد پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرے گا، شہباز شریف
باہمی سیاسی اعتماد کو فروغ
انہوں نے شِنہوا کو بتایا کہ اس دورے سے باہمی سیاسی اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا، تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے گا اور کمبوڈیا اور چین کے لئے مزید خوشحال اور قریبی دو طرفہ تعلقات کی تعمیر کے لئے ایک مضبوط بنیاد رکھی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی بحریہ نے گزشتہ شب بھارتی طیارہ کا سراغ لگایا اور نگرانی میں رکھا
کمبوڈیا چین دوستی کی اہمیت
کمبوڈیا چین دوستی ایسوسی ایشن کے صدر اک سام ال نے کہا کہ کمبوڈیا کی حکومت اور عوام چینی صدر کو ملک کے سرکاری دورے پر خوش آمدید کہتے ہوئے بہت خوش ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فرعونوں کے مقبرے ملنا عام بات لیکن اب مصر سے ہزاروں سال پرانے ایسے مقابر دریافت کہ دنیا حیران رہ گئی
تعاون کی نئی راہیں
انہوں نے شِنہوا کو بتایا کہ اس بار کے دورے سے کمبوڈیا اور چین کے تعلقات اور تعاون کو خاص طور پر معیشت، معاشرے، ثقافت، تعلیم اور کھیلوں کی ترقی میں مزید تقویت اور وسعت ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں: 27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق ابھی تک ایم کیو ایم کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، ہم تو ایک 27 ویں شب کو جانتے ہیں، فاروق ستار
تاریخی سنگ میل
نوم پنہ میں بیلٹی انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر جوزف میتھیوز نے کہا کہ شی جن پھنگ کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی تاریخ میں ایک نیا سنگ میل طے کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ظلم کے سائے میں زندگی ۔۔۔ عالمی ضمیر کے لیے ایک سوال
دوستی کو مزید مضبوط بنانا
انہوں نے شِنہوا کو بتایا کہ اس سے چین اور کمبوڈیا کے درمیان صدیوں سے موجود پائیدار دوستی کو مزید تقویت ملے گی۔ ان کے دورے سے قابل عمل حکمت عملی کی بنیاد قائم ہوگی جو دوطرفہ تعلقات کی سمت کو تشکیل دے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایک لمحہ جو ٹھہر گیا ۔۔۔
گہری دوستی کی توقعات
رائل یونیورسٹی آف نوم پنہ کے انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل سٹڈیز اینڈ پبلک پالیسی کے لیکچرر تھونگ مینگ ڈیوڈ نے کہا کہ شی جن پھنگ کے دورے سے دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی میں مزید اضافہ ہوگا۔
اقتصادی تعاون کی نئی جہتیں
انہوں نے شِنہوا کو بتایا کہ اس دورے سے سیاسی اعتماد میں اضافہ، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور کمبوڈیا کے ترقیاتی مقاصد کو چین کے مجوزہ عالمی اقدامات بشمول بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کے ساتھ مزید ہم آہنگ کرنے کی توقع ہے۔








