لاہور ہائیکورٹ نے تھانوں میں ملزمان کے انٹرویوز پر پابندی لگا دی
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے تھانوں میں ملزمان کے انٹرویوز پر پابندی لگا دی۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان میں بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر ڈارک ویب پر فروخت کرنے والے 2 ملزمان گرفتار
کیس کی سماعت
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق قصور میں مبینہ ڈانس پارٹی سے گرفتار ملزمان کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے خلاف کیس کی سماعت جسٹس علی ضیاء باجوہ نے کی۔ عدالتی حکم پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز اور ڈی آئی جی سکیورٹی عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی جانب سے ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
عدالتی ریمارکس
عدالت نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق انڈر کسٹڈی ملزمان کو میڈیا کے سامنے پیش نہیں کیا جا سکتا، آج کے بعد اگر کسی تھانیدار نے اس طرح کا انٹرویو میڈیا کو کرایا تو متعلقہ ایس پی ذمہ دار ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بھارت جنگ اور ہتھیاروں کا امتحان
ملزمان کی عزت کا خیال
عدالت نے مزید کہا کہ اگر کسی تھانے میں کسی کو گنجا کیا گیا، ایکسپوز کیا گیا یا ملزمان کی تذلیل کی گئی تو متعلقہ پولیس آفیسر کے پورٹ فولیو میں لکھا جائے گا کہ اس نے کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: باغیوں کا دمشق پر قبضہ سیاسی زلزلے سے کم نہیں:ملیحہ لودھی
انٹرویوز کا طریقہ کار
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے مزید کہا کہ لوگوں کی ٹنڈیں کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی، یہ قانون کے منافی ہے۔ پری میچور اس طرح کی ویڈیو جاری ہونے سے ملزم اور مدعی دونوں کا کیس خراب ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مارچ کی پیٹرولیم ضروریات مکمل طور پر محفوظ کرلی گئیں، وزیر خزانہ
مفاہمتی اجلاس
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ سینئر صحافی اور کورٹ رپورٹرز کے صدر محمد اشفاق کو عدالتی معاون مقرر کیا گیا تھا۔ جسٹس علی ضیاء باجوہ نے اشفاق سے سوال کیا کہ یہ ملزمان کے انٹرویو کیسے ہوتے ہیں؟ محمد اشفاق نے جواب دیا کہ یہ انٹرویوز پولیس ہی کرواتی ہے اور زیادہ تر یوٹیوب چینلز ایسے انٹرویوز کرتے ہیں جبکہ کچھ چینلز کے علاوہ مین سٹریم میڈیا ایسے انٹرویوز نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیں: محبت اور احترام کے ساتھ عالمی روابط، عالمی بزنس، ثقافتی اور ہارس ہیلنگ سمرٹ دسمبر 2025 میں دمام میں منعقد ہوگا
آئینی حقوق کی پاسداری
ایڈووکیٹ جنرل امجد پرویز نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ آئین کا آرٹیکل 14 شہریوں کے تحفظ کی بات کرتا ہے۔ جس پر جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دیے کہ شہریوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ اس درخواست کے دائر ہونے سے پہلے ہی مریم نواز نے قصور واقعہ کا نوٹس لے لیا تھا اور واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بھی بنائی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: عظمیٰ بخاری نے سینیٹر فیصل واوڈا کو سستا شاہ رخ خان قرار دے دیا
انکوائری رپورٹ
ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ نے تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ جسٹس علی ضیاء باجوہ نے سوال کیا کہ رپورٹ کے نتائج کیا ہیں؟ جس پر بتایا گیا کہ ایس ایچ او اور دو کانسٹیبل اس سارے معاملے میں قصوروار پائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: ڈی ایچ اے الاٹمنٹ لیٹر، وقت پر ڈلیوری، سرمایہ دبئی کی طرح اسکرور اکاؤنٹ میں محفوظ۔۔ ڈی ایچ اے نیو لائف ریزیڈنس میں اپارٹمنٹ حاصل کریں آسان قسطوں پر
پولیس کی گائیڈ لائنز
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ہدایت کی کہ وہ پولیس کی سوشل میڈیا پالیسی کو سپروائز کریں اور اس حوالے سے پولیس کو گائیڈ لائنز دیں۔ عدالت نے ایڈیشنل آئی جی کو بھی میڈیا کو انٹرویو دینے سے متعلق گائیڈ لائنز جاری کرنے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ ہفتے غزہ معاہدہ ہوسکتا ہے: ٹرمپ
پراسیکیوشن کے کیس کی خرابی
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دیے کہ کوئی خاتون کیمرہ اٹھا کر پولیس اسٹیشن چلی جاتی ہے، اس کے تھب نیل ایسے ہوتے ہیں کہ انسان فیملی کے ساتھ بیٹھ کر وہ کانٹینٹ نہیں دیکھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا رویہ اور انٹرویوز پراسیکیوشن کے کیس کو خراب کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قلات: دہشتگردوں کی سیکیورٹی فورسز کی پوسٹ پر حملے کی کوشش،6 دہشتگرد ہلاک،فائرنگ کے تبادلے میں7 جوان شہید
ویڈیو بنانے کا معاملہ
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ سب سے پہلے اس طرح کے انٹرویوز اور ویڈیوز کا نقصان پراسیکیوشن کو ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں کرکٹ کی تاریخ کا 253 سال پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا
قانون سازی کی ضرورت
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ نے کہا کہ ہم ایڈووکیٹ جنرل آفس، پراسیکیوٹر جنرل آفس اور پولیس مل کر قانون سازی کے لیے تیار ہیں۔
آخری سماعت
ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ نے عدالت کو بتایا کہ پی ایس او اور دو اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے ڈی آئی جی آپریشنز کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر اپنی سوشل میڈیا پالیسی عدالت میں جمع کروائیں۔ مزید سماعت 25 اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔








