آسٹریلوی خاتون اہلکار نے جیل کی نوکری چھوڑ کر شرمناک کام شروع کردیا
ایلیشا ڈیوس کی کہانی
کینبرا (ڈیلی پاکستان آن لائن) آسٹریلیا کے شہر گولڈ کوسٹ سے تعلق رکھنے والی 32 سالہ سابق جیل اہلکار ایلیشا ڈیوس نے قیدیوں کی مسلسل توجہ، سخت ضوابط اور ذاتی اظہار پر پابندیوں سے تنگ آ کر اپنی ملازمت چھوڑ دی اور ایک آزادانہ اور منافع بخش زندگی کے لیے بالغوں کی ویب سائٹ اونلی فینز کا رخ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: 1 مئی سے متعلق پنجاب فارنزک لیب کی رپورٹ غیر قانونی ہے: سلمان اکرم
جیل میں کام کا تجربہ
ایلیشا نے ڈیلی میل آسٹریلیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جیل میں کام کرنا صرف جسمانی طور پر نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی تھکا دینے والا تجربہ تھا۔ روزانہ قیدی ان کی خوبصورتی پر تبصرے کرتے، باتیں بنانے کی کوشش کرتے اور کبھی کبھار تحفے دینے کی کوشش بھی کرتے تھے، جنہیں وہ مسلسل مسترد کرتی رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی جنگی طیاروں کے پاس یقیناًاضافی فیول ٹینک ہوں گے، اور یہ ایران کیلئے انتہائی پریشانی کی بات ہے کہ۔۔۔ چینی تجزیہ کار نے ایران کی سب سے بڑی کمزوری کی نشاندہی کر دی
پیشہ ورانہ پابندیاں
انہوں نے بتایا کہ جیل کی ملازمت کے دوران میک اپ، جیولری اور لباس میں ذاتی انداز پر مکمل پابندی تھی، جس سے وہ خود کو دبا ہوا محسوس کرتی تھیں۔ بعض قیدی رہائی کے بعد ان کا انسٹاگرام تلاش کر کے دوبارہ رابطے کی کوشش کرتے، قیدیوں کی بیویاں اور گرل فرینڈز ملاقاتوں کے دوران ان کو تیز نظروں سے گھورتی تھیں، بعض نے تو بدتمیزی کی حد تک رویہ بھی اختیار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کالاباغ ڈیم بھاڑ میں جائے، ہمیں چھوٹے ڈیم بنانے چاہئیں
نوکری چھوڑنے کا فیصلہ
ایلیشا نے اعتراف کیا کہ اس نوکری میں صرف قیدیوں کی نگرانی نہیں بلکہ ان کا اعتماد جیتنا اور ان سے گفتگو بھی شامل تھی، مگر ذاتی اظہار کی مسلسل پابندی اور ماحول کی کشیدگی نے انہیں بری طرح تھکا دیا۔ بالآخر فروری 2022 میں انہوں نے نوکری چھوڑ دی اور اپنی آن لائن فالوئنگ کو استعمال کرتے ہوئے اونلی فینز پر اپنا نیا کیریئر شروع کیا۔
نیا آغاز
پہلے وہ سالانہ تقریباً 46 ہزار پاؤنڈ کماتی تھیں جبکہ اب ان کی آمدنی دو لاکھ 80 ہزار پاؤنڈ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ایلیشا کا کہنا ہے کہ اب وہ بغیر کسی پابندی کے اپنی زندگی گزار رہی ہیں، جیسا دل چاہے پہن سکتی ہیں، بول سکتی ہیں، اور اپنی مرضی کی زندگی جینے میں خود کو آزاد محسوس کرتی ہیں۔








