پیپلز پارٹی، ن لیگ، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں سے اختلاف ہے دشمنی نہیں: فضل الرحمان
جمعیت علماءاسلام کے سربراہ کی گفتگو
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) جمعیت علماءاسلام (جے یو آئی۔ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ تعلقات کو اس مقام پر لے جانے کی کوشش کریں گے جہاں بات چیت ممکن ہو۔ انہوں نے انتہاپسند سیاست کی مخالفت کی اور پیپلز پارٹی، ن لیگ، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں سے اختلاف کی وضاحت کی کہ یہ دشمنی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال، چھ دن بعد پہلی پرواز کی پاکستان آمد
مولانا فضل الرحمان کی جماعت اسلامی کے امیر سے ملاقات
روز نامہ جنگ کے مطابق، مولانا فضل الرحمان نے منصورہ لاہور میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں نے پروفیسر خورشید احمد کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور سمیت پنجاب بھر میں ابرکرم برسنے کا امکان
انتہائی اہم مسائل پر مشترکہ پریس کانفرنس
مشترکہ پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمان نے وضاحت کی کہ وہ انتہا پسندانہ سیاست کے قائل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پی ٹی آئی کے ساتھ تعلقات کو مذاکراتی سطح تک لے جانا ہوگا، جبکہ پیپلز پارٹی، ن لیگ اور جماعت اسلامی کے ساتھ اختلافات موجود ہیں لیکن دشمنی نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میرے شکل و صورت کی وجہ سے بہت سے لوگ کہتے تھے کہ میں ہیرو جیسا نظر نہیں آتا، سنیل شیٹی
امت مسلمہ کے مسائل اور فلسطین کی صورتحال
انہوں نے اتحاد امت کے نام سے ایک پلیٹ فارم تشکیل دینے کا اعلان کیا اور حکمرانوں سے سوال کیا کہ وہ غزہ کے لئے اپنا فرض کیوں نہیں ادا کر رہے۔ اس پر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ فلسطین کے بارے میں دونوں جماعتیں ایک ہی موقف رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب پولیس نے عمران خان پر درج مقدمات سے متعلق رپورٹ جمع کرادی
مینار پاکستان میں بڑا جلسہ
مولانا فضل الرحمان نے 27 اپریل کو مینار پاکستان میں ایک بڑا جلسہ اور مظاہرہ کرنے کی خبر بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ اس جلسے میں مذہبی جماعتیں شرکت کریں گی اور پوری ملک میں فلسطین کے لیے بیداری مہم چلائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: 3 خواجہ سراؤں کی گولیاں لگی لاشیں برآمد، وزیر اعلیٰ نے قاتلوں کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیدیا
صوبائی خود مختاری اور پانی کی تقسیم
فضل الرحمان نے جے یو آئی کے منشور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے تحفظ کے سلسلے میں ان کا موقف واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکمرانوں کی ناکامی ہے کہ وہ مسئلے کا حل نہیں نکال سکے، اور پانی کی تقسیم آئین کے مطابق ہونی چاہئے۔
آئینی ترمیم اور انتخابی دھاندلی
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود کے اندر کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم پر جماعت اسلامی کا اپنا موقف پیش کیا اور کہا کہ انتخابی دھاندلی پر دونوں جماعتوں کا موقف زیادہ مختلف نہیں ہے۔








