نہروں کا معاملہ: کے پی حکومت چشمہ رائٹ کینال منصوبے کیلئے متحرک ہوگئی
چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے کی اہمیت
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن ) سندھ اسمبلی میں دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے خلاف قرارداد کی منظوری کے معاملے پر خیبرپختونخوا حکومت چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے سے متعلق متحرک ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: شاہین شاہ آفریدی کو انجری کے باعث مشکلات، بگ بیش لیگ سے باہر ہونے کا خدشہ
محکمہ آبپاشی کی سفارشات
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق محکمہ آبپاشی کے پی نے سفارشات منظوری کے لئے وزیراعلیٰ کے پی کو بھیج دی ہیں جن میں وزیراعلیٰ سے صوبائی اسمبلی سے قرارداد پاس کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک تحفظ آئین پاکستان کا 27ویں ترمیم کے خلاف 21 نومبر کو ملک بھر میں یوم سیاہ منانے کا اعلان
سندھ اسمبلی کی قرارداد کا اثر
سفارشات میں کہا گیا ہے کہ سندھ اسمبلی کی قرارداد سے چشمہ رائٹ بینک کینال کا منصوبہ حذف کرنے کا مطالبہ کیا جائے، سندھ اسمبلی سے پاس ہونے والی قرارداد کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھایا جائے، حکومت اگر کوئی اور کارروائی کرنا چاہتی ہے تو احکامات جاری کرے۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے بھی امریکی مصنوعات پر 125 فیصد محصولات عائد کردیے
منصوبے کی خصوصیات
اس حوالے سے دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے میں خیبرپختونخوا کا پانی استعمال ہوگا۔ وفاقی حکومت نے 30 سال بعد چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے کی منظوری دی۔ منصوبے کے فنڈز پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام سے ادا کئے جانے تھے تاہم وفاق نے ایسا نہیں کیا۔ منصوبے کی اہمیت کے پیش نظر حکومت لاگت کا 35 فیصد صوبائی خزانے سے دینے پر آمادہ ہوئی۔
معلومات و حقائق
اس حوالے سے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مشیراطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹرمحمد علی سیف نے کہا کہ چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبہ کے پی کا حق ہے اور منصوبے کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے سے کے پی کی لاکھوں ایکڑ بنجر زمین قابل کاشت ہو جائے گی۔ دیگر تین صوبوں نے 1991 کے معاہدے کے تحت نہریں بنالی ہیں، سی آر بی سی پر وفاقی حکومت کی وجہ سے ابھی تک کام شروع نہیں ہو سکا۔








