کینال منصوبہ اگر ہمارے ہاتھ سے نکل گیا تو پھر احتجاج کیلئے نکلیں گے: وزیراعلیٰ سندھ
مراد علی شاہ کا کینال منصوبے پر موقف
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کینال منصوبہ اگر ہمارے ہاتھ سے نکل گیا تو پھر احتجاج کیلئے نکلیں گے، وزیراعظم کو نتائج کا معلوم ہے، وہ انصاف سے کام لیں۔
یہ بھی پڑھیں: تمباکو وبا سنگین ہو گئی، ہر سال ایک لاکھ 64ہزار پاکستانیوں کی موت کی وجہ اور سالانہ 700 ارب روپے معاشی نقصان کا انکشاف
کینال منصوبے کی روک تھام
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق کراچی میں کارڈینل ہاؤس جاکر کارڈینل کے ساتھ پوپ جان فرانسس کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام کے مفاد کیخلاف کوئی منصوبہ منظور نہیں کیا جائے گا اور وہ کینال منصوبے کو روکنے کیلئے پرعزم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت پورے صوبے میں صفائی ستھرائی جاری ہے، میاں غلام محی الدین
سندھ حکومت کے اقدامات
انہوں نے کہا کہ منصوبہ کسی نے بھی بنایا ہو، لیکن سندھ حکومت نے اسے منظور نہیں ہونے دیا، جولائی کے بعد چولستان کینالز پر کوئی کام نہیں ہوا، سندھ حکومت نے اہم اقدامات کئے، پیپلز پارٹی نے ہر سطح پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ، کسی ایک ملک پر جارحیت دونوں ملکوں پر جارحیت تصور ہو گی
اجتماعی مقصد اور احتجاج
ان کا کہنا تھا کہ کسی کی نیت پر شک نہیں کر رہے لیکن کسی کے ہاتھوں میں بھی نہیں کھیل رہے، یہ اجتماعی مقصد ہے اور ہمیں کینال منصوبے کو روکنا ہے کیونکہ یہ ملک کی بہتری کیلئے ضروری ہے، اگر یہ معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا تو ہم احتجاج کیلئے نکلیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں مہنگائی کی شرح ابھی بھی ساڑھے سات فیصد، حکومت جو کچھ دے رہی ہے قرضے لےکر دے رہی ہے، وزیر خزانہ
وکلا کا احترام
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وکلا کا بہت احترام ہے، ان کا جمہوریت کی بحالی کیلئے اہم کردار رہا ہے، سندھ کے تمام سٹیک ہولڈرز سے کہتا ہوں کہ نہروں کے معاملے پر احتجاج ضرور کریں، لیکن سڑکیں بند نہ کی جائیں، تاکہ ہمارے اپنے ہی لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: جھل مگسی جیپ ریلی کا آخری روز، شائقین کی بڑی تعداد امڈ آئی
وفاقی حکومت کی ناکامی
انہوں نے سوال کیا کہ وفاقی حکومت اب تک اس منصوبے کو ختم کیوں نہیں کر رہی؟ وزیر خزانہ نے 19 اپریل کو خط بھیجا کہ سندھ اپنا این ایف سی نمائندہ تجویز کرے، ہم اس پر کام کر رہے ہیں، 14 ماہ بعد وفاقی حکومت نے قومی مالیاتی کمیشن کے نمائندے مانگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بیوی نے مبینہ آشنا کے ساتھ ملکر ضعیف العمر شوہر کو قتل کرکے گھر میں دفنا دیا، خاتون کا اعتراف جرم
کسانوں کی حالت پر تشویش
مراد علی شاہ نے کسانوں کی حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے فارمرز بھی اگلے سال گندم نہ اگانے کا سوچ رہے ہیں، چین میں گندم کی فی ایکڑ پیداوار 60 سے 65 من ہے، ہمیں بھی ٹیکنالوجی اپنانا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: فیس بک، انسٹا گرام اور واٹس ایپ ڈاؤن، صارفین کو مشکلات
کپاس کی پیداوار اور نہروں کا مستقبل
انہوں نے مزید کہا کہ ہم کپاس کی پیداوار بڑھا نہیں سکے اور اب ریگستان کو آباد کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، بھارت کے اندرا کینال کے نتائج چیٹ جی پی ٹی سے چیک کر لیں، نئی نہروں کیلئے اضافی پانی موجود ہی نہیں، ان شا اللہ ہم یہ منصوبہ واپس بھی لیں گے۔
وزیر اعظم سے امیدیں
انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم سندھ کے تحفظات کا احترام کریں گے، انہوں نے یاد دلایا کہ انگریز دور میں بھی زیریں علاقوں کے مفاد میں بالائی علاقوں کے کینال منصوبے مسترد کئے گئے تھے، مجھے پوری امید ہے کہ وزیراعظم انصاف پر مبنی فیصلہ کریں گے۔








