عوام کو اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کی ضرورت ہے ، عمران خان
عمران خان کا پیغام
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کی ضرورت ملک اور عوام کو ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواجہ سرا کمیونٹی نے دوسرے ‘ہجڑا فیسٹیول’ کا اعلان کردیا
ملاقات کی تفصیلات
یہ بات ایڈووکیٹ فیصل چوہدری نے بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔
یہ بھی پڑھیں: لیگی وزراءبیان بازی کر رہے ہیں، نواز اور شہباز اپنے لوگوں کو سمجھائیں: شرجیل میمن
سماجی اور قانونی امور
انہوں نے بتایا کہ ملاقات کے دوران عمران خان کا کہنا تھا 26ویں ترمیم کے بعد جو ہو رہا ہے اس پر لیگل کمیٹی، پارٹی قیادت چیف جسٹس کو خط لکھے گی، عدالت میں ہمارے کیسز نہیں لگ رہے، بشری بی بی کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کی ضرورت ملک اور عوام کو ہے، پی ٹی آئی فیڈریشن کی جماعت جو پاکستان کو اکھٹا کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جعلی ورک ویزا پر اسلام آباد سے پرتگال جانے کی کوشش ناکام، مسافر گرفتار
مائنز اینڈ منرلز پر رائے
مائنز اینڈ منرلز پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ وزیر اعلی کے پی اور سینئر لیڈر شپ آکر مجھے بریف کرے، بانی نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز بل متنازع ہو چکا ہے، لہذا ضروری ہے کہ لوگوں کو اعتماد میں لیں، متنازع معاملات گڑبڑ ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عالیہ بھٹ کے ساتھ 77 لاکھ روپے کا فراڈ؛ سابق اسسٹنٹ گرفتار
افغانستان سے متعلق خیالات
افغانستان سے متعلق بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ انہوں نے تین سال لگا دیئے، ہم نے پہلے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے افغانستان سے بات چیت کرکے انہیں اس میں شامل کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے بھارت کو شکست دے کر انڈر 19 ایشیا کپ کا ٹائٹل جیت لیا
حکومت کی ناکامیوں پر اظہار خیال
عمران خان نے کہا کہ حکومت نے وقت کا ضیاع کیا جس سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، فوج کے جوان شہید ہوئے، ان چیزوں کو مدنظر نہیں رکھا گیا، اس وقت بھی فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ نہیں آ رہی۔
چیلنجز اور سرمایہ کاری
عمران خان نے کہا کہ زرمبادلہ کے بغیر ملک میں ترقی نہیں ہو سکتی، انوسٹمنٹ تبھی آئے گی جب ملک میں قانون کی حکمرانی ہو گی۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو کرش کرنے کے لیے ملک کو بنانا ریپبلک بنا دیا گیا، چاہے عدلیہ ہو، ایف آئی اے یا پولیس ہر ادارے کو تباہ کر دیا گیا۔








