فیض آباد احتجاج کیس: پی ٹی آئی رہنماؤں فردِ جرم عائد
اسلام آباد میں اہم مقدمات کی سماعت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور دیگر رہنماؤں کے خلاف فیض آباد احتجاج اور آزادی مارچ سے جڑے مقدمات میں اسلام آباد کی عدالتوں میں آج اہم پیش رفت سامنے آئی۔ انسداد دہشت گردی عدالت اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں دو الگ الگ سماعتوں کے دوران فریقین کے دلائل، عدالت کے ریمارکس اور آئندہ لائحہ عمل سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھیں: جو کرنا ہے کر دیں: جج کے سوال پر ملزم ارمغان کا جواب
انسداد دہشت گردی عدالت کی کارروائی
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں فیض آباد احتجاج کیس کی سماعت جج طاہر عباس سپرا نے کی، جہاں عدالت نے فیصل جاوید، عامر کیانی، واثق قیوم اور دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی۔ تاہم تمام ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: الخدمت آغوش کالج مری سے فارغ التحصیل طلبہ کے اعزاز میں تقریب، تعلیمی و اعزازی اسناد اور میڈلز سے نوازا گیا۔
وکلا کی درخواست اور عدالت کے ریمارکس
پی ٹی آئی کے وکلا نے فردِ جرم عائد کرنے کو موخر کرنے کی استدعا کی، جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ ’ہر جگہ کہا جاتا ہے مقدمات درج تو ہو جاتے ہیں لیکن ٹرائل نہیں ہوتا۔ اگر آپ یہی چاہتے ہیں تو صاف کہہ دیں کہ ٹرائل نہ ہو۔‘
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: مسلح افراد نے ملتان کے شہریوں سے ساڑھے 7 کلو سونا لوٹ لیا
عدالت کی ہدایات
وکلا نے موقف اپنایا کہ یہ عام کیس نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے مقدمات ہیں، جس پر عدالت نے واضح کیا کہ ملزمان کی بریت کی درخواستیں بھی مسترد کی جا چکی ہیں۔
عدالت نے پی ٹی آئی رہنما راجہ راشد حفیظ کو 1 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا اور ساتھ ہی سخت الفاظ میں کہا، ’جب تک مچلکہ جمع نہیں کرائیں گے، کورٹ روم سے باہر نہیں جائیں گے۔’
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں گرین بس سروس بدستور معطل
کیس کی آئندہ سماعت
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 12 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے استغاثہ کے گواہان کو طلب کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں ممتا پروگرام کی رقم 30 ہزار روپے سے بڑھا کر 41 ہزار روپے کر دی گئی
آزادی مارچ کے مقدمات کی سماعت
دوسری جانب، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں آزادی مارچ کے دو مقدمات کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے کی۔ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سردار مصروف خان ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کا ایف آئی آر میں کردار صرف رول 109 کے تحت ہے، اور وہ پہلے ہی دو مقدمات میں بری ہو چکے ہیں۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ موجودہ بریت کی درخواست پچھلے ڈیڑھ سال سے زیر التوا ہے۔
دیر پر عدالت کا ردعمل
جوڈیشل مجسٹریٹ نے اس تاخیری کارروائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’ہم کوشش کریں گے کہ آئندہ سماعت میں اس مقدمے کو نمٹا دیا جائے۔’
عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 26 مئی تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف آزادی مارچ کے دو مقدمات تھانہ کوہسار جبکہ فیض آباد احتجاج سے متعلق مقدمہ تھانہ آئی-9 میں درج ہے۔








