فیض آباد احتجاج کیس: پی ٹی آئی رہنماؤں فردِ جرم عائد
اسلام آباد میں اہم مقدمات کی سماعت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور دیگر رہنماؤں کے خلاف فیض آباد احتجاج اور آزادی مارچ سے جڑے مقدمات میں اسلام آباد کی عدالتوں میں آج اہم پیش رفت سامنے آئی۔ انسداد دہشت گردی عدالت اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں دو الگ الگ سماعتوں کے دوران فریقین کے دلائل، عدالت کے ریمارکس اور آئندہ لائحہ عمل سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں سی ٹی ڈی کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ، دو دہشت گرد ہلاک
انسداد دہشت گردی عدالت کی کارروائی
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں فیض آباد احتجاج کیس کی سماعت جج طاہر عباس سپرا نے کی، جہاں عدالت نے فیصل جاوید، عامر کیانی، واثق قیوم اور دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی۔ تاہم تمام ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے وزیراعلیٰ کا رمضان میں بڑا ریلیف، 24 گھنٹے کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دے دی
وکلا کی درخواست اور عدالت کے ریمارکس
پی ٹی آئی کے وکلا نے فردِ جرم عائد کرنے کو موخر کرنے کی استدعا کی، جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ ’ہر جگہ کہا جاتا ہے مقدمات درج تو ہو جاتے ہیں لیکن ٹرائل نہیں ہوتا۔ اگر آپ یہی چاہتے ہیں تو صاف کہہ دیں کہ ٹرائل نہ ہو۔‘
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی کے پرتشدد واقعات سے متعلق دو اہم مقدمات راحت بیکری کے باہر جلاؤ گھیراؤ اور تھانہ شادمان جلاؤ گھیراؤ کے جیل ٹرائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا
عدالت کی ہدایات
وکلا نے موقف اپنایا کہ یہ عام کیس نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے مقدمات ہیں، جس پر عدالت نے واضح کیا کہ ملزمان کی بریت کی درخواستیں بھی مسترد کی جا چکی ہیں۔
عدالت نے پی ٹی آئی رہنما راجہ راشد حفیظ کو 1 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا اور ساتھ ہی سخت الفاظ میں کہا، ’جب تک مچلکہ جمع نہیں کرائیں گے، کورٹ روم سے باہر نہیں جائیں گے۔’
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کے سی 130 فوجی کارگو طیارے کو حادثہ
کیس کی آئندہ سماعت
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 12 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے استغاثہ کے گواہان کو طلب کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی اتحادی سعودی عرب، اسرائیل کی بجائے تہران کے نزدیک کیوں جا رہے ہیں؟
آزادی مارچ کے مقدمات کی سماعت
دوسری جانب، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں آزادی مارچ کے دو مقدمات کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے کی۔ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سردار مصروف خان ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کا ایف آئی آر میں کردار صرف رول 109 کے تحت ہے، اور وہ پہلے ہی دو مقدمات میں بری ہو چکے ہیں۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ موجودہ بریت کی درخواست پچھلے ڈیڑھ سال سے زیر التوا ہے۔
دیر پر عدالت کا ردعمل
جوڈیشل مجسٹریٹ نے اس تاخیری کارروائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’ہم کوشش کریں گے کہ آئندہ سماعت میں اس مقدمے کو نمٹا دیا جائے۔’
عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 26 مئی تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف آزادی مارچ کے دو مقدمات تھانہ کوہسار جبکہ فیض آباد احتجاج سے متعلق مقدمہ تھانہ آئی-9 میں درج ہے۔








