وزیراعظم کی ترک صدر سے ملاقات: مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری کے ذریعے اقتصادی تعاون بڑھانے پر زور
وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ ترکیہ
انقرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب کا خطرہ، رحیم یارخان میں 12 فلڈ ریلیف کیمپ قائم، 7ہزار آبادی کا انخلاء
استقبال اور ملاقات
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف منگل کو 2 روزہ دورے پر ترکیہ پہنچے جہاں انقرہ میں ترک وزیردفاع نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ بعد ازاں، وزیر اعظم نے ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی، جس کے بعد دونوں رہنماو¿ں نے مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کا تیسرا رابطہ، کیا بات چیت ہوئی؟ تفصیل سامنے آ گئی
دوطرفہ اقتصادی تعاون
اعلامیے کے مطابق انقرہ میں ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان اور ترکیے کے درمیان برادرانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے مشترکہ منصوبوں اور دو طرفہ سرمایہ کاری کے ذریعے اقتصادی تعاون بڑھانے پر زور دیا اور توانائی، کان کنی، دفاع، زراعت کے شعبوں میں تعاون کے مواقع کو اجاگر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سکردو میں اقوام متحدہ کے دفتر کو آگ لگا دی گئی
سائبر سکیورٹی اور تکنیکی تعاون
اعلامیے کے مطابق، ترک صدر سے ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف نے مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی ٹیکنالوجی سے متعلق تعاون کے مواقع کو اجاگر کیا جبکہ دونوں رہنماو¿ں نے اعلیٰ سطح کی سٹریٹجک کوآپریشن کونسل کے فیصلوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: فلک شبیر کا ’’تحفہ‘‘ دیکھ کر سارہ خان روپڑیں
علاقائی اور عالمی امور پر بات چیت
ملاقات میں دونوں رہنماو¿ں نے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اعلامیے کے مطابق، انہوں نے غزہ میں انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور فوری جنگ بندی اور متاثرہ آبادی کو انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیا۔ ترک صدر اردوان نے فلسطین کے لئے پاکستان کی مسلسل حمایت اور انسانی امداد کی تعریف کی۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز نے خطے کی سب سے بڑی کلائمیٹ آبزرویٹری بنانے کی منظوری دے دی
عشائیہ اور مشترکہ پریس کانفرنس
اس موقع پر ترک صدر نے وزیراعظم اور ان کے وفد کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔ انقرہ میں ملاقات کے بعد، دونوں رہنماو¿ں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ ترک صدر نے وزیر اعظم شہباز شریف کو ترکیہ آمد پر خوش آمدید کہا اور باہمی رابطوں کو مضبوط دوستی کی علامت قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر دفاع خواجہ آصف نے پی آئی اے کے حوالے سے بے بنیاد پراپیگنڈا کی تردید کی، گمراہ کن قرار دے دیا
دفاعی تعاون اور دیگر معاملات
ترک صدر نے کہا کہ دونوں ملک دفاعی شعبے میں مشترکہ منصوبے شروع کرنا چاہتے ہیں اور آزاد خود مختار فلسطینی ریاست کی حمایت کرتے ہیں۔ اسی طرح وزیراعظم شہباز شریف نے شاندار استقبال پر ترک صدر کا شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان معدنیات، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم کا معاملہ ،سینیٹ کے اجلاس کا وقت تبدیل کر دیا گیا
کشمیر اور قبرص کے مسائل
وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر پر ترکیے کی غیرمتزلزل حمایت پر بھی شکر گزار ہوتے ہوئے شمالی قبرص کے معاملے پر ترکی کے مو¿قف کی حمایت کی۔
شکریہ اور یکجہتی
وزیر اعظم نے ترک صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 2010 کے سیلاب میں آپ نے پاکستان کا دورہ کر کے متاثرین سے یکجہتی کا مظاہرہ کیا، اور 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد بھی ایک بار پھر پاکستان کا دورہ کیا۔








