متنازعہ چینلز کا معاملہ، وزیراعلیٰ سندھ اسلام آباد پہنچ گئے، وزیراعظم سے ملاقات متوقع
وزیراعلیٰ سندھ کی اسلام آباد آمد
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ پنجاب میں بننے والی متنازع 6 کینالوں کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف سے بات چیت کے لیے اسلام آباد پہنچ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی اور اسلام آباد میں ایک بار پھر بارش اور ژالہ باری
وفد کی تشکیل
نجی ٹی وی جیو نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو اور ماہرین کی ٹیم بھی وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ اسلام آباد پہنچی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے ہمارا کوئی تعلق نہیں: شیخ وقاص اکرم
ملاقات کا شیڈول
ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف ترکیے سے وطن پہنچ کر سندھ حکومت کے وفد سے ملاقات کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: این اے 18: مخصوص عناصر ضمنی انتخابات کو متنازع بنا رہے ہیں، الیکشن کمیشن
احتجاجی دھرنوں پر بات چیت
ذرائع کے مطابق ملاقات میں سندھ میں متنازع کینالوں کے معاملے پر جاری احتجاجی دھرنوں پر گفتگو ہو گی۔ وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر آبپاشی جام خان شورو متنازع کینالوں پر گفتگو کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں غیرت کے نام پر قتل: مرد اور خاتون کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی
وفاق کا مؤقف
ذرائع کے مطابق وفاق چاہتا ہے کہ متنازع کینالوں پر جاری احتجاجی دھرنے فوری ختم کرائے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی اجلاس: بھارتی دھمکیوں، سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر
سیاسی جماعتوں کا احتجاج
خیال رہے کہ پنجاب میں کینالوں کے تنازع پر سندھ میں پیپلز پارٹی اور جے یو آئی سمیت قوم پرست جماعتیں گزشتہ کئی روز سے سراپا احتجاج ہیں۔ ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں کینالیں بننے سے سندھ کا پانی کم ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 26ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ کی تشکیل کا معاملہ، مصطفیٰ نواز کھوکھر کی سپریم کورٹ میں درخواست دائر
وفاقی حکومت کا مؤقف
وفاق اور پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ کینالوں کے معاملے کو متنازع بنایا جا رہا ہے۔ ارسا ایکٹ موجود ہے اور اس کی موجودگی میں کوئی بھی صوبہ کسی دوسرے صوبے کا پانی نہیں لے سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان ڈیڑھ سال کیلئے وزیراعظم بن سکتے ہیں‘ تہلکہ خیز دعویٰ
پیپلز پارٹی کی وارننگ
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ وفاقی حکومت کو خبردار کر چکے ہیں کہ اگر متنازع کینالوں کا منصوبہ واپس نہ لیا گیا تو وفاقی حکومت سے علیحدہ ہونے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچے گا۔
مسلم لیگ ن کی ذمہ داری
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف نے رانا ثناءاللہ کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ سندھ سے کینالوں کے معاملے پر بات چیت کی جائے اور پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کئے جائیں۔








