پاکستان کسان اتحاد کا آئندہ سال گندم کی کاشت میں بہت بڑی کمی لانے کا اعلان
چیئرمین پاکستان کسان اتحاد کا احتجاج
لاہور (آئی این پی) پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین کھوکھر نے آئندہ سال گندم کی کاشت میں بڑی کمی کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گندم کا کاشتکار ڈپریشن کا شکار ہے، جبکہ وزیر اعلی پنجاب اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز نے پاکستان کے پہلے سرکاری آٹزم سکول کا افتتاح کیا، ماہرین کی ہنگامی بھرتی کا حکم
کسانوں کی مشکلات
لاہور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران خالد حسین کھوکھر نے سوال اٹھایا: "کسان اگلی فصل کہاں سے کاشت کریں گے؟" انہوں نے مزید کہا کہ "کیا ہم گندم جلا دیں؟" گندم کا مسئلہ ملکی حیثیت رکھتا ہے، اور خوراک کا مسئلہ سب سے اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اقبال سنگھیڑا کو ایک معروف یوٹیوبر کے ساتھ والی بیرک میں رکھا گیا تھا، اجمل جامی کا دعویٰ
گندم کی قیمت کا مطالبہ
خالد کھوکھر کا کہنا تھا کہ کسان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ گندم کی کاشت کی لاگت کے مطابق قیمت کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے 3900 روپے فی من کی قیمت مقرر کرنے کا مطالبہ کیا، کہا کہ 3400 روپے تو ہماری لاگت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پاسپورٹ بندش کے معاملے پر عدالت جائیں گے، شیخ وقاص اکرم
حکومت کی عدم دلچسپی
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اراکین اسمبلی کی تنخواہیں تو بڑھائی جا سکتی ہیں، لیکن کاشتکار کے لیے فصل کی قیمت نہیں بڑھائی جا سکتی۔ یہ صورتحال اس وقت ہے جب کسان اگلی فصلیں لگانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صوبائی دارالحکومت لاہور بدحالی کا شکار
گندم کی درآمد اور نقصان
خالد کھوکھر نے کہا کہ گندم کی درآمد کرکے اربوں ڈالرز کمائے گئے، لیکن کسی کو سزا نہیں ملی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز حقیقی کسانوں سے ملاقات نہیں کر رہیں، جبکہ کسان کی حالت زار بہت خراب ہے۔
آنے والا بحران
انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ آئندہ سال گندم کی پیداوار میں بڑی کمی آ سکتی ہے، جس کے سبب عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔








